ہاروکوموراکامی کا پیرس ریویوکو دیا گیا انٹرویو
ترجمہ: عطاالرحمٰن خاکی
اشاعت: کراچی ریویو ۳ (سنہ ۲۰۱۹)
کتاب کا لنک: کراچی ریویو
انٹرویو کار :میں نےآپ کی کہانیوں کا تازہ ترین مجموعہ آفٹر دا کوئیک پڑھا ، اور میں نے اس لحاظ سےمجموعے کو بے حد دلچسپ پایا کہ آپ نورویجیئن ووڈ کے انداز میں کہانیوں کو کس آسانی سے حقیت سے جوڑ دیتے ہیں ۔ ہم کہہ سکتے ہیں دیگر کہانیاں ونڈ اپ برڈ کرونیکل یا ہارڈ بوائلڈ ونڈرلینڈ اور اینڈ آف دا ورلڈ کے انداز میں ہیں اور ان سے زیادہ مماثلث رکھتی ہےہیں۔ کیا آپ کو ان دو اقسام کے درمیان کوئی بنیادی فرق نظر آتا ہے؟
موراکامی:میرا اندازیا جو میں اپنے انداز کے بارے میں سوچتا ہوں، وہ ہارڈ بوائلڈ ونڈر لینڈ سے زیادہ قریب ہے۔ مجھےذاتی طور حقیقت پسندانہ انداز پسند نہیں ہے۔ میں سرئیل انداز کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں۔ لیکن نارویجین ووڈ کے لئے میں نے اپنے دماغ کو سو فیصد حقیقت پسندانہ ناول لکھنے کے لئے تیار کیا۔مجھے اس تجربے سے گزرنا تھا۔
انٹرویو کار :کیا آپ اس کتاب کو ایک اسلوب کی مشقِ کے طور پر دیکھتے ہیں یا آپ کے پاس کہنے کے لئے ایک مخصوص کہانی تھی جسے حقیقت پسندانہ انداز میں ہی بہتر لکھا جاسکتا تھا؟
موراکامی:اگر میں سرئیل ناولز لکھتا رہتا تو ایک مخصوص حلقے تک محدود ہوجاتا۔ لیکن میں مرکزی دھارے میں داخل ہونا چاہتا تھا۔لہذا مجھے ثابت کرنا پڑا کہ میں ایک حقیقت پسند کتاب لکھ سکتا ہوں۔ اس وجہ سے میں نے وہ کتاب لکھی۔ وہ جاپان میں بیسٹ سیلر بن گئی اور مجھے ان ہی نتائج کی توقع تھی۔
انٹرویو کار :تو اصل میں یہ حکمت عملی سے کیا گیا ایک عمدہ انتخاب تھا؟
موراکامی:جی ہاں۔ نورویجئین ووڈ پڑھنے اور سمجھنے میں بے حد آسان ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ کتاب پسند ہے۔ اُس کو پڑھنے کے بعد وہ شائد میری دیگر کتابوں میں دلچسپی لیں، تو وہ کتاب یقیناً میرے لئے بہت مددگار ثابت ہوئی۔
انٹرویو کار :جاپانی قارئین بھی امریکن قارئین کی طرح ہیں جنہیں سہل کہانیاں پسند ہیں؟ کیا وہ ایک آسان کہانی چاہتے ہیں؟
موراکامی:میری حالیہ کتاب کافکا آن دی شورکی تین لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ وہ یہاں دو جلدوں میں شائع ہوئی ۔ آپ جانتے ہیں۔ مجھے اس کی اتنی تعداد میں فروخت ہونے پر کافی تعجب ہوا۔ یہ معمولی بات نہیں تھی۔ اس کی کہانی بہت پیچیدہ اور الجھی ہوئی ہے۔ لیکن میرا اسلوب اور نثرپڑھنے میں بہت سہل ہے۔ جس میں حسِ مزاح شامل ہوتا ہے، وہ ڈرامائی اور خود کو پڑھوانے والاہے۔ ان دونوں عوامل کے درمیان یہ ایک طلسماتی توازن ہے ۔ شائدیہ ایک اور وجہ ہے میری کامیابی کی۔ پھر بھی یہ ناقابل یقین ہے۔ میں ہر تین یا چاربرس میں ایک ناول لکھتا ہوںاور لوگ اس کا انتظار کرتے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ جان ارونگ کا انٹرویو کیا تھا اور انہوں نے مجھے کہا تھا اچھی کتاب کا پڑھا جانا اہم ہوتا ہے۔ایک بار پڑھنے والے عادی ہوجائیں تو وہ ہمیشہ منتظر رہتے ہیں ۔
انٹرویو کار :آپ اپنے قارئین کو عادی بنارے ہیں؟
موراکامی:جان ارونگ نے یہی کہا ہے۔
انٹرویو کار :ان دو عوامل ___ایک براہ راست ، آسانی سے سمجھ آنے اور پڑھے جانے والے بیانیے کو ایک حیران کن پلاٹ کے ساتھ جوڑنا____کیا یہ شعوری انتخاب ہوتا ہے؟
موراکامی:نہیں ایسا نہیں ہے۔ جب میں لکھنا شروع کرتا ہوں، پہلے سے کوئی منصوبہ بندی یا تنظیم نہیں ہوتی ۔ میں صرف آنے والی کہانی کا انتظار کرتا ہوں۔ یہ کہانی کس قسم کی ہے یا کیا ہونے جارہا ہے میں انتخاب نہیں کرتا۔ میں صرف انتظار کرتا ہوں۔نورویجئن ووڈ ایک مختلف چیز ہے، کیونکہ میں نے حقیقت پسندانہ اسلوب میں لکھنے کا سوچا۔ لیکن بنیادی طور پر میں اس کا انتخاب نہیں کرسکتا۔
انٹرویو کار :لیکن کیا آپ اس آواز کا انتخاب کرتے ہیں جس نے وہ کہانی سنانی ہے، وہ جذبات سے عاری پڑھے جانی والی آواز؟ کیا آپ اس کا انتخاب کرتے ہیں؟
موراکامی:میرے پاس کچھ تصویریں ہوتی ہیں اور میں ایک ٹکڑے کو دوسرے سے جوڑتا چلا جاتا ہوں۔ یہ کہانی کا خاکہ ہوتا ہے ۔ پھر میں کہانی کو قاری کے لئے واضح کرتا ہوں۔ جب آپ کچھ بیان کرتے ہیں تو آپ کو بہت سخی ہونا پڑتا ہے۔ اگر آپ نے یہ سوچ لیا کہ ٹھیک ہے ۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔ تب یہ ایک شرمناک بات ہوتی ہے۔ آسان الفاظ اور اچھے استعارے؛ عمدہ تمثال۔ یہی میں بھی کرتا ہوں ۔ میں بہت احتیاط اور وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہوں۔
انٹرویو کار :کیا آپ یہ فطری طور پر کرتے ہیں؟
موراکامی:میں ذہین نہیں ہوں اور نہ ہی مغرور۔۔۔۔میں ٹھیک اپنے قارئین کی مانند ہوں جو میری کتابیں پڑھتے ہیں۔ میں ایک جاز کلب کا مالک ہوا کرتا تھا۔ جہاں میں سینڈوچزاور کاک ٹیلز بناتا تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایک ادیب بنوں گا___لیکن ایسا ہوگیا۔ یہ ایک قسم کا تحفہ ہےجو آپ جانتے ہیں اوپر والے کی دین ہے۔ تو میرا خیال ہے مجھے بے حد شکرگزار ہونا چاہیے۔
انٹرویو کار :کس عمر میں آکر آپ ایک ادیب بنے؟ کیا اس بات نے آپ کو حیران کیاتھا؟
موراکامی:میں اس وقت انتیس برس کا تھا ۔ جی ہاں وہ حیرت انگیز تھا۔لیکن میں فوری طور پر اس کا عادی ہوگیا
انٹرویو کار :فوری طور پر؟ کیا آپ لکھنے کے پہلے دن سے آرام دہ محسوس کرتے تھے؟
موراکامی:میں نے اس کی شروعات باورچی خانے کی میز پر آدھی رات کے وقت لکھنے سے کی۔ پہلی کتاب کو ختم کرنے میں مجھے دس مہینے لگے۔ جسے میں نے ایک پبلشر کو روانہ کیا اور ایک قسم کا ادبی انعام جیت گیا۔ وہ ایک خواب جیسا تھا۔ میں حیران تھا کہ یہ ہونے جارہا ہے۔ لیکن ایک لمحے بعد میں نے سوچا____ہاں یہ ہوچکا ہے اور اب میں ایک ادیب ہوں۔
انٹرویو کار :جب آپ نے لکھنا شروع کیا تو آپ کی بیوی کے اس بارے میں کیا محسوسات تھے؟
موراکامی:اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا___لیکن ایک دن جب میں نے اس سے کہا کہ میں ایک ادیب بن چکا ہوں___تب وہ حیران ضرور ہوئی تھی
انٹرویو کار :وہ کیوں حیران تھیں؟ کیا انہیں لگتاتھا کہ آپ ایسا نہیں کر پائیں گے؟
موراکامی:ادیب بننا اس کے لئے چونکادینے والی بات تھی
انٹرویو کار :کن جاپانی ادیبوں نے آپ کو متاثر کیا؟
موراکامی:میں نے اپنے لڑکپن حتیٰ جوانی میں بھی کسی جاپانی ادیب کو نہیں پڑھا ۔کیونکہ میں اس تہذیب سے فرار چاہتا تھا۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ یہ تہذیب بہت بیزار کن اور لیس دار ہے۔
انٹرویو کار :کیا آپ کے والد جاپانی ادب کے استاد تھے؟
موراکامی:جی ہاں۔وہ باپ بیٹے کا رشتہ بھی تھا۔ میرا رجحان مغربی تہذیب، جاز موسیقی ، دوستوفیسکی ، کافکا اور ریمنڈ شینڈلر کی جانب تھا۔ وہ میری اپنی دنیا تھی ، میری اپنی خوابی دنیا۔ اگر میں چاہتا تو سینٹ پیٹرز برگ یا ہالی ووڈ جاسکتا تھا۔ یہ ہوتی ہے ناول کی قوت___آپ کہیں بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اب میرے لئے امریکہ پہنچناآسان تھا ___ہر کوئی جہاں چاہےپہنچ سکتا ہے ____لیکن ساٹھ کی دہائی میں ایسا کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ تو میں بس کتابیں پڑھتا اور موسیقی سنتا اور وہاں پہنچ جاتا۔ وہ ایک خاص قسم کی ذہنی کیفیت ہوتی تھی۔ کسی خواب کی مانند۔
انٹرویو کار :کیایہی کیفیت کسی خاص موقع پر لکھنے کی وجہ بنی
موراکامی:ہاں۔ جب میں انتیس برس کا تھا۔ میں غیر متوقع طور پر ایک ناول لکھنا چاہتا تھا۔ مجھے کچھ لکھنا تھا۔ لیکن میں نہیں جانتا تھا کیسے لکھا جائے؟ مجھے جاپانی میں لکھنا نہیں آتا ہے_میں نے کسی بھی جاپانی ادیب کی ایک کتاب بھی نہیں پڑھی تھی__تب میں نےانداز ، اسلوب، ساخت جیسی تمام چیزیں ان کتابوں سے مستعار لیں جنہیں میں نے پڑھ رکھا تھا۔ امریکی یا مغربی کتابیں۔ جس کے نتیجے میں اپنا اسلوب بنا پایا۔ یہ شروعات تھی۔
انٹرویو کار :آپ کی پہلی کتاب چھپ چکی تھی، جس پر ایک ادبی انعام بھی جیت لیا۔ کیا آپ نے دیگر ادیبوںسے ملنے کی شروعات کی؟
موراکامی:نہیں ___بالکل بھی نہیں
انٹرویو کار :کیا آپ کی عہدِ حاضر میں کسی لکھنے والے سے دوستی نہیں ہے؟ اور وقت گزرنے کے ساتھ آپ کسی ادیب سے ملے جو آپ کا دوست بن گیا ہو؟
موراکامی:نہیں کوئی بھی نہیں ہے۔
انٹرویو کار :کیا کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے آپ اپنے تخلیقی کام کی پیش رفت دکھاتے ہوں؟
موراکامی:نہیں کوئی نہیں ہے
انٹرویو کار :اپنی بیوی کو بھی کبھی نہیں دکھایا؟
موراکامی:میں نے اپنے پہلے ناول کا مینو اسکرپٹ دکھایا تھا __اس کا کہنا ہے کہ وہ اس نے پڑھا ہی نہیں تھا ۔میرے خیال میں اس حوالے سے میری بیوی کا کوئی تاثر نہیں ہے ۔
انٹرویو کار :کیا وہ اس سے متاثر نہیں تھیں؟
موراکامی:نہیں۔ لیکن وہ پہلا ڈرافٹ بہت خوفناک تھا۔ میں نے اسے کئی بار لکھا۔
انٹرویو کار :جب آپ کسی کتاب پر کام کررہے ہوتے ہیں انہیں آپ کی لکھت کے حوالے سے کبھی تجسس نہیں ہوتا ؟
موراکامی:ہر بار جب میں کتاب لکھتا ہوںوہ میری پہلی قاری ہوتی ہے۔۔ میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ وہ اس کام میں میری ساتھی ہے۔ اسکاٹ فٹزجیرالڈ کے لئے زیلڈا جیسے پہلی قاری ہوتی تھی۔
انٹرویو کار :تو آپ نے کبھی اپنے کیرئیر کے کسی بھی حصے میں ایسا محسوس نہیں کیا کہ آپ ادیبوںکی کسی جماعت کا حصہ ہیں؟
موراکامی:میں تنہائی پسند ہوں۔ مجھےبھیڑ بھاڑ ، اسکولزاور ادبی حلقے پسند نہیں ہیں۔ پرنسٹن میں ایک ہوٹل تھااور مجھے وہاں کھانے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔جوائس کیرول اوٹس (Joyce Carol Oates)اور ٹونی موریسن (Toni Morrison)وہاں موجود تھے اور میں بہت ڈرا ہوا تھا۔ مجھ سے کچھ بھی نہیں کھایا گیا!! میری مورس(Mary Morris) بھی وہاں موجود تھی اور وہ ایک عمدہ انسان اور تقریباً میری ہی ہم عمر ہے۔ ہم دوست بن گئے۔ لیکن جاپان کے اندر میرا کوئی ادیب دوست نہیں ہے، کیونکہ میں فاصلہ رکھنا چاہتا ہوں۔
انٹرویو کار :آپ نے دا ونڈ اپ برڈ کرونیکل کا بڑا حصہ امریکہ میں لکھا۔ کیا وہاں پر رہنے سے آپ کے لکھنے کے عمل اور متن پر کوئی واضح اثر پڑا؟
موراکامی:داونڈ اپ برڈ کرونیکل لکھنے کے چار برسوں کے دوران، میں امریکہ میں ایک اجنبی کی طرح رہائش پذیر تھا۔ وہ ’’اجنبیت‘‘ ہمیشہ سائے کی مانند میرا پیچھا کرتی اور یہی اس ناول کے مرکزی کردار کے ساتھ بھی ہوا۔ اب میں سوچتا ہوں، اگر میں اسے جاپان میں رہتے ہوئے لکھتا تو شائد وہ ایک مختلف کتاب ہوتی۔ امریکہ میں قیام کے دوران والی اجنبیت اس اجنبیت سے مختلف ہے جو میں جاپان میں محسوس کرتا ہوں۔یہ امریکہ میں زیادہ واضح اور براہ راست تھی اوراس نے مجھے اپنے آپ کی ایک واضح پہچان عطا کی۔ ایک طریقے سے اس ناول کو لکھنے کا عمل ویسا ہی تھا جیسے میں اپنے آپ کو عریاں کررہا ہوں۔
انٹرویو کار :کیا جاپان میں ایسے لکھنے والےموجود ہیں جن کی کتابیں آپ پڑھتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں؟
موراکامی:ہاں __جیسے ریو موراکامی(Ryu Murakami)، بنانا یوشی موتو_(Banana Yoshimoto)ان کی کچھ کتابیں مجھے بے حد پسند ہیں۔ لیکن میں کوئی جائزہ یا تنقید نہیں لکھتا، میں خود کو ان کاموں میں ملوث نہیں کرنا چاہتا۔
انٹرویو کار :کیوں نہیں؟
موراکامی:مجھے لگتا ہے کہ میرا کام لوگوں اور دنیا کا مشاہدہ کرنا ہے،ان کے بارے میں فیصلہ کرنا نہیں۔ میں ہمیشہ خود کو ان تمام نام نہاد نتائج سے دور رکھتا ہوں۔ میں دنیا بھر میں موجود تمام امکانات کو وسیع پیمانے پر کھولنا چاہتا ہوں۔میں تنقید کے تراجم کو اہمیت دیتا ہوں__کیونکہ ترجمہ کرتے وقت آپ کو کسی بھی چیز کا فیصلہ کرنے کی ضرور ت نہیں ہوتی۔مجھے صرف اپنے پسندیدہ کام کو سطر بہ سطر اپنے جسم اور دماغ سے گزار دینا ہوتا ہے ۔ ہمیں ا س دنیا میں نقادوں کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے یہ میرا کام نہیں ہے۔
انٹرویو کار :آپ کی کتابوں کی جانب واپس لوٹتے ہوئے ۔۔۔ ہارڈ بوائلڈ امریکی جاسوسی فکشن واضح طور پر ایک قیمتی ذریعہ ہے۔ آپ اس صنف کی جانب کب راغب ہوئے اور کس نے اس جانب مائل کیا؟
موراکامی:ہائی اسکول کے ایک طالب علم کے طور میں جرم و سزا پر مبنی ناولوں کے عشق میں مبتلا ہوگیا۔ میں کوبے (Kobe)میں رہتا تھا۔ جو ایک ساحلی شہر ہے جہاں بہت سے غیرملکی اور ملاح اپنی کتابوں کو پرانی کتابوں کی دکانوں پر فروخت کرنے کے لئے آتے تھے ۔ میں ایک غریب بچہ ہوا کرتا تھا۔لیکن میں وہ کتابیں سستے داموں خرید لیتا۔ میں نے انگریزی پڑھنا ان کتابوں سے ہی سیکھی جو میرے لئے بہت دلچسپ ہوا کرتا تھا۔
انٹرویو کار :پہلی انگریزی کتاب کون سی پڑھی؟
موراکامی:روس میک ڈونالڈ کی دا نیم اس آرچر(The Name Is Archer, by Ross MacDonald) ۔میں نے ان کتابوں سے بہت کچھ سیکھا۔ ایک بار شروع ہوجانے کے بعد میں کبھی نہیں رکا۔ اسی دوران مجھے ٹالسٹائی اور وستوفیسکی کو پڑھنا بھی پسند تھا۔ وہ کتابیں بھی بہت دلچسپ تھیں ۔ باوجود اس کے کہ وہ کتابیں ضخیم ہوتی تھیں لیکن میں نے ان کا مطالعہ کرنا نہیں چھوڑا۔ تو میرے لئے دوستوفیسکی اور ریمنڈ شینڈلر ایک ہی چیز ہے۔اب میرے فکشن لکھنے کا مثالی تصور دوستوفیسکی اور شینڈلر کو ایک کتاب میں یکجا کرنا ہے۔
انٹرویو کار :کس عمر میں آکر کافکا کو پہلی بار پڑھا؟
موراکامی:جب میں پندرہ برس کا تھا تب میں نے دا کاسل پڑھا ۔ وہ ایک عظیم کتاب ہے اور دا ٹرائل بھی۔
انٹرویو کار :یہ دلچسپ بات ہے۔ یہ دونوں ناولز نامکمل ہیں جس کا مطلب ہے ان کا اسرار کبھی نہیں حل ہوگا___آپ کی کتابوں میں بھی خاص طور پرآپ کی تازہ ترین کتاب دا ونڈ اپ برڈ کرونیکل پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے اسی اسرار کا سامنا ہےشائد قاری یہی توقع کررہا ہوتا ہے۔کیا اس کی وجہ کافکا سے آپ کا متاثر ہونا ہے؟
موراکامی:پوری طرح سے تو نہیں۔ آپ نےیقیناً ریمنڈ شینڈلر کو پڑھا ہوگا۔ ا ن کی کتابیں نتائج نہیں پیش کرتی ہیں۔ ریمنڈ کہہ سکتے ہیں، فلاں قاتل ہے، لیکن حقیقت میں مجھےاس سے فرق نہیں پڑتا کہ اصل میں یہ قتل کیا کس نے تھا۔ ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ ہے جب ہاورڈ ہاکس(Howard Hawks)، دا بگ سلیپ کتاب پر فلم بناتا ہے۔ ہاکس سمجھ نہیں پاتا کہ شوفر کو کس نے ماراہے، لہذا وہ شینڈلر کو کال کرکے پوچھتا ہے اور شینڈلر جواب دیتا ہے۔ مجھے فرق نہیںپڑتا! ۔۔۔۔۔ٹھیک ویسے ہی آخر سے مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ میرے لئے اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ برادرز کرامازوف میں قاتل کون ہے۔
انٹرویو کار :شوفر کے قاتل کی تلاش والاحصہ دا بگ سلیپ کو ایک پڑھے جانے والی کتاب بناتا ہے
موراکامی:میں بذاتِ خود جب لکھ رہا ہوتا ہوں نہیں جانتا کہ یہ کس نے کیا تھا۔ قاری اور میں ایک ہی سطح پر ہوتے ہیں۔ جب میں کہانی کی شروعات کرتا ہوںاس کے انجام کے بارے میں مجھے بھی علم نہیں ہوتا ۔ میں نہیں جانتا کہ آگے کیا ہوگیا۔ اگر پہلی نظر میں یہ ایک قتل کا کیس ہےتو میں نہیں جانتا قاتل کون ہے۔ میں کتاب لکھتا ہوں کیونکہ میں کھوجنا چاہتا ہوں ۔ اگر میںپہلے سے جانتاہوں کہ قاتل کون ہے تو کہانی لکھنے کا کوئی مقصد نہیں رہ جاتا۔
انٹرویو کار :اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی کتابوں کی وضاحت نہیں کرنا چاہتے ، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک خواب کی جزئیات کو تجزیہ کیا جائے تو وہ اپنی اثر پذیری کھودیتا ہے؟
موراکامی:کتابیں لکھنے کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ آپ جاگتے ہوئے بھی خواب دیکھ سکتے ہیں۔ اگر یہ ایک سچا خواب ہے تب آپ اسے کنٹرول نہیں کرسکتے۔ جب آپ کتاب لکھتے ہیں تو جاگ رہے ہوتے ہیں۔ آپ زمان و مکان ، طوالت اور ہر چیز کا چنائو کرسکتے ہیں۔ میں صبح کے اوقات میں چار سے پانچ گھنٹے لکھتا ہوں ۔ جب وقت ہوجاتا ہے تو میں رک جاتا ہوں۔ اگلے دن دوبارہ شروعات کرسکتا ہوں۔ لیکن اگر یہ ایک خواب ہے تو آپ ایسا نہیں کرسکتے۔
انٹرویو کار :آپ کا کہنا ہے کہ لکھتے وقت آپ کو علم نہیں ہوتا کہ قاتل کون ہے ۔ لیکن ڈانس ڈانس ڈانس کے گوٹانڈا(Gotanda) کو ممکنہ استشناء ملتا ہے۔ اس ناول میں حتمی موڑ کی جانب ایک طے شدہ توازن نظر آتا ہے جہاں وہ جرم کا اقرار کرتا ہے___کلاسیکی جرم وسزا پر مبنی ناول کے انداز میں۔۔۔۔وہ ممکنہ طور پر شبہ کئے جانے والے آخر ی شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کیا آپ کو پہلے سے علم نہیں تھا کہ گوٹانڈا ہی مجرم ہے؟
موراکامی:پہلے ڈرافٹ میں مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ گوٹانڈا ہے۔ آخر میںدو تہائی سے زیادہ لکھنے کے بعد میں جان پایا کہ یہی قاتل ہے ۔ جب میں نے مسودے کا دوسرا نسخہ تیار کیااُس وقت میںنے گوٹانڈا کے مناظر دوبارہ لکھے ۔ کیونکہ میں جان چکا تھا تھا کہ حقیقتاًوہ کون ہے۔
انٹرویو کار :یہ طریقہ کار یقیناً نظر ثانی کرنے کے اہم مقاصد میں سےایک ہے ۔۔۔ پھر پہلے مسودے کو ختم کرکے یہ جاننا کہ آپ نے کیا سیکھا اور ابتدائی حصوں کو دوبارہ لکھنا کیا مخصوص ناگریز احساس عطا کرتا ہے؟
موراکامی:یہ درست بات ہے۔ پہلا مسودہ بکھرا ہوا ہوتا ہے جسے بار بار نظر ثانی کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
انٹرویو کار :آپ عام طور پر کتنے مسودوں سے گزرتے ہیں؟
موراکامی:چار یا پانچ۔ میں پہلا مسودہ لکھنے میں چھ مہینے لگاتا ہوں اور پھر ساتھ یا آٹھ مہینے اس کو دوبارہ لکھنے میں۔
انٹرویو کار :آپ بہت ہی تیز رفتار ہیں
موراکامی:میں محنتی ہوں۔ میں اپنے کام پر دھیان لگاتا ہوں تاکہ زیادہ محنت کرسکوں۔ تب آپ جانتے ہیں یہ آسان ہوجاتا ہے۔ اور جب میں فکشن لکھنے میں مصروف ہوں تو کوئی دوسرا کام نہیں کرتا۔
انٹرویو کار :آپ کے کام کرنے کے دن کی تیاری کیسے کرتے ہیں؟
موراکامی:جب میں ایک ناول لکھنے کے موڈ میں ہوتا ہوں تو ٹھیک صبح چار بجے اٹھ جاتا ہوں۔ اور پانچ سے چھ گھنٹے کام کرتا ہوں۔ دوپہر میں، دس کلومیٹر دوڑتا ہوں یا پندرہ سو میٹر کی پیراکی کرتا ہوں (اور کبھی کبھار دونوں ) ۔ پھر میں تھوڑا بہت مطالعہ کرتا ہوں اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ نو بجے سونے کے لئے لیٹ جاتا ہوں ۔ میں بغیر کسی تبدیلی کے اس معمول کو جاری رکھتا ہوں۔ یہ دوہرایا جانا آپ نے میں ایک اہم چیز بن جاتا ہے۔ یہ تنویمیت کی ایک قسم ہے۔ میں خود پر یہ طاری کرتا ہوں تاکہ اپنے دماغ کی گہرائیوں تک پہنچ سکوں ۔ لیکن اتنے لمبے عرصے کے لئے اس دہرائی سے گزرنے کے لئے ____چھ مہینے سے ایک سال تک ____اچھی ذہنی اور جسمانی طاقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لحاظ سے ایک طویل ناول لکھنا اپنی بقاء کی تربیت کی مانند ہوتا ہے۔ جسمانی قوت بھی فنکارانہ حساسیت جتنی ہی ضروری ہے ۔
انٹرویو کار :میں آپ کے کرداروں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ جب آپ ان پر لکھ رہے ہوتے ہیںتب وہ آپ کے لئے کتنے حقیقی بن جانتے ہیں؟ کیا یہ آپ کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی زندگیاں بیانیے کی محتاج نہ ہوں؟
موراکامی:جب میں اپنی کتابوں کے کردار بنارہا ہوتا ہوں، اُس وقت میں اپنی زندگی میں موجود حقیقی لوگوں کا مشاہدہ کرتا ہوں۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا پسند نہیں ہے اس کی بجائے مجھے لوگوں کی کہانیاں سننا پسند ہے۔ میں فیصلہ نہیں کرتا کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ میں صرف اس بارے میں سوچتا ہوںکہ وہ کیا محسوس کرتے ہیں اور کس جانب جا رہے ہیں۔ میں کچھ عوامل یہاں سے جمع کرتا ہوں کچھ وہاں سے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ ’’حقیقی‘‘ ہے یا ’’غیر حقیقی‘‘۔ لیکن میرے لئے میرے کردار حقیقی لوگوں سے زیادہ حقیقی ہوتے ہیں۔ ان چھ یا سات مہینوں کے دوران جب میں لکھ رہا ہوتا ہوں ، وہ لوگ کائنات کی طر ح میرے اندر ہوتے ہیں ۔
انٹرویو کار :آپ کی کتابوں کے مرکزی کردار آپ کی شاندار تصوراتی دنیا کے بیانیے کواکثر آپ ہی کے نکتہ نظر سے منعکس کرتے نظر آتے ہیں۔ جیسے خواب دیکھنے والاخود بھی اس خواب کا حصہ ہو۔
موراکامی:اس کو اس طرح سے دیکھیے۔۔۔ میرا ایک جڑواں بھائی ہے۔ اور جب میں دو سال کا ہوتا ہوں ۔ تو ہم میں سے ایک ۔۔ یعنی دوسرا والااغوا ہوجاتا ہے۔ اسے یہاں سے دور ایک جگہ لے جایا جاتا ہے اور تب سے ہم نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا ہوتا۔ میرا خیال ہے میرا خاص کردار وہی ہے۔ میری ذات کا ہی ایک حصہ ، لیکن میں نہیں اور ہم نے ایک عرصے سے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا۔ یہ خود کی ہی ایک متبادل صورت ہے۔ ڈی این اے کے لحاظ سے ہم ایک جیسے ہیں۔ لیکن ہمارا ماحول مختلف ہے۔ تو یقیناً ہمارے سوچنے کا طریقہ کار بھی مختلف ہوگا۔ ہر بار جب میں کتاب لکھتا ہوں میںاپنے پائوں میں مختلف قسم کے جوتے پہنتا ہوں۔ اس طرح سے میں خود سے فرار حاصل کرتا ہوں ۔ یہ ایک قسم کی فینٹیسی ہے۔ اگر آپ کے پاس فینٹیسی نہیں ہے تو پھر کتاب لکھنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟
انٹرویو کار :ہارڈ بوائلڈ ونڈر لینڈ کے بارے میں ایک اور سوال ہے۔ اُس میں ایک خاص توازن ہے ۔ ایک مخصوص معیار اور عزم کا احساس جو مثال کے طور پر آپ کی بعد میں آنے والی کتاب دا ونڈ اپ برڈ کرونیکل سے جدا کرتا ہے۔ کیا ناول کے بارے میں آپ کے خیالات اور ساخت کے نقطہ نظر میں کبھی تبدیلی ہوتی ہے؟
موراکامی:ہاں۔ میری پہلی دونوں کتابیں جاپان سے باہر شائع نہیں ہوئی ہیں۔ میں انہیں کرنا بھی نہیں چاہتا۔ وہ بہت بچکانہ اور مختصر کتابیں ہیں۔ میرا خیال ہے ’’کمزور‘‘ لفظ درست رہے گا۔
انٹرویو کار :ان میں کیا کمی ہے؟
موراکامی:میں اپنے پہلے دو ناولوں میں جاپانی ناولوں کی روایت کو توڑنے کی کوشش کررہا تھا ۔ رد تشکیل کے ذریعے ، میرا مطلب ہے اندر موجود ہر چیزکو حذف کردینا اور صرف چوکھٹا چھوڑ دینا۔ پھر مجھے اس چوکھٹے کو تازہ اور اصل چیز سے بھرنا پڑا۔ میں اپنی تیسری کتاب آ والڈ شیپ چیس جو ۱۹۸۲ میں شائع ہوئی تھی کے بعد دریافت کرسکاکہ اسے کامیابی سے کیسے برتا جاتا ہے۔ پہلی دو کتابیں سیکھنے کے اس عمل میں بہت مددگار ثابت ہوئی تھیں ۔ بس اس سے زیادہ نہیں۔ میں واوئلڈ شیپ چیس کو حقیقی معنوں میں اپنے اسلوب کی درست شروعات مانتا ہوں ۔ اس کے بعد سے میری کتابیں بڑی او ر بڑی ہوئی ہیں اور ان کی ساخت اور پیچیدہ۔ ہر بار جب میں نئی کتاب لکھتا ہوں، میں پرانا سانچہ توڑدیتا ہوں تاکہ نئی چیز بناسکوں۔ اور میں نے ہر نئی کتاب میں نیا موضوع، نئی پابندی یا نیا نقطہ نظر پیش کیا۔ میں ہمیشہ ساخت کے بارے میں فکر مند ہوتا ہوں۔ اگر میں ساخت بدلتا ہوں، تو مجھے اپنی نثر کا انداز اور کرداروں کو بھی اسی حساب سے بدلناہوگا۔ اگر میں ایک ہی چیز با ر بار کروں تب میں اکتاہٹ میں مبتلا ہوسکتا ہوں۔
انٹرویو کار :اور اب تک آپ کے لکھنے کے چند عناصر ضرور بدل چکے ہیں ۔ آپ کےہر ناول میں ہمیشہ صیغہ واحد متکلم بیانیہ ہوتا ہے اور ایک آدمی ہوتا ہے جو مختلف قسم کی عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات کے دائرے میں گھوم رہا ہوتا ہے۔ وہ عام طور پر ان خواتین کے مقابلے میں غیر فعال ہوتاہے ۔ جنہیں بس وہ اپنے خوف اور تصورات کی توضیحات کے طور پراستعمال کرتا ہے۔
موراکامی:میری کتابوں اور کہانیوں میں عورتیں ایک وسیلےکی طرح استعمال ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے وسیلے کا استعمال کچھ کرنے کے لئے ہے ۔ یہ تجربے کی ایک قسم ہے۔ اور مرکزی کردار جو کہیں اس وسیلے سے ٹکراتا ہے اور تب وہ نظریات یا تصورات جو وہ دیکھتا ہے وہ اس عورت کے ذریعے دکھانا مقصود ہوتا ہے۔
انٹرویو کار :وسیلہ وکٹورین معنوں میں یا نفسیاتی معنوں میں؟
موراکامی:میرا خیال ہے جنسی عمل ایک اظہار ہے____ ایک قسم کا روحانی رشتہ۔ اگر جنسی عمل اچھا ہوا ہے تو تمہارے زخم بھرجائیں گے۔ تمہارا تخیل تندرست و توانا ہوجائے گا۔ یہ آسمانوںتک پہنچنے کا ایک راستہ ہے ۔۔۔ جو ایک بہتر جگہ ہے۔ اس لحاظ سے میری کہانیوں کی عورتیں ایک وسیلہ ہیںاوردوسری دنیا کی نقیب بھی۔اسی وجہ سے وہ میرے ناولوں کے مرکزی کردار وں کے پاس آتی ہیں۔ اُسے اُن عورتوں تک جانا نہیں پڑتا۔
انٹرویو کار :آپ کے ناولوں میں دو مختلف اقسام کی عورتیں نظر آتی ہیں۔ ان میں سے پہلی تو وہ ہیں جن کے ساتھ آپ کےمرکزی کردار کے تعلقات بنیادی طور پر سنجیدہ نوعیت کے ہیں ___اکثر ایسی عورت غائب ہوجاتی ہے اور اس کی یادیں مردکردار کو پریشان کرتی ہیں_____اور پھر دوسری قسم کی عورتیں جو بعد میں آتی ہیں اور اُسے تلاش میں کرنے میں مدد کرتی ہیں یا کبھی کبھار اس کے الٹ تاکہ وہ پچھلی عورت کو بھول جائے۔ یہ دوسری قسم کی عورت صاف گو،سنکی اور جنس کے حوالے سے بے جھجک رویہ رکھتی ہے ۔ اور مرکزی مرد کردار اس گم شدہ عورت کے مقابلے میں اس سنکی عورت کے ساتھ زیادہ گرم جوشی اور حسِ مزاح کا مظاہر ہ کرتا ہے ۔ ان دو آرکی ٹائپز کو دکھانے کا کیا مقصد پیش نظر ہوتا ہے؟
موراکامی:میرا مرد مرکزی کردار ہمیشہ روحانی اور حقیقی دنیا کے درمیان کہیں قید ہوتا ہے۔ روحانی دنیا میں مرد یا عورت زیادہ پرسکون، ذہین اورسیدھے سادھے ہیں۔ جبکہ حقیقی دنیا میں آپ ایمانداری سے کہہ سکتے ہیں عورتیں بہت فعال، مزاحیہ اور مثبت رویے کی حامل ہوتی ہیں۔ ان کے اندر حسِ مزاح ہوتی ہے ۔ مرد کردار کا دماغ ان دو مکمل مختلف دنیائوں کے درمیان بٹ جاتا ہے اور وہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ اُس نے کیا چننا ہے۔یہ ہارڈ بوائلڈ ونڈر لینڈ میں بہت واضح ہے۔ جس میںمرد کا کردارذہنی اور جسمانی طور پر تقسیم ہوجاتا ہے۔ یہ صورتحال نورویجین ووڈ میں بھی ہے ، اس میں دو لڑکیاںہیں اور وہ شروع سے آخرتک ان دونوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرپاتا ۔
انٹرویو کار :میری ہمدردیاں ہمیشہ حسِ مزاح رکھنے والی لڑکی کے لئے ہوتی ہیں ۔قاری کو حسِ مزاح کے ساتھ جوڑنا زیادہ آسان ہے ۔ محبت یا عشق بازی کے تفضیلات کے ساتھ قاری کو مسحور کرنا ایک مشکل امر ہے۔ نورویجئن ووڈ میں میڈوری کے لئے میں نے گہری ہمدردی محسوس کی تھی ۔
موراکامی:میرا خیال ہےقارئین کی اکثریت یہی کہے گی اور میڈوری کو چنے گی۔ جبکہ مرکزی کرداریقیناً اُسےہی آخر میںچنتا ہے ۔ لیکن مرد کردار کے کچھ حصے ہمیشہ دوسری دنیا میں ہوتے ہیں جنہیں وہ ترک نہیں سکتا۔ وہ اس کا حصہ ہیں ۔ ایک اہم حصہ ۔ تمام انسانوں کے دماغوں میں ایک قسم کا فتور ہوتا ہے۔ وہ خلا اس پاگل پن کا حصہ ہے۔ ہمارے دماغ کا ایک حصہ صحیح الحواس اور ایک حصہ مخبوط الحواس ہوتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہم ان دونوں حصوں کے درمیان گفت و شنید کرتے ہیں۔ میں اپنے دماغ کے پاگل پن والے حصے کو دیکھ سکتا ہوں خاص طور پر لکھتے وقت ۔۔۔ جبکہ پاگل پن درست لفظ نہیں ہے۔ غیر معمولی، غیر حقیقی یقیناً صحیح لفظ ہے ۔ یقیناً مجھے حقیقی دنیا میں واپس لوٹ کر صحیح الدماغ حصے کو چننا پڑتا ہے۔ لیکن اگر مجھ میں پاگل پن والاحصہ نہیں ہوتاتو میں یہاں موجود نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں مرد کردار ، دو عورتوں کا سہارا لیتا ہے ۔ ان عورتوں میں سے ایک کو بھی نکال دیا تو وہ جا نہیں سکتا۔ اس لحاظ سے نورویجئن ووڈ ایک بہت ہی سادہ اور عمدہ مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے۔
انٹرویو کار :ناوویجئن ووڈ میں ریکو کا کردار اس تناظر میں کافی دلچسپ ہے۔ میں نہیں جانتا مجھے اسے کہاں رکھنا چاہیے ۔ اس کے قدم دونوں جہانوں پر محسوس ہوتے ہیں۔
موراکامی:ایک یونانی نقاب کی مانند وہ آدھی صحیح الحواس اور آدھی مخبوط الحواس عورت ہے ۔ اگر تم اسے یہاں سے دیکھو تو وہ ایک المناک کردار ہے۔ اگرتم اسے دوسری طرف سے دیکھتے ہو تو وہ مزاحیہ ہے۔ اس لحاظ سے وہ بہت علامتی ہے۔ مجھے وہ کردار بہت پسند ہے۔ جب میں نے ریکو سین کولکھا تھا تو مجھے بہت خوشی محسوس ہوئی تھی۔
انٹرویو کار :کیا آپ اپنے مزاحیہ کرداروں سے زیادہ محبت اور جڑت محسوس کرتے ہیں؟ میڈوری اور مے کاشارا ورپھر ناکائو کے لئے ؟
موراکامی:مجھے مزاحیہ جملے لکھنا پسند ہے۔ یہ مزیدار ہوتا ہے۔ لیکن اگر میرے سارے کردار بیک وقت مزاحیہ پن پر اتار آئیں تو کیا یہ اکتاہٹ بھرا نہیں ہوجائے گا۔ یہ مزاحیہ کردار میرے ذہن کو ایک قسم کی مضبوطی عطا کرتے ہیں ۔ حسِ مزاح کا ہونا بہت ہی خاص چیز ہے ۔ آپ کو مزاح پیش کرنے کے لئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ جب آپ سنجیدہ ہوتے ہیں تب آپ غیر مستحکم ہوسکتے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔ لیکن جب آپ مزاحیہ ہوتے ہیں آپ مستحکم ہوتے ہیں۔ لیکن آپ جنگ مسکراتے ہوئے نہیں لڑسکتے۔
انٹرویو کار :کچھ ناول نگار اپنے جنون کے ہاتھوں مجبور ہوکر دوبارہ اور سہہ بار لکھتے ہیں ۔ میرا خیال ہے آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہارڈ بوائلڈ ونڈرلینڈ، ڈانس ڈانس ڈانس ، دا ونڈ اپ برڈ کرونیکل اور اسٹپنیک سوئیٹ ہارٹ تقاضہ کرتے ہیں کہ انہیں تقریباًایک ہی موضوع کی مختلف تغیرات کے طور پر پڑھا جائے۔ ان میں یکسانیت ہے جیسے ایک مرد جسے تنہا چھوڑدیا گیا ہے، یا وہ اُس عورت کو کھوچکا ہے ، دونوں دنیائوں کے درمیان مرد کردار کی خواہش اور اُس کے مقصد اور عاجزی کو اس طرح دکھایا گیا ہے ۔تاکہ وہ اس عورت کو جسے وہ کھوچکا ہے دوبارہ حاصل کرسکے۔ ایک امکان جسے وہ کردار (اور قاری) جانتے ہیں کبھی پیش نہیں کرسکتی۔ کیا آ پ کردار نگاری کی اس خصوصیت کے ساتھ اتفاق کریں گے؟
موراکامی: ہاں
انٹرویو کار: جنون کا یہ مرکزی خیال آپ کے فکشن میں کس طر ح آیا؟
موراکامی:میں نہیں جانتا کہ میں ان چیزوں کو کیوں لکھ رہا ہوں۔ میں نے اس چیز کو جان ارونگ کی کتابوں میں تلاش کیا تھا۔ ان کی ہر کتاب میں ایک انسان ہوتا ہےجس کے جسم کا ایک عضو گم ہوجاتا ہے۔ میں نہیں جانتا وہ ان کھوئے ہوئے اعضاء کے بارے میں کیوں لکھتے رہے۔۔۔ شائد وہ خود بھی نہیں جانتے تھے۔ میرےاوپر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ میرے ناول کا کردار ہمیشہ کچھ کھودیتا ہے، اور پھر وہ اس کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں نکل پڑتا ہے ۔ یہ ہولی گریل یا فلپ مارلو جیسا ہے۔
انٹرویو کار: جب تک کچھ کھو نہ جائے آپ جاسوس نہیں بن سکتے
موراکامی:ٹھیک ۔ جب میرا کردار کچھ کھودیتا ہے، اسے وہ تلاش کرنا ہوتا ہے ۔ وہ اوڈیسس کی مانند ہوتا ہے۔ وہ اس تلاش کے دوران بہت عجیب و غریب تجربوں سے گزرتا ہے۔ : گھر آنے کی کوشش کی تلاش میں
موراکامی: اُسے ان تجربات سے گزرنا پڑتا ہے اور آخر میں اسے وہ مل جاتا ہے جو وہ تلاش کررہا تھا۔ لیکن اُسے اس بات کا یقین نہیں آتا کہ کیا یہ وہی چیز ہے جس کی وہ تلاش کررہا تھا۔ میری کتابوں کا یہی مقصد ہے۔میں نہیں جانتا__ وہ چیزیں کہاں سے آتی ہیں؟ یہ میری کہانیوں کا قوت عمل ہے ، کھوجانا ، ڈھونڈنا اور مل جانا___اور مایوسی جو دنیا کو جاننے کی ایک نئی قسم کی آگاہی ہے۔
جو ن رے: ناامیدی کی ابتدا؟
موراکامی:بالکل ٹھیک ۔ ہر تجربے کے اپنے معنی ہوتے ہیں ۔ کردار ان تجربوں کے ساتھ بدل جاتا ہے ___جویقیناً اہم بات ہے۔ اسے کیا ملا اُس سے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ بلکہ وہ کیسے تبدیل ہوچکا ہے اہم ہے۔
انٹرویوکار:میں آپ کی کتابوں کے تراجم کےبارے میں کچھ پوچھنا چاہوں گا۔ آپ خود بھی ایک ترجمہ نگار ہیں اور اس کام کے خطروں سے واقف ہیں۔ آپ اپنے ترجمہ نگار کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں؟
موراکامی:میرے پاس تین ترجمہ نگار ہیں۔ الفریڈ برن بوم( فلپ گیبرئیل اور جے روبین, اصول سیدھا ہے پہلے آئیے پہلے پائیے۔ ہم آپس میں دوست ہیں جس وجہ سے ہمارے درمیان بہت ایمانداری ہے۔ وہ میری کتابیںپڑھتے ہیں اور ان میں سے ایک سوچتا ہے ۔ یہ زبردست ہے! مجھے اس کا ترجمہ کرنا ہے۔ تو وہ مذکورہ کتاب لے لیتا ہے۔ ترجمہ نگار کے طور پر میں بذاتِ خود جانتا ہوں کہ اچھے ترجمے کے لئے ترجمہ نگار کا پرجوش ہونا اہم ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص بہت اچھا ترجمہ نگار ہے لیکن اسے وہ کتاب پسند نہیں تو پھروہ کہانی دم توڑدیتی ہے۔ ترجمہ کرنا بہت مشکل کام ہے جو بہت وقت لیتا ہے۔
انٹرویوکار:کیا وہ ترجمہ نگار آپس میں کبھی نہیں جھگڑتے؟
موراکامی: کبھی نہیں ۔وہ مختلف کردار کے حامل الگ الگ لوگ ہیں ۔ جن کی اپنی ترجیحات ہیں ۔ کافکا آن دا شور فل کو پسند آگئی اس نے وہ اپنے لئے رکھ لی۔ جے بہت زیادہ پر جوش نظر نہیں آرہا تھا۔ فل بہت سیدھا سادہ اور پیارہ انسان ہے جبکہ جے بہت پیچیدہ اور نقائص سے پاک ترجمہ کرنے والاہے۔ وہ ایک مضبوط کردار کا حامل انسان ہے۔ الفریڈ بوہیمین ہے۔ میں نہیں جانتا اس وقت وہ کہاں ہوگا۔ اس نے میانمار کی ایک عورت سے شادی کی جو ایک سماجی کارکن ہے ۔ حکومت انہیں اکثر پکڑوالیتی ہے۔ وہ اس قسم کا انسان ہے۔ وہ ترجمہ میں آزادی کا قائل ہے ۔ وہ اکثر نثر میں چھیڑ چھاڑ کرتا ہے ۔ یہ اس کا انداز ہے۔
انٹرویوکار: آپ اپنے ترجمہ نگاروں سے کیسے تعاون کرتے ہیں؟ یہ عمل کس طرح وقوع پذیر ہوتا ہے ؟
موراکامی: ترجمے کے وقت وہ مجھ سے بہت سے سوالات کرتے ہیں اور جب پہلا مسودہ تیار ہوجاتا ہے ۔ میں اسے پڑھتا ہوں۔ کبھی کبھار میں انہیں کچھ مشورے دیتا ہوں۔ میری کتابوں کے انگریزی تراجم بہت خاص ہیں۔ کروشیا اور سلوینیاجیسے چھوٹے ممالک میں میری کتابوںکو جاپانی کی بجائے انگریزی متن سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔تو اس کا نقص سے پاک ہونا ضروری ہے۔ لیکن بہت سے ممالک میں اصل جاپانی متن سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔
انٹرویوکار: ایسا لگتا ہے کہ آ پ خود ترجمہ کرتے وقت حقیقت پسندوں کو فوقیت دیتے ہیں جیسے کارور، فریٹز جیرالڈ، ارونگ(Carver, Fitzgerald, Irving)۔ کیا یہ قاری کے طور پر آپ کے ذوق کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کیا یہ آپ کو کسی طرح لکھنے میں معاون ثابت ہوتاہے جیسے آپ ایک بالکل الگ قسم کا کام کررہے ہیں؟
موراکامی: وہ تمام لوگ جن کی کتابوں کا میں نے ترجمہ کیا ہے ۔ ان سب سے ہی میں نے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے۔ یہی اہم بات ہے۔ میں حقیقت پسند ادیبوں سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ ان کے کام کو ترجمہ کرنے کے لئے بہت توجہ سے پڑھنے کی ضرورت ہو تی ہے اور تب مجھے ان کے راز پتہ چلنے لگتے ہیں۔ جیسے اگر میں مابعد جدیدیتی ادیبوں کو ترجمہ کررہا ہوں جیسے ڈون ڈیلی لو ، جان بارتھ یا تھامس پائنچن (Don DeLillo, John Barth, or Thomas Pynchon,)۔ تو ان کی مخبوط الحواسی اور میری مخبوط الحواسی کے درمیان ٹکرائو کے نتیجے میں حادثہ ہوجائے گا۔ میں ان کے کام کو پسند کرتا ہوں ۔ لیکن جب ترجمے کی بات آئے تو میں حقیقت نگاری کا ہی انتخاب کرتا ہوں۔
انٹرویوکار:آپ کی تحریروںکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امریکی قارئین کے لئے سب سے زیادہ قابل رسائی جاپانی ادب ہے اور ایسے موقعوں پر آپ خود کو ایک مغرب زدہ معاصرجاپانی ادیب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ آپ جاپانی ثقافت کے ساتھ خود کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
موراکامی: میں غیر ممالک میں مقیم غیر ملکیوں کے لئے نہیں لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کی بجائے میں ہمارے بارے (جاپانیوں)میں لکھنا چاہتا ہوں۔ جاپان اور وہاں کی زندگی کے بارےمیں لکھنا چاہتا ہوں۔ یہ میرے لئے اہم ہے۔ بہت سے لوگ یہ کہہ سکتے ہیںکہ بہت سے مغربی لوگوں کے لئے میرا انداز قابل فہم ہے۔ یہ سچ ہوسکتا ہے لیکن میری کہانیاں میری اپنی ہیں وہ مغرب زدہ نہیں ہیں۔
انٹرویوکار:اور بہت سے حوالہ جات جو امریکی قارئین کےلئے بھی قدرے مغربی معلوم ہوتے ہیں ۔۔ مثال کے طور پر جیسے دا بیٹلز (The Beatls)جاپانی ثقافتی تمدن کا بھی ایک لازمی جز ہے
موراکامی:جب میں ان لوگوں کے بارے میں لکھتا ہوں جو میک ڈونلڈز میں بیٹھے ہوئے برگر کھارہے ہیں۔ امریکن قارئین حیرت کا اظہار کرسکتے ہیں کہ یہ کردار’’ توفو ‘‘کے بجائے برگر کیوں کھارہا ہے؟ لیکن برگر کھانا ہمارے لئے بہت عام سی بات ہے ۔ روز مرہ کے معول جیسی۔
انٹرویوکار:کیا یہ مانتے ہیں کہ آپ کے ناول جاپانی معاصر شہری زندگی کو درست طریقے سے پیش کرتے ہیں؟
موراکامی:جس طرح لوگ بات کرتے ہیں ،حرکت کرتے ہیں، سوچتے ہیں وہ بہت جاپانی ہے۔ کوئی جاپانی قاری یہ شکایت نہیں کرسکتا کہ میری کہانیاں ان کی زندگیوں سے مختلف ہیں۔ میں جاپانیوں کے بارے میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ہم کس جانب جارہے ہیں ۔ ہم یہاں کیوں ہیں۔ہم کیا ہیں اُس بارےمیں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
انٹرویوکار:آپ نے دا ونڈ اپ کرونیکل کے حوالے سے کہا تھاکہ آپ اپنے والد میں دلچسپی رکھتے ہیںاور یہ کہ آپ کے والد کے ساتھ ساتھ پوری ایک نسل کے ساتھ کیا ہوا ۔ لیکن اس ناول میں باپ کا کردار نظر نہیں آتا یا بے شک آپ کے لکھے گئے فکشن میں بھی کہیں نہیں۔ کتاب میں کس جگہ اس دلچسپی کا اظہار کیا ہے؟
موراکامی:میرے تقریباً تمام ناولز میں صیغہ واحد متکلم میں لکھے گئے ہیں۔ میرے کردار کا ایک اہم کام آس پاس ہونے والی چیزوں کا مشاہدہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے جو اسے ضرور دیکھنا چاہیے یا وہ حقیقت میں جب دیکھنے کا فرض کرتا ہے ۔ اگر میں کہوں تو یہ گریٹ گیٹس بی کے نک کاروے سے مماثلث رکھتا ہے۔ وہ غیر جانبدار ہے اور اپنی غیر جانبداری قائم رکھنے کے لئے اسے کسی بھی خونی رشتے اور خاندانی نظام سے غیر متعلق ہونا ہوتا ہے۔میرے جواب کو شائد اس حقیقت سے دیکھا جاسکتا ہے کہ روایتی جاپانی ادب میں خاندان اہم کردا ر ادا کرتا ہے۔ میں اپنے مرکزی کردار کو ایک آزاد اور مطلق فرد کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ایک ایسا آدمی جو آزادی اور تنہائی کو چنتا ہےاور انہیں خونی رشتوں اور یگانگت پر فوقیت دیتا ہے۔
انٹرویوکار:جب میں آپ کے تازہ ترین کہانیوں کے مجموعےمیں سے سوپر فراگ سیوز ٹوکیو (Super-Frog Saves Tokyo)پڑھ رہا تھا، جس میں ٹوکیو کی زمین کی گہرائی میں رہنے والاایک بہت بڑا کینچوا ٹوکیو کے لئے خطرہ بن جاتاہے۔ میں خود کو مانگا (Manga)یا جاپانی عفریت کے بارے میں سوچنے سے خود کو روک نہیں پایا۔ پھر ٹوکیو کے ساحل پر آرام کرتی بڑی کیٹ فش جو پرانی کہانیوں کے مطابق ہر پچاس برس بعد جاگ اٹھتی ہے اور زلزلوں کا سبب بنتی ہے۔ کیا ان میں سے کسی چیز کا آپ کے لئے کوئ مطلب ہے؟ مانگا کے بارے میں آپ کاکیا خیال ہے؟ کیا آپ کے کام سے اُس کا کوئی تعلق ہے؟
موراکامی:میرا خیال ہے نہیں۔ میں مانگا کامکس کا فین نہیں ہوں۔ میں ان چیزوں کے زیر اثر نہیں ہوں۔
انٹرویوکار: جاپانی لوک کہانیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
موراکامی:جب میں بچہ تھا مجھے بہت سی جاپانی کتھائیں اور قدیم کہانیاں سنائیں گئی تھیں۔ جب آپ بڑے ہورہےہوتے ہیں، تب وہ کہانیاں اہم ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ سوپر فراگ قدیم کتھاوں کے ان ذخائر سے آیا ۔ آپ کے پاس اپنا امریکی کتھائوں کا خزانہ ہے، ٹھیک ویسے ہی قدیم خزانے جرمنوں اور روسیوں کے پاس بھی ہوں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک سانجھا خزانہ بھی ہوتا ہے جو ہم دا لٹل پرنس، میک ڈونلڈز یا دا بیٹلز سے چن سکتے ہیں۔
انٹرویوکار: عالمی پاپ کلچر خزانہ۔
موراکامی:آج کل لکھے جانے والی کتابوں میں بیانیہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ مجھے منطق کی کوئی خاص فکر نہیں ہوتی۔ میں ذخیرہ الفاظ کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ جو چیز اہم ہے وہ بیانیہ ہے جو اہمیت رکھتا ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سےاب ہمارے پاس ایک نئی قسم کی لوک کتھا ہے۔ جو ایک قسم کا استعارہ ہے۔ میں نے وہ مووی دا میٹرکس (The Matrix)دیکھی ہے۔ وہ ایک ہم عصر سوچ کی لوک کتھا ہے۔ لیکن یہاں سب سے اسے ایک بوجھل مووی مانتے ہیں۔
انٹرویوکار: کیا آپ نے ہایاو میازاکی(Hayao Miyazaki) کی انیمیٹڈ فلم اسپرٹیڈ اوے (Sprited Away)دیکھی ہے؟ مجھے محسوس ہوا ہے کہ اس مووی کی آپ کی کتابوں کے ساتھ کچھ مخصوص مماثلث ہے۔ اس میں بھی لوک کہانیوںکے مواد کو معاصر طریقے سے برتا گیا ہے۔
موراکامی:نہیں۔ مجھے انیمیٹیڈ موویز پسند نہیں ہیں۔ میں نے اس مووی کا بہت تھوڑا حصہ دیکھا ہے، لیکن وہ میرا انداز نہیں ہے۔ مجھے اس قسم کی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جب میں اپنی کتابیں تحریر کرتا ہوں، میرے پاس ایک تصویر ہوتی ہے اور وہ تصویر بہت طاقتور ہوتی ہے ۔
انٹرویوکار:کیا آپ اکثر مووی دیکھنے باہر جاتے ہیں؟
موراکامی: ہاں ہمیشہ۔ میرے پسندیدہ ڈائریکٹر کا تعلق فن لینڈ سے ہے ۔ اکی کوریسماکی (Aki Kaurismäki)۔ اس کی تما م موویز مجھے پسند ہیں۔ وہ عام سے ہٹ کر ہے۔
انٹرویوکار: اور مزاحیہ بھی
موراکامی:ہاں بے حد مزاحیہ
انٹرویوکار: آپ بتاچکے ہیں کہ حسِ مزا ح مضبوطی ہے۔ کیا یہ دوسرے طریقوں سے بھی کارگر ثابت ہوتا ہے؟
انٹرویوکار: میں اپنے قاری کو کبھی کبھار ہنسانا چاہتا ہوں۔ جاپان میں بہت سے قارئین میری کتابیں ٹرین سے دفترجاتے ہوئے یادفتر سے واپسی کے دوران پڑھتے ہیں۔ ایک عام تنخواہ دار ملازم روزانہ دو گھنٹے اس سفر سے گزرتا ہے اور ان دو گھنٹوں مین وہ پڑھتا ہے۔ اسی وجہ سے میری ضخیم کتابیں دو جلدوں میں شائع ہوتی ہیں۔ ایک ہی جلد میں وہ کافی بھاری بھرکم ہوجائیں گی ۔ کچھ لوگوں نے خط لکھ کر شکایت کی کہ وہ ٹرین میں میری کتابیں پڑھتے وقت ہنسنے لگتے ہیں! ان کے لئے وہ بہت شرمندگی بھرا ہوتا ہے۔ اور وہی خطوط مجھے سب سے زیادہ پسند ہیں۔ میں جانتا ہوں وہ میری کتابیں پڑھتے ہوئے قہقہہ لگا رہے ہیں۔ یہ اچھا ہے۔ مجھے لوگوں کو ہر دس صفحوں بعد ہنسانا پسند ہے ۔
انٹرویوکار: یہی آپ کا خفیہ فارمولاہے؟
موراکامی:میں حساب کتاب نہیں کرتا ۔ لیکن اگر میں ایسا کرسکتا تو یقیناً وہ بہت اچھا ہوتا۔ مجھے اپنے کالج کے دنوں میں کرٹ وونے گٹ (Kurt Vonnegut)اوررچرڈ بروٹیگن (Richard Brautigan) کو پڑھنا پسند تھا۔ وہ سنجیدہ موضوعات پر لکھنے کے باوجود حسِ مزاح کو برتنے سے نہیں چوکتے۔ مجھے اس قسم کی کتابیں پسند ہیں۔ میں نے جب وونے گٹ اور بروٹیگن کو پہلی بار پڑھا تو ششد رہ گیا تھا ! وہ ایک نئی دنیا کو کھوجنے جیسا تھا۔
انٹرویوکار: لیکن آپ نے اس قسم کی کوئی چیز لکھنے کی کوشش نہیں کی؟
موراکامی:میرا خیال ہے یہ دنیاہی ایک قسم کی کامیڈی ہے۔ یہ شہری زندگی، پچاس چینلز والاٹی وی ۔ حکومت میں موجود بیوقوف لوگ۔۔ یہ کامیڈی ہی تو ہے۔ میں نے سنجیدہ ہونے کی کوشش کی ۔ لیکن میں نے جتنی کوشش کی اتنا ہی مصنوعی ہوتا گیا۔ ۱۹۶۸ اور ۱۹۶۹ کے دوران جب میں صرف انیس برس کا تھا موت کی حد تک سنجیدہ ہوگیا تھا۔ وہ سنجیدہ وقت تھا اور لوگ بہت نظریاتی ہوتے تھے۔
انٹرویوکار: یہ دلچسپ پہلو ہے کہ نورویجئین ووڈ انہی وقتوں پر مبنی ہے ۔ غالباً اسی وجہ سے آپ کی تمام کتابوں میں سے وہ تھوڑا کم مصنوعی ہے؟
موراکامی:ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ہماری نسل ایک سنجیدہ نسل ہے۔ لیکن ان وقتوں کو واپس پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے احساس ہوتا ہے کہ وہ سب بہت مصنوعی تھا۔ وہ ایک عجیب وقت تھا۔ تو ہم یعنی میری نسل شائد اس کے عادی ہوگئے۔
انٹرویوکار: جادوئی حقیقت نگاری کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنی کہانی کے خیالی عناصر پر توجہ نہیں دینا ہے۔ جبکہ آپ اس اصول سے منحرف معلوم ہوتے ہیں ۔ آپ کے کردار اکثر کہانی کے بہائو پر بہت عجیب طریقے سے سوالات اٹھاتے ہیں۔ حتیٰ کہ قاری کو اس جانب متوجہ کرتے ہیں۔ اس بات کا کیا مقصد ہے اور آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
موراکامی:یہ بہت دلچسپ سوال ہے۔ میں اس کے بارے میں سوچنا چاہتا ہوں_____میرا خیال ہے دنیا کے بارے میں میرا ایماندارانہ مشاہدہ یہی ہے کہ ’’دنیا بہت عجیب جگہ ہے‘‘۔ جس تجربے سے میں لکھتے ہوئے گزرتا ہوں، میری کہانی کا مرکزی کردار بھی وہی محسوس کرتا ہے۔ قارئین بھی پڑھتے ہوئے ٹھیک ویسے ہی تجربے سے گزرتے ہیں۔ کافکا یا مارکیز نے جو لکھا وہ کلاسیکی لحاظ سے زیادہ تر ادبی فکشن ہے۔ میری کہانیاں زیادہ حقیقی، معاصر اور ما بعد جدیدیت کے تجربات ہیں۔ اسے کسی مووی سیٹ کی طرح سے سوچئے، جہاں تمام چیزیں ، تمام پہناوے، دیوار پر رکھی ہوئی کتابیں، لکڑی کے تختے وغیرہ سب مصنوعی ہیں۔ دیواریں کاغذ کی بنائی گئی ہیں۔ جادوئی حقیقت نگاری کی کلاسیکی قسم میں کتابیں اور دیواریں حقیقی ہیں۔ اگر میرے فکشن میں کچھ مصنوعی ہے ۔تو میں کہنا چاہوں گا وہ ’’مصنوعی پن ‘‘ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ حقیقی معلوم ہوں۔
انٹرویوکار: مووی سیٹ کے استعارے کو آگے بڑھاتے ہوئے شائد کیمرہ پیچھے کی جانب کھسکتے ہوئے اسٹوڈیو میں ہونے والی چیزوں کو ظاہر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟
موراکامی:میں قاری کو قائل نہیں کرنا چاہتا کہ یہ ایک حقیقی چیز ہے۔ میں اسے ویسے ہی دکھانا چاہتا ہوں جیسی وہ ہے۔ اس لحاظ سے میں ان قارئین کو بتاتا ہوں کہ یہ محض ایک کہانی ہے۔۔ جو جعلی ہے۔ لیکن جب مصنوعی پن کا تجربہ حقیقت کے طور پر کرتے ہیں تو وہ بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔انیسویں اور بیسویں صدی کی ابتداء میں ادیب حقیقی چیز پیش کرتا تھا۔ یہ ان کا کام ہوتا تھا۔ وار اینڈ پیس میں ٹالسٹائی میدانِ جنگ کو اتنی تفضیل سے بیان کرتا ہے کہ قاری یقین کرنے لگ جاتا ہے کہ وہ حقیقی چیز ہے۔ لیکن میں ایسا نہیں کرتا۔ میں اسے حقیقی چیز ہونے کا دکھاوا نہیں کرتا۔ ہم ایک مصنوعی دنیا میں رہتے ہیں ۔ہم جعلی خبریں دیکھتے ہیں۔ ہم مصنوعی جنگیں لڑتے ہیں۔ ہماری حکومت مصنوعی ہے۔ لیکن ہم اس مصنوعی پن میں حقیقت تلاش کرلیتے ہیں۔ ہماری کہانی بھی یہی ہے ۔ ہم مصنوعی مناظر کے درمیان چہل قدمی کرتے ہیں لیکن ہماری ذات ان مناظر کے درمیان حقیقی ہوتی ہے۔ ایک لحاظ سے یہ صورتحال حقیقی ہوتی ہے یہ ایک معاہدہ ہے۔ جو ایک سچا تعلق ہے۔ ان سب چیزوں کے بارے میں ہی میں لکھنا چاہتا ہوں۔
انٹرویوکار: آپ اپنی تحاریر میں، ارضی جزئیات کی جانب بار بار لوٹتے ہیں۔
موراکامی:مجھے جزئیات نگاری پسند ہے۔ ٹالسٹائی مکمل تفضیل فراہم کرنا چاہتا ہے جبکہ میری تفضیلات صرف مختصر حصے کا احاطہ کرتی ہیں۔ جب آپ باریک و مختصر چیزوں کی جزئیات میں اترتے ہیں تو آپ کا دھیان قریب اور قریب جاتا ہے اور ٹالسٹائی کے برعکس ۔۔۔ زیادہ غیر حقیقی ہوجاتا ہے۔ میں وہی کرنا چاہتا ہوں۔
انٹرویوکار: قریب سے توجہ مرکوز کرنے کے لئےّآپ حقیقت نگاری کے دائرے کے قریب سے گزر تے ہیں اور کیا ایسا کرنے سے روزمرہ کے معمول اور عجیب ہوجاتے ہیں؟
موراکامی:زیادہ سے زیادہ نزدیکی کی وجہ سے وہ کم حقیقی ہوجاتا ہے ۔ یہی میرا انداز ہے۔
انٹرویوکار: ابتداء میں آپ نے گارسیا مارکیز اور کافکا کے کاموں کا ذکر ادبی لکھاریوں کے طور پر کیا۔ آپ کے کام کی روشنی میں کیا آپ خود کو ایک ادبی لکھاری نہیں مانتے؟
موراکامی:میں معاصر ادب لکھنے والاادیب ہوں جو بہت مختلف ہے۔ جن وقتوں میں کافکا لکھتا تھا ۔لوگوں کے پاس محض موسیقی ، کتابیںاورتھیٹر ہی تھے۔ اب ہمارے پاس انٹرنیٹ، موویزاور بہت کچھ ہے۔ اب ہمارا مقابلہ کافی سخت ہے۔ انیسویں صدی کے لوگوں کا سب سے بڑ امسئلہ وقت تھا۔ میں تفریح پسند طبقے کی بات کررہا ہوں جن کے پاس گزارنے کے لئے کافی وقت ہوتا تھا، اسی لئے وہ کتابیں پڑھتے ، اوپرا جاتے اور وہاں تین سے چار گھنٹے بیٹھے رہتے ۔ لیکن اب ہر کوئی مصروف ہے اور اب کوئ تفریحی طبقہ نہیں ہے ۔ موبی ڈک یا دوستوفیسکی کو پڑھنا اچھا ہے لیکن لوگوں کے پاس اس کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا۔ لہذا فکشن نے خود کو کافی تبدیل کرلیا ہے۔۔۔ ہمیں لوگوں کو شانوں سے دبوچ کر اس جانب متوجہ کرنا پڑتا ہے۔ معاصر فکشن لکھنے والے مصنفین دیگر شعبوں کی تکنیک کو استعمال کررہے ہیں۔ جاز ، ویوڈیو گیمزتقریباً ہر چیز۔ میرا خیال ہے آج کے وقتوں میں ویڈیو گیمز فکشن سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔
انٹرویوکار: ویڈیو گیمز؟
موراکامی:ہاں۔ مجھے ذاتی طور پر ویڈیو گیمز کھیلنا پسند نہیں ہے ۔ لیکن میں اس سےقربت محسوس کرتا ہوں۔ اکثر لکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں ایک ویڈیو گیم ڈیزائنر ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے کھیلنے والاایک کھلاڑی بھی۔ میں پروگرام بناتا ہوں اور اب میں اس کے درمیان میں ہوں ۔ اب بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ دایاں ہاتھ کیا کررہا ہے۔ تقسیم کا یہ احساس ایک قسم کی لاتعلقی ہے ۔
انٹرویوکار: ایک طریقے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو یہ علم نہیں ہوتا کہ اگلے دن آپ کیا لکھیں گے، لیکن آپ کا دوسرا حصہ بالکل یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ آگے کیا ہونے والاہے؟
موراکامی:میرا خیال ہے لاشعوری طور ۔ جب میں لکھنے میں کھو جاتا ہوں۔ میں جانتا ہوں لکھنے والااور پڑھنے والاکیا محسوس کررہے ہیں۔ یہ اچھا ہے۔۔ اس سے میرے لکھنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ قاری کی طرح میں بھی جاننے کا خواہشمند ہوتا ہوں کہ آگے کیا ہونے والاہے۔ لیکن آپ کو کبھی کبھار رک جانا چاہیے۔ اگر آپ بہت تیزی سے جاتے ہیں تب لوگ تھکن اور بوریت محسوس کرتے ہیں۔ آپ کو انہیں ایک مخصوص مقام پر روکنا ہوتا ہے۔
انٹرویوکار: اور آپ یہ کیسے کرتے ہیں؟
موراکامی:مجھے صرف محسوس ہوتا ہے کہ روکنے کا وقت آگیا ہے۔
انٹرویوکار: جاز اور میوزک کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یہ آپ کے کام کے دوران مددگار ثابت ہوتا ہے؟
موراکامی:میں جب تیرہ یا چودہ برس کا تھا جب سے جاز سن رہا ہوں۔ میوزک بہت مضبوط اثر پذیری رکھتا ہے۔ تاریں ، دھنیں، تال ، بلوز کا احساس لکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ میں ایک موسیقار بننا چاہتا تھا۔ لیکن میں موسیقی کے آلات عمدگی سے نہیں بجا سکتا اس لئے میں ادیب بن گیا۔ کتاب لکھنا موسیقی سننے جیسا ہے۔ سب سے پہلے مرکزی خیال کو پلے کرتا ہوں، پھر اسے بہتر کرتا ہوں۔اور پھر ایک قسم کا اختتام ہوتا ہے۔
انٹرویوکار:ایک روایتی جاز کے ٹکڑے میں ابتدائی مرکزی خیال اختتام کی جانب واپس لوٹتا ہے۔ کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں؟
موراکامی:میں اکثر ایسا کرتا ہوں۔ جاز میرے لئے ایک قسم کا ذہنی سفر ہے۔ جو لکھنے سے مختلف نہیں ہے۔
انٹرویوکار:آپ کے پسندیدہ جاز موسیقار کون سے ہیں؟
موراکامی:بہت سے ہیں! جیسے مجھے سٹان گیٹز(Stan Getz) اور جیری مولیگن(Gerry Mulligan) پسند ہیں۔ جب میں جوان تھا تو یہ موسیقار سب سے بہترین ہوا کرتے تھے۔ مجھے مائلس ڈیوس اور چارلی پارکر بھی پسند ہیں ۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ وہ کون سا موسیقار ہے جو مجھے سب سے زیادہ پسند ہے تو یقیناً میرا جواب ہوگا پچاس اور ساٹھ کی دہائی کا مائلس۔ مائلس ہمیشہ سے جدت پسند رہا ہے جو اپنی انفرادیت قائم رکھتا ہے۔ میں اس سےبہت متاثر ہوں۔
انٹرویوکار:کیا آپ کو کولٹرین (Coltrane)پسند ہے؟
موراکامی:ہاں تھوڑا بہت۔ کبھی کبھار وہ زیادہ کا مظاہر ہ کرتا ہے ۔ جو پریشان کن ہوتا ہے۔
انٹرویوکار:دیگر قسم کی موسیقی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
موراکامی : مجھے کلاسیکی موسیقی بھی پسندہے خاص طور پر براک موسیقی۔ اور میری نئی کتاب کافکا آن دا شور میں مرکزی کردار ، وہ لڑکا ریڈیو ہیڈ اور پرنس کو سنتا ہے۔ میں بہت حیران تھا یہ جان کر کہ ریڈیو ہیڈ کے کچھ ممبران میری کتابیں پسند کرتے ہیں!
انٹرویوکار:مجھے حیرانی نہیں ہوئی
موراکامی: میں نے جاپانی میں کڈ اے کے سطری نوٹس پڑھے اور اس نے ذکر کیاکہ وہ میری کتابوں کو پسند کرتا ہے اور مجھے بہت فخر محسوس ہوا تھا۔
انٹرویوکار: کیا آپ ہمیں کافکا آن دا شور کے بارے میں تھوڑا اور بتانا پسند کریں گے؟
موراکامی:وہ میری لکھی گئی سب سے زیادہ پیچیدہ کتاب ہے ، دا ونڈ اپ برڈ کرونیکل سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ۔ اسے بیان کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ دو کہانیا ں ہیں جو ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ میرا مرکزی کردار پندرہ برس کا ایک لڑکا ہے۔ اس کا نام کافکا ہے۔ دوسری کہانی کا مرکزی کردار ساٹھ سال کا ایک بوڑھا مرد ہے ۔ وہ پڑھا لکھا نہیں ہے ۔ وہ پڑھ اور لکھ نہیں سکتا۔ وہ ایک سیدھا سادہ انسان ہے ۔ لیکن وہ بلیوں سے گفتگو کرسکتا ہے۔ وہ لڑکا کافکا اپنے باپ کی ایک بدبختی کا شکار ہے ۔ اوڈیپس کومپلیکس قسم کی بدبختی: وہ اُسے کہتا ہے، تم مجھےیعنی اپنے باپ کو ماردو گےاور اپنی ماں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرو گے۔ وہ اپنے باپ کے گھر سے بھاگ جاتا ہے، اپنی بدقسمتی سے فرار حاصل کرتا ہے ، اور ایک دور دراز مقام پر جا نکلتا ہے ۔ جہاں وہ ایک عجیب دنیا کا تجربہ کرتا ہے جو بہت غیر حقیقی اور خواب کی مانند ہوتی ہے۔
انٹرویوکار: ساخت کے تناظر میں ، کیا اس کتاب کی مماثلث ہارڈ بوائلڈ ونڈرلینڈ اور اینڈ آف دا ولڈ جیسی ہے، کیونکہ وہ بھی آگے سے پیچھے اور پھر آگے کی طرف بڑھتی ہے ، باب در باب ، ایک کہانی سے دوسری کی طرف؟
موراکامی:بالکل ٹھیک کہا ۔ پہلے میں ہارڈ بوائلڈ ونڈرلینڈ کا سیکوئیکل لکھنا چاہتا تھا۔ لیکن پھر میں نے تہیہ کیا کہ ایک بالکل ہی مختلف کہانی لکھی جائے۔ لیکن انداز وہی ہو۔ ان کی روح میں کافی مماثلث ہے ۔ مرکزی خیال یہ ’’حقیقی دنیا ‘‘اور ’’روحانی دنیا ‘‘ہے اور آپ ان کے درمیان کس طرح سفر کرسکتے ہیں۔
انٹرویوکار: میں یہ جان کر بہت پرجوش ہوگیا ہوں، کیونکہ ہارڈ بوائلڈ ونڈرلینڈ میری پسندیدہ کتابوں میں سے ہے۔
موراکامی:وہ میری بھی پسندیدہ ہے۔ وہ ایک ہمت والی کتاب ہے۔ کیونکہ میری کتابوں کے مرکزی کردار عموماً بیس سے تیس برس کی عمروں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ اس میں پندرہ برس کے لڑکے کا کردار ہے۔
انٹرویوکار:ہونلڈن کوفیلڈ(Holden Caulfield) کی طرح؟
موراکامی:جی ہاں۔ اس کہانی کو لکھنا ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ جب میں نے اس لڑکے کے بارے میں لکھا ، مجھے یاد آتا گیا کہ پندرہ برس کی عمر میںخود کیسا تھا۔ میرا خیال ہے پرانی یادیں نسلِ انسانی کا اہم اثاثہ ہے۔ یہ ایک قسم کی فیول ہے جو بھسم ہو کر آ پ کو گرمی پہنچاتی ہے۔ میری یادیں سینے کی مانند ہیں۔ جس میں بہت سی درازیں ہیں اور جب میں پندرہ برس کے لڑکے کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں، تب میں ایک مخصوص دراز کو کھولتا ہوں مجھے مناظر مل جاتے ہیں ۔ تب مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے جب میں کوبے میں ایک لڑکا ہواکر تاتھا۔ میں ان فضائوں کو سونگھ سکتا ہوں، زمین کو چھو سکتا ہوں اور درختوں کی ہریالی کو دیکھ سکتا ہوں۔ اس وجہ سے میں کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔
انٹرویوکار:ان پندرہ سال پرانے خیالات کی جانب واپس لوٹنے کے لئے؟
موراکامی:جی ہاں
انٹرویوکار:کوبے میں پرورش پانا کتنا اہم تھا اور اگر آپ کہیں اور پلے بڑھے ہوتے تو جو انداز آپ نے اپنا یا ہے کیا وہ اپنا سکتے؟ کوبے دنیا کےبھرے پرے شہر کی حیثیت رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر تھوڑا عجیب بھی ہے۔
موراکامی:کویوٹے کے لوگ کوبے سے زیادہ عجیب ہیں! وہ پہاڑوں سے گھرے ہیں اس لئے ان کی سوچ مختلف ہے۔
انٹرویوکار: لیکن آپ کویوٹو میں پیدا ہوئے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
موراکامی:ہاں۔ لیکن میں جب دو برس کا تھا تو ہم کوبے منتقل ہوگئے۔ چنانچہ میں اب وہاں کا ہوں۔ کوبے سمندر کے نزدیک ہے اور اس کے آگے پہاڑلکیر کی طرح کھینچے ہوئے ہیں۔ مجھے ٹوکیو پسند نہیں ہے ۔ وہ بہت سپاٹ، پھیلا ہوا اور وسیع ہے۔ مجھے وہ پسند نہیں۔
انٹرویوکار: لیکن اگر آپ وہاں رہائش اختیار کرتے ہیں!! تو مجھے یقین ہے اس کے بعد جہاں بھی رہنا چاہیں وہاں رہ سکتے ہیں۔
موراکامی:وہ اس وجہ سے کہ میں وہاں گمنام رہ سکتا ہے۔ یہ ٹھیک نیو یارک جیسا ہے۔ کوئی مجھے نہیں پہچانتا؛ میں کہیں بھی جاسکتا ہوں۔ ایک ٹرین پکڑ سکتا ہوں اور کوئی بھی مجھے پریشان نہیں کرتا۔ ٹوکیو کے مضافات میں میرا اپنا ایک گھر ہے، اور وہاں ہر کوئی مجھے پہچانتا ہے۔ جب بھی میں چہل قدمی کے لئے نکلتا ہوں پہچان لیا جاتا ہوں۔ اور اکثر وہ بہت تکلیف دہ اور پریشان کن ہوتا ہے۔
انٹرویوکار:آپ نے ابتداء میں ریو موراکامی کا ذکر کیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ بحیثیتِ مصنف ان کا مقصد بہت مختلف ہے۔
موراکامی:میرا کام کسی حد تک مابعد جدیدت کی ذیل میں آتا ہے ۔ اس کا زیادہ کام مرکزی دھارے میں ہے۔ لیکن جب میں نے کوائن لوکرز بیبیز پہلی بار پڑھا، میں ششد رہ گیا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے بھی اسی قسم کا ایک طاقتور ناول لکھنا ہے۔ اس کے بعد میں نے آ وائلڈ شیپ چیس لکھنا شروع کیا۔ تو یہ ایک قسم کی رقابت ہے۔
انٹرویوکار: کیا آپ دونوں دوست ہیں؟
موراکامی:ہمارے تعلق بہت اچھے رہ چکے ہیں۔ لیکن کم از کم ہم ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں۔ اس کا ہنر بہت طاقتور اور فطری ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اس کی سطح کے نیچے تیل ہی تیل ہے۔ لیکن میرے کیس میں میرا تیل زمین تلے گہرائی میں پوشیدہ ہے جس تک پہنچے کے لئے مجھے مزید کھدائی کرنی پڑتی ہے۔ اور مجھے وہاں تک پہنچنے میں وقت ضرور لگتا ہے۔ لیکن ایک بار میں پہنچ جاوں تو میں بہت مضبوط اور پر اعتماد ہوجاتا ہوں۔ یہ عمل میری زندگی کو منظم کرتا ہے ۔ اور اس طرح سے کھودتے رہنا اچھا ہوتا ہے۔
ختم شد
