درخت اور سانپ

عطاءالرحمٰن خاکی ؔ


تم جانتی ہو
میرے قدیم ہاتھ
سیاہ، لمبے اور کھردرے ہیں
اور ہتھیلیوں پر ابھری لکیریں
اب ایک درخت بن چکی ہیں
جس کی ہر شاخ پر
لوڈو کا ایک سانپ لپٹا ہوا ہے
جو میری ہر خواہش کو
سو کی گنتی تک پہنچنے سے پہلے
نگل جاتا ہے

تم سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئی ہو
اور میرے پاس صرف دو ہاتھ
ایک درخت
اورچند سانپ ہیں
تمہیں ہارنے کے بعد
اُسی درخت کی چھال سےمیں نے ایک قلم بنایا
اور اس کی نوک کو سانپ کے زہر سے بجھاکر
سمندر میں دفنا دیا

اب سمندر خون تھوکتا ہے
میں بلغم اگلتا ہوں
درخت بھی اب زوال پذیر ہے
امید ہے تم خیریت سے ہوگی