شبِ ناتمام

عطاالرحمان خاکیؔ

 

کمرے کی دیوار سے جڑی کھڑکی کے پار، نہ جانے کتنی دور کبھی ایک آسمان تھا۔ وہ خود تو اِس منظر کو دیکھ نہیں پاتا تھا، لیکن جب دن کا اجالا پھیلتا تو سورج کی حدت اسے اپنے اندر اترتی محسوس ہوتی تھی۔ یہ ایک ایسا منظر تھا جس کا سحر وہ اکثر اپنی بیوی کی زبانی سنتا رہتا تھا۔ مگر اب، وہ اس روشنی کو دیکھنے کی تڑپ بھی کھو چکا تھا، کیونکہ اس کے لیے کھڑکی کے اُس پار صرف اندھیرے کی حکمرانی تھی۔ اب وہ روشنی کو بھی دھوئیں کی مانند ایک واہمہ مانتا تھا، جو موجود تو ہے مگر گرفت میں نہیں آتی۔

تبھی پڑوس کے کسی گھر سے کسی بچے کے بلکنے کی آواز فضا کو چیرتی ہوئی آئی اور وہ پھر سے اندیشوں کے تاریک غار میں اترتا چلا گیا۔ خیالات سائے کی طرح اس کا پیچھا کرنے لگے، ایک کے بعد ایک وارد ہوتے چلے گئے اور ذہن کے خالی کینوس پرپھیلنے لگے۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ کائنات بھی تو مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس نے بستر پر لیٹی اپنی بیوی کی طرف دیکھا، جس کی کوکھ کا پھیلاؤ کائنات کی اِس وسعت سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ اِس کوکھ کا ابھار، جو چند مہینوں قبل کسی نوخیز ہرنی کے بدن کی طرح سڈول اور متناسب تھا، اب غیر محسوس طریقے سے پھیل رہا تھا۔ ایک انجانا خوف اس کے پور پور میں سرائیت کر گیا؛ کہیں یہ کوکھ بھی خیالات کی طرح کائنات کے سارے دکھوں کو اپنے اندر نہ سمو لے اور اگر ایسا ہوا، تو چاروں طرف صرف بے انتہا، ان گنت بلکتے ہوئے بچے ہوں گے۔ بچے روئے جا رہے تھے اور کوکھ پھیلتی جا رہی تھی۔

اُسی لمحے اُس کے بوجھل ذہن میں بیتھوون کی نویں سمفنی گونج اٹھی۔ اس نے بچوں کی اِس ریں ریں کو سمفنی کے کلاسیکی سروں کے ساتھ جوڑ دیا، جس سے نوخیز، وحشت ناک موسیقی نے جنم لیا۔ وہ دل ہی دل میں اِس بھیانک آہنگ سے لطف اندوز ہوتا رہا اور کوکھ پھیلتی رہی۔ مگر چند ہی لمحوں میں وہ اس ذہنی شغل سے اکتا گیا۔ اس نے بدن پر پڑی کھیس کو درست کیا اور دوبارہ کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا۔ وہ رات کے سیاہ پن کو آنکھوں میں اتارنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر چاروں طرف صرف تاریکی کی دبیز چادر تنی تھی۔ جب کچھ سجھائی نہ دیا، تو اس نے تخیل کا سہارا لیا اور فرض کر لیا کہ سیاہ آسمان تلے ایک روشن چاند اور ان گنت ستارے ضیا پاش ہیں۔ اس نے ستاروں پر دھیان جمانا چاہا۔ اسے یاد آیا کہ اس نے ستاروں کے اس جھرمٹ کے متعلق پڑھا تھا جسے’دُبِ اکبر‘ کہتے ہیں۔ تب اس نے بھی اپنے تخیل کی پرکار سے ان دیکھے لاکھوں ستاروں کو آپس میں جوڑا، تو اس کے سامنے تڑپتے ہوئے نومولود بچوں کے ہیولے بننے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہیولے ایک لرزہ خیز تصویر میں ڈھل گئے۔

اُس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس سیاہ آسمان کی وسعتوں کو تکتے ہوئے اسے یک دم آئیکرس یاد آ گیا۔ وہ آئیکرس، جس نے موم کے پروں کے سہارے سورج کو چھونے کی جسارت کی تھی۔ آئیکرس سورج تک پہنچنے کی پاداش میں خاک ہوا۔ آئیکرس مٹ گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ وہ خود بھی اسی طرح کسی دن مر جائے گا یا مار دیا جائے گا، مگر یہ اندھیرا یوں ہی برقرار رہے گا اور خواب ایسے ہی مرتے رہیں گے۔

اُس کی بیوی اب نیند سے جاگ چکی تھی۔ اس کی آنکھوں کی پتلیوں پر لکھے منظر میں امید، خوف، حال اور مستقبل اس طرح پیوست ہے کہ وہ خود کو کوسنے لگا۔ دوسری طرف بچہ بدستور بلکے جا رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس بچے کی ماں یا تو گہری نیند میں ہے یا پھر مر چکی ہے۔ تب اس کے ذہن میں ایک تلخ خیال کوند گیا۔ شاید اِس زمین پر پیدا ہونا ہی کسی جرم کی سزا ہے، اسی لیے تو ہر بچہ دنیا میں قدم رکھتے ہی چیخ اٹھتا ہے۔ شاید وہ اس جہانِ خراب میں آنا ہی نہیں چاہتے، مگر بہرحال انہیں دھکیل دیا جاتا ہے اور پھر پیدائش کے اس جبر کے بعد وہ روتے ہیں، دودھ پیتے ہیں اور یوں دکھ اور بھوک کا یہ دائرہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

وہ اپنی بیوی سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ اس کے لیے کچھ کرسکتا ہے، لیکن وہ اس کے مزاج سے واقف تھا کہ وہ انکار کر دے گی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے لب ہلاتا، بیوی نے اندھیرے میں ہی سر نفی میں ہلا کر اسے منع دیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد وہ دوبارہ کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی، مگر درد کی لہریں اسے چین نہیں لینے دے رہی تھیں۔ وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ اگر یہ بچہ اِس دنیا میں آ گیا، تو اس کا مستقبل کیا ہوگا؟

جب وقت آئے گا، تو بیوی کو ہسپتال لے جانا پڑے گا۔ یہ خیال آتے ہی اس کے اعصاب میں بے چینی دوڑ گئی۔ ہسپتال کی وہ پرانی، بوسیدہ اور زرد عمارت اس کے دماغ کے کینوس پر پھیلنے لگی۔ فینائل کی کڑوی اور گھٹن زدہ مہک ذہن کے کسی نہاں خانے سے ابھری اور اس کے حلق تک آ گئی۔ وہ منہ کی اس کڑواہٹ کو برداشت نہ کر سکا اور فرش پر تھوک دیا۔ اس کے سینے میں تیز جلن اٹھی، شاید یہ زیادہ سگریٹ نوشی کا نتیجہ تھا۔ اِس جسمانی تکلیف کے جاگتے ہی ذہن میں بننے والے سارے تخیلات یکایک دھندلا گئے۔ تب اس نے زبردستی اپنے ذہن میں کچھ خوبصورت تصویریں بسانے کی کوشش کی۔ اگر لڑکا ہوا تو اس کا نام گوتم اور اگر لڑکی ہوئی تو کنول رکھوں گا اور اس کا وجود گوتم اور کنول کی تکرار سے گونجنے لگا۔

شاید دنیا کو آج ایک اور گوتم کی ضرورت ہے۔لیکن کیا نروان، روٹی، کپڑا اور مکان کی اِس دلدل سے کسی کو آزاد کرا سکتا ہے؟

یہ سوال اس نے خود سے کئی بار دہرایا اور ایک زہرخند مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔ گوتم بدھ کو تو جنگل میں، ایک گھنے درخت کے نیچے، کھلے آسمان تلے نروان مل گیا تھا جہاں ہر طرف ہریالی اور زندگی تھی؛ لیکن اس کے چاروں طرف تو صرف کنکریٹ کی بے حس دیواریں کھڑی ہیں اور کچھ دیواریں تو اس کے اپنے اندر بھی چن دی گئی ہیں۔ کمرے کی دیواریں سیمنٹ اور بجری سے بنی ہیں اور اندر کی دیواریں لا تعداد حسرتوں اور ناآسودہ خواہشوں سے۔ اس نے آخری بار کھڑکی سے باہر دیکھا۔ باہر کی سیاہی ابھی تک قائم تھی، اور اس کے اندر کی تاریکی بھی ویسی ہی مجسم کھڑی تھی۔

اِسی عالم میں اسے محسوس ہوا کہ وہ خود ایک بوڑھے درخت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اوپر وہی سیاہ اور بے رحم آسمان ہے جہاں گدھ منڈلا رہے ہیں، جبکہ بھوک سے بلکتے اور سسکتے ہوئے بچے اس کے وجود کی سوکھی شاخوں سے پکے ہوئے پھلوں کی مانند لٹکے ہوئے ہیں۔ درخت سے دوبارہ انسان بننے میں اسے چند ہی سیکنڈ لگے اور وہ اپنی اِس ذہنی پرواز پر خود کو کوسنے لگا کہ یہ خیالات بھی کتنی جلدی دم توڑ دیتے ہیں۔ اسے شدت سے محسوس ہوا کہ ان بھوکے بچوں کے لیے، اپنی ہونے والی اولاد کے لیے اسے کچھ کرنا ہوگا۔ کوئی تو راستہ نکالنا ہوگا!

یہی سوچتے ہوئے اس نے آخری سگریٹ اپنے خشک لبوں سے لگایا، پوری قوت سے پھیپھڑوں تک دھواں کھینچا اور پھر ناک کے راستے فضا میں چھوڑ دیا۔ وہ آنے والی نسل کے لیے بس یہی کرسکتا تھا۔