اردو افسانے، تراجم اور تنقیدی نوٹس

فرانز کافکا کا میٹا مورفوسس: وجودی بے دخلی کا المیہ | عطا الرحمان خاکی

فرانز کافکا کا نوویلا میٹا مورفوسس — گریگور سامسا، وجودی بے دخلی اور افادیت کے المیے کا تجزیہ
 عالمی فکشن میں بعض متون ایسے ہیں جن کی شہرت ان کی تفہیم سے کہیں زیادہ وسیع ہو جاتی ہے۔ فرانز کافکا کا میٹا مورفوسس بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اسے عموماً ایک ایسے شخص کی کہانی سمجھا جاتا ہے جو ایک صبح بیدار ہو کر خود کو ایک دیوہیکل کیڑے کی صورت میں پاتا ہے۔ مگر کافکا کا مسئلہ نہ وہ کیڑا ہے اور نہ یہ پراسرار تبدیلی۔ یہ تو محض ایک تخلیقی صورتِ حال ہے جس کے ذریعے وہ انسان کی حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے۔میٹا مورفوسس کو اکثر علامتی افسانہ کہہ کر پڑھا جاتا ہے، حالانکہ اصل سوال یہ ہے کہ گریگور سامسا کے کیڑا بن جانے سے کیا تبدیل ہوتا ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً کچھ بھی نہیں۔
گریگور پہلے بھی ایک ایسی زندگی گزار رہا تھا جس میں اس کی شناخت اس کی ذات سے نہیں بلکہ اس کردار سے وابستہ تھی جو وہ گھر کے لیے ادا کرتا تھا۔ وہ کمانے والا فرد تھا، خاندان کا سہارا تھا۔ جب وہ اس کردار کو نبھانے کے قابل نہیں رہتا تو کافکا کسی نئی حقیقت کو جنم نہیں دیتا بلکہ ایک پرانی حقیقت کو نمایاں کر دیتا ہے۔گریگور کے جسم میں تبدیلی ضرور آتی ہے، مگر اصل تبدیلی ان نگاہوں میں واقع ہوتی ہے جن سے لوگ اسے دیکھنے لگتے ہیں۔یہیں سے نوویلا کی معنویت کھلتی ہے۔ جب تک گریگور گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے، اس کی موجودگی ضروری ہے۔ جونہی وہ اس قابل نہیں رہتا، اس کی حیثیت بدلنے لگتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ ایک انسان سے زیادہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے گریگور کے خاندان کو محض ظالم قرار دینا متن کو محدود کر دینا ہوگا۔ کافکا چند افراد کی سنگ دلی نہیں بلکہ اس صورتِ حال کو آشکار کرتا ہے جس میں انسان کی قدر اس کے وجود سے نہیں بلکہ اس کردار سے وابستہ ہو جاتی ہے جو وہ دوسروں کے لیے ادا کرتا ہے۔میٹا مورفوسس کا سب سے المناک پہلو بھی یہی ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ گریگور کیڑا بن جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی نگاہ میں آہستہ آہستہ غیر ضروری شے میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔کافکا کے ہاں بیگانگی کا مسئلہ بھی اسی مقام پر گہرا ہوتا ہے۔ گریگور کے اندر انسانی شعور بدستور موجود ہے، مگر اب وہ اسے دوسروں تک منتقل نہیں کر سکتا۔ وہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے، خوف زدہ ہوتا ہے، مگر اس کی آواز دوسروں تک نہیں پہنچتی۔ شعور برقرار رہتا ہے، اظہار ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
شاید اسی لیے میٹا مورفوسس کو محض علامت، نفسیات یا سماجی تنقید کے دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس سوال کی تخلیقی تشکیل ہے کہ اگر آدمی سے وہ تمام شناختیں چھین لی جائیں جن کے ذریعے دنیا اسے پہچانتی ہے تو اس کے پاس کیا باقی رہ جاتا ہے؟
کافکا اس سوال کا جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف گریگور سامسا کو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔

سرکس | عطا الرحمان خاکی

دروازے پر دستک ہوئی۔میں نے کواڑ کھولا تو لکڑی کی پرانی درزوں سے مٹی جھڑی اور براہِ راست میرے پاوں کی انگلیوں میں دھنس گئی۔ سامنے بندر کھڑا تھا، مگر اس کے چہرے پر بندر کا نقاب اتنی صفائی سے چسپاں تھا کہ جہاں پلاسٹک ختم ہوتا تھا اور جہاں سے گوشت شروع ہوتا تھا، اس کا پتا لگانا محال تھا۔ اس کے ہاتھوں میں گُڑ کی ڈلیاں تھیں، جن پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔
’’پہچانا؟‘‘ ۔
اس کے عقب سے یک دم فضا میں آوازیں ابھریں، جیسے کسی پرانی مشین میں پھنسے ہوئے جملے ہوں ، جو بار بار اپنے آپ کو دہرا رہے ہوں۔ کچھ آوازیں نعرے بن کر ٹوٹ رہی تھیں، کچھ الفاظ بننے سے پہلے ہی بکھر جاتی تھیں۔ ’’جسم کا لبادہ ۔۔۔ پیٹ کا ایندھن۔۔۔ سر کی چھت۔۔۔ ‘‘ ایک آواز خالی برتن کی طرح بجی۔ ’’نظام بدلنے والا ہے۔۔۔ ‘‘ دوسری آواز درمیان میں رک گئی، جیسے سانس ہی ٹوٹ گیا ہو۔ ’’امانت۔۔۔ دیانت۔۔۔‘‘یہ جملہ دیر تک فضا میں لٹکا رہا، پھر خود ہی گرج کر خاموش ہو گیا۔ بندر کی آنکھوں میں چمک ابھری، جیسے وہ ان تمام نعروں کا وارث ہو۔ اس نے ایک عرضی میری طرف بڑھائی۔ میں نے کچھ نہیں کہا۔ میں نے بس اس آئینے کی طرف دیکھا جو بیٹھک کی نم آلود دیوار پر لٹکا تھا۔ آئینے کے پارے میں میرا چہرہ کسی مچھلی کی طرح تیر رہا تھا۔ میں نے اپنی قمیض کے بٹن کھول دیے۔جہاں پسینہ سینے کے بالوں میں رچ کر لیس دار تہہ بنا چکا تھااور اس کی پیش کردہ عرضی پر انگوٹھا لگادیا۔ سیاہی ٹھنڈی اور چپچپی تھی، جیسے کسی مردہ پرندے کا خون ہو۔
میدان میں خیمہ تن چکا تھا۔ خیمے کا کپڑا دبیز تھا، جس سے چھن کر آنے والی دھوپ کا رنگ بیمار کی رنگت جیسا زرد تھا۔ وہاں حبس اتنا تھا کہ سانس لینے پر پھیپھڑوں میں بھرتی گرم راکھ محسوس ہوتی تھی۔ خیمے کے فرش پر ریت بچھی تھی۔
تماشے کا آغاز عجیب تھا۔ ایک بوجھل آنکھ کسی جانور کی آنتوں سے بنی رسی پر لٹک رہی تھی، جس پر چربی کی جھلی اب بھی باقی تھی۔ وہ آنکھ لرزتی تو مجمعے کے ہونٹوں پر زبانیں پھرنے لگتیں اور میرے اپنے مسوڑھوں سے خون رسنے لگتا۔ ابھی لوگ اس لرزش کے سحر میں تھے کہ ایک دو منہ والا طوطا لایا گیا۔ ایک خالص اشتہاری پرندہ۔ اس کا ایک منہ سچائی کا راگ الاپتا اور دوسرا تماشائیوں کی جیبوں سے سکے نکال کر خیمے کے مالک کی جھولی میں ڈال دیتا۔ مجمعے نے اسے ہی اصل سچائی مانا اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ تالیوں کی ہر تھاپ کے ساتھ لگ رہا تھا جیسے میرا معدہ سکڑ کر سخت گرہ بنتا جا رہا ہے اور لیس دار مادہ میرے حلق سے اوپر کی طرف آ رہا ہے۔
کرتبوں کا یہ سلسلہ اب ہولناکی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اگلا تماشہ ایک بوڑھے ریچھ کا تھا، جس کے بدن سے بال جھڑ چکے تھے اور زخمی کھال پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اس کی ناک میں لوہے کی بھاری نتھنی تھی اور زنجیر اتنی زنگ آلود تھی کہ ہر کڑی سے بھورے رنگ کا برادہ گر رہا تھا۔بندر نے جیسے ہی ریچھ کی کمر پر چابک مارا، اس نے غرانے کے لیے اپنے وزنی جبڑے کھولے۔ مگر اندر دانت نہیں صرف گدلے مسوڑھے تھے ۔ یہ زوال دیکھ کر میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک خوفناک کڑاکا ہوا۔ آخری اور فیصلہ کن کرتب کے لیے بہروپیا اسٹیج پر آیا۔ اس نے میلا سا تہبند باندھ رکھا تھا اور اس کے ناخنوں میں مٹی بھری تھی۔ اس نے دیگ میں ہاتھ ڈالا اور وہ پرچیاں نکالیں جن پر ہم نے اپنے مہریں لگائی تھیں اور انہیں فضا میں اچھال دیا۔ وہ کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ انسانی چمڑی کے باریک ورق تھے، جن پر ہمارے ہی نام لکھے تھے۔
’’تمہارا حصہ!‘‘ بہروپیا چلایا۔ 
میں نے اپنا حصہ لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو دیکھا کہ میرا انگوٹھا سیاہی سے گل کر کالا ہو چکا ہے اور ناخنوں کے پوروں سے وہی مٹی ہڈیوں کے اندر تک دھنس گئی ہے۔ میرے ہاتھ اب عرضی پکڑنے کے قابل نہیں رہے تھے ۔ اچانک خیمے کی طنابیں ٹوٹنے لگیں اور بھاری کپڑا سروں پر گرنے لگا۔ میں جب خیمے سے باہر نکلا تو سورج ڈھل چکا تھا مگر تپش وہی تھی۔ میں گھر لوٹا اور آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ میرا چہرہ اب بھی میرا ہی تھا، مگر اس پر ایسی وحشت اور تھکن تھی،  جو ہزار برس کی مسافت کے بعد آتی ہےاور میرے ہونٹوں پر گُڑ کی وہی لیس دار مٹھاس تھی ۔برآمدے میں میرا بیٹا فرش پر بیٹھا میرے ہاتھوں سے ٹپکتی ہوئی سیاہی چاٹ رہا تھا۔ میں نے اسے روکنا چاہا، اسے پکارنا چاہا کہ یہ زہر ہے، مگر میرے حلق میں جیسے ریت بھر گئی تھی۔ صرف ایک گھٹی ہوئی سسکی نکلی جو برآمدے کی خاموشی میں گم ہو گئی۔ تماشہ ختم ہو چکا تھا، مگر ریت اب بھی میرے جوتوں کے اندر چبھ رہی تھی۔بالکل ویسے ہی جیسے کوئی ادھورا سوال گوشت میں پیوست رہ گیا ہو اور جس کا جواب اب میرے پاس نہیں تھا۔

فیصل سعید ضرغام: تماشہ، جبر اور ادراک کا نوحہ گر

جناب فیصل سعید ضرغام کو میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جانتا ہوں۔ اس دوران میں نے اُن کے اندر کئی فکری و فلسفیانہ تناظر کو جنم لیتے، ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے اور پھر ایک نئی صورت میں سامنے آتے دیکھا ہے۔ کبھی وہ مذہبی روایت کی طرف جھکتے دکھائی دیے، کبھی اساطیر کی طرف، کبھی تمثیل اور علامت کی طرف اور کبھی وجودی سوالات کی جانب۔ لیکن اس پورے عرصے میں ایک بات مسلسل میرے ذہن میں موجود رہی کہ فیصل سعید ضرغام ؔکے فکشن کا اصل مسئلہ نہ مذہب ہے، نہ اساطیر، نہ فلسفہ اور نہ ہی محض سماج۔ اصل مسئلہ انسان ہے۔

شاید اسی لیے مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ فیصل سعید ضرغام کے ہاں استعارہ منزل نہیں بلکہ راستہ ہے۔ وہ اساطیر، مذہبی روایت اور علامت سے سفر شروع کرتے ہیں، مگر ان کا تخلیقی اضطراب بالآخر انسان کے گرد آ کر ٹھہر جاتا ہے۔ اکثر لکھنے والے انسان سے استعارے یا علامت کی طرف سفر کرتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ وہ استعارے، علامت، اساطیر اور مذہبی روایت سے آغاز کرتے ہیں اور پھر انہیں واپس انسانی تجربے میں تحلیل کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاں سیسیفس یونانی اساطیر کا کردار کم اور روزمرہ زندگی کا انسان زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ مسیح گرجا گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھا دکھائی دیتا ہے، راوی ایک نئی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے اور فرشتے انسانی تاریخ کے زوال پر گواہی دیتے نظر آتے ہیں، کہیں انسانی مشقت پر قہقہے لگاتا ہوا زیوس ہے، مگر یہ سب اپنے روایتی معنوں کے ساتھ موجود نہیں ہوتے۔ یہ تمام استعارے اور علامات، انسانی دکھ، انسانی بے بسی، انسانی محبت اور انسانی وقار کو سمجھنے کے وسیلے بن جاتے ہیں۔

مجھے اکثر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ فیصل بھائی کے افسانوں میں موجود بندر، مچھیرا، مزدور موتی رام، گھڑیوں میں پھنسا ہوا کلرک، سیسیفس، جیمز یا کلائمکس کا راوی دراصل الگ الگ کردار نہیں ہیں۔ یہ سب ایک ہی تخلیقی سوال کی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک ایسا سوال جو بار بار مختلف لباس پہن کر سامنے آتا ہے۔ انسان آخر اپنی زندگی کو کس طرح معنی دیتا ہے جبکہ اس کے گرد طاقت، جبر، عقیدہ، تاریخ، وقت اور معاشرتی ڈھانچے مسلسل سرگرم ہوں؟

فیصل سعید کے فکشن کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ اِن کے ہاں علامت کبھی مجرد نہیں ہوتی۔ ان کے افسانوں میں رسی، ڈگڈگی، جال، پتھر، گھڑی، کیلکیولیٹر، چیک، دستانے اور اسٹریٹ لیمپ جیسی اشیا محض علامتی آرائش نہیں بنتیں۔ وہ اپنے پورے مادی وجود کے ساتھ کہانی میں داخل ہوتی ہیں۔ شاید اسی لیے اِن افسانوں کو پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ وہ تجرید کے باوجود زمین سے اپنا رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ ان افسانوں کے کردار اگر خواب دیکھتے ہیں تو ان کے قدم پھر بھی مٹی پر کھڑے رہتے ہیں۔ نوحہ گر، معاوضہ اور چتکبرے جیسے افسانوں میں یہ رجحان اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ یہاں فیصل بھائی کا دھیان کسی نظریے یا نعرے پر نہیں بلکہ اس انسان پر مرکوز رہتا ہے جو بڑے نظاموں کے نیچے پس رہا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس انسان کو محض مظلوم بنا کر پیش نہیں کرتے۔ ان کے کرداروں میں ایک عجیب سی ضد اور وقار موجود رہتا ہے۔ وہ شکست کھا سکتے ہیں، استعمال ہو سکتے ہیں، نظر انداز کیے جا سکتے ہیں، لیکن مکمل طور پر مٹتے نہیں۔

اسی لیے میں فیصل سعید ضرغام کے فکشن کو محض علامتی یا تمثیلی افسانے کے خانے میں رکھنے سے ہچکچاتا ہوں۔ میرے نزدیک ان افسانوں کی اصل قوت ان کے علامتوں اور استعاروں میں نہیں بلکہ ان کرداروں میں ہے جو ان علامتوں اور استعاروں کے اندر سانس لیتے ہیں۔ وہ بار بار مختلف اساطیری، مذہبی اور تخیلی سانچوں کو استعمال کرتے ہیں، مگر ان کی دلچسپی ان سانچوں میں نہیں بلکہ ان کے اندر دھڑکتے ہوئے انسان میں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ افسانے پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں سیسیفس، مسیح، بندر یا ہمالہ زیادہ دیر تک نہیں رہتے۔ میرے ساتھ جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ انسان ہے۔ وہ کبھی گرجا گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھا اپنے اختتام کا منتظر ہے، کبھی سمندر میں جال پھینک رہا ہے، کبھی وقت کے تعاقب میں پاگل ہو رہا ہے اور کبھی مرنے کے بعد یہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی قیمت آخر کتنی لگائی گئی۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مجھے فیصل سعید ضرغام کا فکشن سب سے زیادہ دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔ وہ اساطیر، تمثیل اور علامت کے وسیلے سے سفر شروع کرتے ہیں، لیکن آخرکار واپس انسان تک پہنچ جاتے ہیں۔

محمد جمیل اختر: مادی علامتیت کا افسانہ نگار

محمد جمیل اختر — اردو افسانہ نگار، مادی علامتیت اور تجریدی فکشن کے نمائندہ، مجموعے "ٹوٹی ہوئی سڑک" اور "ہندسوں میں بٹی زندگی" کے خالق

محمد جمیل اختر کو جب بھی میں نے پڑھا یا اس کے فن پر غور کیا، مجھے ہمیشہ اس بات نے چونکایا کہ وہ اردو افسانے میں علامتی اور تجریدی رویوں کو مابعد الطبیعاتی دھند یا صوفیانہ ابہام کی نذر نہیں ہونے دیتا۔ اس کے افسانوی مجموعے ٹوٹی ہوئی سڑک اور ہندسوں میں بٹی زندگی اس رجحان کی نمایاں مثالیں ہیں۔ لیکن جمیل اختر کے تخلیقی شعور کو دیکھا جائے، تو وہ عصرِ حاضر کا ایک ایسا منفرد فکشن نگار ہے جو علامت کو زمین کی کھردری اور بے رحم مادی حقیقتوں کے ساتھ نتھی کرتا ہے۔
میں نےکہیں کسی ادبی نشست میں محمد جمیل اختر کو فرانز کافکا سے تشبیہ دی تھی، لیکن اس تشبیہ کے درمیان ایک گہرا خط کھینچنا ضروری ہے۔ کافکا کے ہاں جب کوئی کردار کسی کابوس نما لایعنیت کا شکار ہوتا ہے، تو وہ اکثر کسی ماورائی الجھن یا نامعلوم عدالت کے چکر میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جمیل اختر کا کمال یہ ہے کہ اس کی پیدا کردہ خواب جیسی کیفیت میں بھی اس کے کردار سراسر مادی حقیقتوں اور ٹھوس جسمانی وجود کے جبر سے جوجھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے کرداروں کو اگر خواب بھی آتا ہے تو اس کے پسِ منظر میں جسمانی زوال کی "خر خر" جاری رہتی ہے۔ اس کا علامتی آدمی اگر قید ہوتا ہے تو کسی جادوئی قفس میں نہیں، بلکہ تعفن سے بھری بوتل میں یا ایک ایسے ترک شدہ کنویں میں جہاں اوپر سے پھینکا جانے والا لیس دار گند اور زہریلے کیڑے مکوڑے اسے مسلسل کاٹتے ہیں۔ وہ خواب کو بھی مٹی، گوشت اور کیچڑ کی معروضیت عطا کر دیتا ہے۔
محمد جمیل اختر کا تخلیقی مزاج ان افسانہ نگاروں کی روایت سے مکالمہ کرتا دکھائی دیتا ہے جن میں رشید امجد اورمنشا یاد جیسے معتبر نام شامل ہیں۔ رشید امجد کے ہاں علامت باطنی دھند اور یادوں کی بازگشت سے جنم لیتی ہے، جبکہ منشا یاد کے ہاں وہ معاشرتی بگاڑ اور انسانی شکستگی کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جمیل اختر اسی سلسلۂ فکر سے جڑے ہونے کے باوجود ایسی نئی فضا بناتا ہے جہاں استعارہ بھی ہے اور رمزیت بھی، مگر وہ لایعنیت کے آخری سرے پر کھڑے ہو کر بھی اپنے مادی حواس کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اس کے ہاں احتجاج نعرہ نہیں بنتا، بلکہ کنویں کی تہہ میں پانی کے کم ہونے کی مادی حقیقت بن کر ابھرتا ہے۔
جمیل اختر کسی ایک جگہ رک جانے والا افسانہ نگار نہیں ہے۔ جب جمیل سے میری آخری بار بات ہوئی تھی، تو وہ ایک ناول لکھنے میں مصروف تھا۔ افسانے میں اپنی مخصوص فنی دنیا تشکیل دینے کے بعد اگر وہ ناول میں بھی اسی تخلیقی وژن اور وجودی کشمکش کو وسعت دے سکا تو اردو فکشن کو ایک منفرد ناول نگار میسر آ سکتا ہے۔