منہ اندھیرے میر ے والدبستر چھوڑ کر چراغ روشن کرتے، جب کے گھر کے باقی افراد سو ہی رہے ہوتے اور خدا جانے گھر کے کونوں کھدروں میں کس چیز کی تلاش شروع کردیتے ۔وہ یہی سمجھتے ہوں گے کہ ان کی اس مصروفیت کا علم کسی کو نہیں ، لیکن اس مصروفیت سے میں واقف تھا۔ایک رات انہوں نے کھانا کھاتے وقت مجھے بتایا کہ انہیں کچھ ملا ہے اور اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے ۔ رات گئے ان کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ نہیں رہے۔ والد کے گزر جانے کے بعد اب میں بھی ان ہی کی مانندمنہ اندھیرےچراغ جلائے نجانے کیا ڈھونڈتا رہتا ہوں۔ وہ ایسا کیوں کرتے تھے ۔ میں آج تک نہیں جان پایا اور بات یہ بھی ہے کہ کسی چیز کی تلاش کے لیے دن کی روشنی کافی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ان کے والد بھی یوں ہی اکثر چراغ ہاتھ میں لیے گھر میں جانے کیا ڈھونڈتے رہتے تھے اور اب میں اس روایت کو خاموشی سے نبھا رہا ہوں۔ ایک دن جب میں چراغ ہاتھ میں تھامے صحن، دروازوں، روزنوں اور چوکٹھوں کو بار باراپنی انگلیوں سے بجاکر پتا نہیں کیا جاننے کی کوشش کررہا تھا۔ تب مجھے صحن کی دیوار کا وہ کونا نظر آیا جو دن میں صاف ستھرا معلوم ہوتا ہے لیکن رات کے اس پہر کیڑے مکوڑوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ مجھےیہ کوئی غیر فطری بات معلوم نہیں ہوئی لیکن چراغ کی روشنی کی قربت سے کلبلا کر جب کچھ کیڑے اڑگئے اور کچھ تیزی سے رینگتے ہوئے کونے کھدروں میں غائب ہوگئے تب دیوار کے اکھڑے پلستر تلے میں نے کچھ حروف ایسے دیکھے جو دور سے کیڑے مکوڑوں کی مانند ہی معلوم ہوتے تھے لیکن قریب جاکر انگلی پھیرنے سے یوں محسوس ہوا جیسے لمس تلے کوئی جاندار شے کلبلائی ہو۔میں نے چراغ مزید قریب کرکے بھی دیکھا کہ واقعی وہ حروف ہیں یاکسی قسم کی کائی ہے یا واقعی میں کیڑے تو نہیں۔ لیکن وہ واقعتاً حروف ایسے کچھ علامتیں تھیں۔ میں کچھ دیر کھڑا دیوار کو تکتا رہا اور کمرے کی جانب لوٹ گیاتھا۔دیر سے بیدار ہونے پر مجھے اپنی طبیعت میں بھاری پن محسوس ہوا اور یوں معلوم ہوا جیسے میرے کمرے کی چاروں دیواریں اب مجھے اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہیں۔ فراغت حاصل کرنےاور کھانا کھانے کے بعد ایک بار پھر دن کی روشنی میں اس دیوار کا اکھڑا پلستر اور اس کے پیچھے جھانکتی ہوئی اینٹوں پر ابھری حروف ایسی اشکال کو غور سے دیکھا ۔ دن کی روشنی میں حروف کی سطح مدھم تھی جسے بغور دیکھنے پر ہی محسوس کیا جاسکتا تھا۔ پھر بھی قریب ہوکر دیکھنے پر مجھے سمجھ آیا کہ یہ ایک باقاعدہ قسم کا اندازِ تحریر ہےجو میرے لیے قطعی نیا ہے اور جسےمیں پڑھنا نہیں جانتا۔ لیکن انگلی پھیر کر محسوس کرنے کی کوشش تو کرسکتا ہوں۔ حروف انگلی کے لمس سے کلبلانے لگتے ہیں ۔ انگلی ہٹانے پرکچھ دیر تک ایسا ضرورمعلوم ہوتا رہا جیسے انگلی کی سطح پر کوئی چیز رینگ رہی ہو۔ جسے میں بے خیالی میں دیر تک جھٹکتا رہا ۔
مجھے یاد آیا والد نے ایک بار بتایا تھا کہ وہ ایک انسان سے ملے تھے، جس کے سر پر آسمان جیسی کوئی شے معلق تھی۔ جب والد نے اس سے دیواروں کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگا: ’’دیواریں قید ہیں، روکتی ہیں، چلنے سے باز رکھتی ہیں۔ لیکن چھت ہمیشہ موجود رہتی ہے، جیسے یہ آسمان جو میرے سر پر معلق ہے۔‘‘ بہرحال کچھ دن بعد جب صحن کی دیواروں پر رنگ کرنے کا وقت آیا، میں نے خاص طور پر اس دیوار کو ریگ مال سے کھرچنے کا کہا ، جہاں حروف نظر آرہے تھے۔ رنگ کے پیچھے کئی مدھم پرتیں ظاہر ہوگئیں، ہر پرت کے نیچے ایک نئی پرت تھی۔ لیکن ایک بات طے تھی کہ حروف اپنی جگہ موجود تھے، صرف وقت کی گرد نے انہیں دھندلا دیا تھا۔مجھےیوں دیوار کا مشاہدہ کرتے ہوئے یک دم ماں کی خوشبو محسوس ہوتی ہے جو اس وقت گھر کے کسی گوشے میں گھریلو مصروفیات میں مشغول ہوں گی۔ میری ماں پرانے خیالات کی خاتون ہیں۔ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں ۔ اس لیے اہم واقعات کو وہ تاریخ یا سنہ کی بجائے کسی عالمی یا علاقائی سطح پر ہونے والے کسی اہم واقعے سے یاد رکھتی ہیں تو میری ماں نے بتایا کہ تم ٹھیک بڑی دیوار کے گرائے جانے کے ایک دن بعد پیدا ہوئے۔ وہ ایک سیدھی سادی گھریلو عورت ہیں۔ اس لیے میں نہیں کہہ سکتا کہ انہیں سوشلزم یا جمہوریت کا فرق پتہ ہوگا یا وہ سرد جنگ اور آہنی پردے جیسی اصطلاحات سے واقفیت رکھتی ہوں گی۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ بات جاننے کے بعد میں تھوڑا مخمصے کا شکار تھا ۔کیونکہ میرے شناختی کارڈ کے مطابق میری پیدائش اس واقعے سے ایک برس تئیس دن پہلے ہی ہوچکی تھی ۔ لیکن اکثر جب یہ خیال میرے ذہن کو شدت سے کریدنے لگتا ہے ۔ میں اپنا شناختی کارڈ ہاتھ میں لے کر خود کو بغور دیکھنے لگتا ہے۔ صرف ایک بار ایسا ہوا کہ شناختی کارڈ کو گھورتے ہوئے مجھے ایسا لگا کہ جس لباس کو میں نے پہن رکھا ہے، وہ میرا نہیں، پھر جب میں نے اپنے آنکھیں جھپکیں تو اپنے ہی لباس میں ملبوس اور مطمئن نظر آرہا تھا۔خیال سے باہر نکل کر میں رنگ ساز کو بقیہ کام سمجھاتا ہوں اور اپنے کمرے کا رخ کرتا ہوں جو کبھی میرے والد کے زیر استعمال رہتا تھا۔ کمرہ زیادہ بڑا نہیں ہے لیکن چاروں جانب پھیلی ایک مانوس بو میرے ذہن کے کسی گوشے کو بیدار کردیتی ہے اور میری نظر کتابوں کی جانب جاتی ہے۔ وہ کتابیں جنہیں میرے والد اکثر پڑھتے تھے ، وہ میرے حصے میں آئے ہیں۔ زیادہ تر کتابوں کا موضوع تاریخ اور طب ہے۔ تب میری نظر سیاہ جلد میں ملبوس ایک کتاب پر ٹھہر گئی۔جسے اس سے قبل میں نظر انداز کرتا رہا تھا۔ وہ کتاب اتنی بوسیدہ تھی کہ میرے ہاتھ لگانے پر کاغذ جھڑنے لگتا ہے اس لیے میں بہت احتیاط کے ساتھ اٹھا کر اسے پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پڑھتے پڑھتے یوں معلوم ہونے لگا جیسے الفاظ کی ہئیت تبدیل ہورہی ہو، جیسے وہ میری دیوار پر لکھے حروف کے انداز میں تبدیل ہورہے ہوں۔ تب میں کتاب کےمتن پر احتیاط کے ساتھ انگلی پھیرتا ہوں اور ایسا معلوم ہوتے ہے کہ میری انگلی کے لمس سے حروف کلبلا رہے ہیں۔جب کتاب واپس رکھی تو ایک پرانا ڈاک کا لفافہ کتاب سے نکل کر نیچے گر گیا۔ لفافے پر جلی حروف میں ایک نام تحریر تھا اور پتہ جو وقت کے ہاتھوں قدرے دھندلاہوچکا تھالیکن پڑھا جاسکتا تھا۔ میں نے جب خط لفافے سے نکالاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں بھی وہیں حروف تھے، جنہیں میں سمجھنے کی کوشش کرنا چاہتا تھا۔
میرا دھیان اس جانب گیا کہ مجھے اپنے دوست سے رابطہ کرنا چاہیے جو قدیم زبانو ں کا ماہر ہے۔ میں نے وہ حروف اسے دکھائےہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کسی متروک شدہ زبان میں لکھا گیا کلام ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ اس زبان کا خطہ ضرور عرب یا فارس ہوگا۔ وہ کہتا ہے کہ ممکن ہے کہ محض یہ انداِزِ تحریر متروک ہوگیا ہویا جس قوم یا قبیلے کی وہ زبان ہو انہوں نے اس کی بجائے کسی اور طریقے کار کو بہتر سمجھ کر اسے رد کردیا ہو۔ لیکن وثوق سے وہ بھی کچھ کہنے میں تامل سے کام لیتا ہے۔ پھر ایک دن کتابوں کی مہینہ وار صفائی کے دوران یا شائد کسی مخصوص کتاب کی تلاش کے دوران وہی لفافہ میرے ہاتھ لگااور میں لفافے کو خاموشی سے جیب میں رکھے گھر سے باہر نکل آیا۔
اس علاقے تک پہنچنے میں مجھے زیادہ وقت نہ لگا۔ شام کا وقت ہوچکا تھا اور سڑکوں پر معمول سے زیادہ بھیڑ تھی۔ میں نے ایک دکان دار سے لفافے پر لکھے پتہ کے بارے میں پوچھا ، اس نے اشارے سے بتایا کہ مسجد کے بائیں جانب جو گلی ہے اس کے ساتھ کا دوسرا مکان ہے۔ میں اس کا شکریہ ادا کرکے اس مکان تک پہنچا ۔میں نے دروازے کی جانب نگاہ کی ، وہ مجھے بند معلوم ہوااورمجھے اندر سے کسی بھی قسم کی آواز نہیں سنائی دی۔ میں نے آس پاس نظر ڈالی اور تب ایک راہ گیر میرے قریب آکر رک گیا اور پوچھنے لگا ۔رشید صاحب سے ملنے آئے ہیں۔ جس پر میں نے اثبات میں گردن ہلائی تو مجھ سے کہنے لگا ۔ سیلانی آدمی ہیں ، زیادہ وقت گھر سے باہر ہی رہتے ہیں، اگر مناسب سمجھیں تو اندرجاکر انتظار کرلیں۔داخلی دروازہ جو مجھے بظاہر بند معلوم ہوتا تھا۔ وہ اس اجنبی کے ہاتھ کے معمولی دباو سے کھل گیا ۔ اس نے مجھے داخلی دروزے سے ملحق مختصر دالان کے ساتھ بنے کشادہ کمرے کے اندر ایک جانب بیٹھنے کے لیے کہا اور کہنے لگا ۔ جناب میں سامنے والے گھر رہتا ہوں۔ آپ کے لیے چائے بھجواتا ہوں اور یہ کہہ کہ جتنی تیز رفتاری سے مجھے لے کر آیا تھا اسی تیز رفتاری کے ساتھ لوٹ گیا ۔ زمین پر بچھی چارد پر جس کے ساتھ صاف ستھرے گاوں تکیے بھی سلیقے سے رکھے ہوئے تھے ، بیٹھ گیا اور آس پاس کا جائزہ لینے لگا ۔ کمرہ صاف ستھرا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بغلی کمرہ بھی تھا جس پر قفل پڑا تھا اور اس سے متصل دروازے سے صحن بھی نظر آتا تھا۔ جس سے ایک جانب بنا مختصر سا باورچی خانہ دکھائی دیتا تھا ۔میں نے واپس کمرے کی بائیں جانب نگاہ کی تو مجھے کتابوں کی مختصر الماری اور اس کے ساتھ رکھی ایک تصویر نظر آئی ۔ مجھے لگا کہ اس تصویر میں بنی شخصیت سے واقفیت رکھتا ہوں لیکن باوجود کوشش کے وہ چہرہ میرے ذہن میں جانے پہچانے خد و خال کے باوجود پہچان کی کوئی لہر پیدا نہ کرسکا۔
میں نے چھت پر نظر ڈالی تو مجھے مکڑی کا جالہ نظر آیا اور اس سے تھوڑا نیچے چیونٹیوں کی باریک سی قطار اوراس سے تھوڑا نیچے اسی پراسراراندازِ تحریر میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ جس کی تلاش میں یہاں تک پہنچا تھا۔ میں نے حیرت سے ان حروف کو دیکھا اور جیب سے لفافہ نکال کر اس کے اندر سے خط نکالا اور اس دیوار اور خط کے متن کو آپس میں ملانے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن وہ حروف کسی طور پر بھی ایک جیسے ثابت نہ ہوئے۔ لیکن یہ بات طے تھی کہ دونوں تحاریر کا انداز ایک ہی ہے۔ اچانک داخلی دروازے سے آہٹ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ایک کم عمر لڑکا ہاتھ میں چائے کے برتن لیے کھڑا ہے، جومجھے اس گھر تک پہنچانے والے اس راہ گیر کی بچپن کی تصویر معلوم ہورہا تھا،بچے نے چائے کے برتن میرے سامنے سلیقے سے رکھے اور بناء کچھ کہے لوٹ گیا۔ میں نے کیتلی پر ہاتھ رکھا تو وہ خوب گرم تھی ۔ میں نے ایک پیالی میں چائے انڈیلی اور پرسکون انداز میں چائے پینے لگا اور تھوڑی دیر بعدمیری آنکھ لگ گئی۔
میری آنکھ کسی قسم کی آواز سے کھلی۔ میں نے دیکھا کہ میرے سامنے ایک عمر رسیدہ انسان دوزانو ہوکر بیٹھے ہیں اوران کے سر پر بادل جیسی کوئی شےمعلق ہے۔وہ میری جانب ہی دیکھ رہے تھے اور ان کے چہرے پر ایک شفیق مسکراہٹ تھی۔ میں انہیں پہچان نہیں سکا اور اپنے آس پاس کے ماحول کا جائزہ لیا تو مجھے شرمندگی محسوس ہونے لگی اور میں نے کہا معاف کیجئے گا۔ خدا جانے کیسے نیند نے آلیا۔ تب بوڑھے نے کہا کہ اسے اپنا ہی گھر سمجھیے۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے میرا نام پوچھا جو میں نے بتادیا اور اس کے ساتھ ہی میں نے وہ خط نکال کر ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔انہوں نے ایک نظر اس خط پر ڈالی اور میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔جب میں نے تفضیل کے ساتھ پورا قصہ سنایا تو وہ پوچھنے لگے۔
’’کیا آپ کسی ایسے کام سے وابستہ ہیں، جہاں دنیا کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے‘‘
میں نے نفی میں گردن ہلادی۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا،’’جانتے ہو، یہ سب عجیب ہے۔ انسان کو لگتا ہے کہ وہ چیزیں جان چکا ہے، لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا۔ کچھ تجربے ہمیشہ الفاظ سے پہلے وجود میں آتے ہیں، جیسے کوئی پرانا خواب ۔ ‘‘
’’آپ درست کہہ رہے ہیں۔ بہرحال کیا آپ اس خط کا متن مجھے پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ ‘‘
وہ یہ سن کر مسکرائےاور کہنے لگے ۔’’ خط کا متن تو میں جانتا ہوں ۔ یہ میرے ایک عزیز کا خط ہے جو اس نے کسی زمانے میں مجھے لکھا تھا۔ اسے رات میں برے خواب آتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دیواریں اس سے کلام کررہی ہیں اور جیسے جسم میں کوئی متعدد ٹانگوں والی شے حرکت کر رہی ہو ۔‘‘
میں نے کسی قدر ہچکچاہٹ کے ساتھ پوچھا۔’’کیا آپ میرے گھر کی دیوار پڑھ سکتے ہیں؟‘‘
’’مجھے خوشی ہوگی ۔‘‘
اس کے بعد ادھر ادھر کی چند ایک باتوں کے بعد ہم نے ایک دن اور وقت طے کیا اور میں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ آپ خود آنے کی زحمت نہ کیجئے گا۔میں آپ کو لینے آجاوں گا ۔ دن گزرااورمذکورہ تاریخ کو ٹھیک وقت پر جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ گھر کے دروازہ پر قفل پڑا ہے۔ وہی محلہ دار جو مجھے اس دن گھر کے اندر تک چھوڑ گیا تھا۔ مل گیا اور کہنے لگا کہ وہ صاحب گھر فروخت کرکے کسی اور جگہ منتقل ہوگئے ہیں ۔ وجہ وہ بھی نہیں جانتا تھا۔میں نے کندھے اچکائے اور واپس لوٹ آیا ۔ اس کے بعد میں نے کئی دن انہیں تلا ش کیا پر وہ تلاش بے سود رہی۔ اب میں اکثر ایک خواب دیکھتا ہوں۔ وہی صاحب ایک کمرے میں بیٹھے ہیں ۔کمرے کی دیواریں شیشے کی ہیں اور کمرے کا کوئی دروازہ نہیں ۔ میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔ وہ بھی مجھے دیکھ رہے ہیں اور مجھ سے مخاطب ہوکر کچھ سمجھارہے ہیں۔ لیکن شیشے کی دیواروں کے سبب میں ان کی آواز نہیں سن پارہا اور وہ بولتے بولتے نڈھال ہوکر خاموش ہوجاتے ہیں اور میں اپنی جگہ پر کھڑا دیکھتا رہتا ہوں۔ اب میں اپنی والد کی مانند ہی چراغ ہاتھ میں لیے نجانے کیا ڈھونڈتا رہتا ہوں اور میرا بیٹا مجھے بالکل ویسے ہی دیکھتا ہے، جیسے میں اپنے والد کو دیکھا کرتا تھا۔ اب میں منتظر ہوں کہ یہ چراغ میرے ہاتھوں سے نکل کر کب اس کے ہاتھوں میں منتقل ہوگا۔