زندگی، سگریٹ اور ماچس کی مثلث

عطاءالرحمٰن خاکی ؔ


زندگی
ایک گیت ہے
جسے سگریٹ میں لپیٹ کر
دھیمے سروں میں
گنگناتا ہوں
اور اردگر د رقصاں رہتے ہیں
خیال ، دھواں اور راکھ کے ذرے
آورہ ذرے
اڑتے پھرتے ہیں
آزاد پرندوں کی مانند
ذرا دھیان بٹ جائے تو
لباس پر بکھر جاتے ہیں
اور اپنا نشان چھوڑ جاتے ہیں
یوں ہی بے خیالی میں کبھی
گنگناتے گنگناتے اگر انگلیاں
ماچس کی ڈبیہ سے ٹکرا جاتی ہیں
مقبرے میں حنوط شدہ
کوئی ایک تیلی
چھوٹی اور سرخ سر والی تیلی
ۤآخری قہقہہ لگاکر
بھڑک کر جل جاتی ہے
لیکن جاتے جاتےبھی وہ مجھے
لطف کا ایک لمحہ
ضرور دے جاتی ہے