علامتی فکشن میں اساطیریت کا برتاؤ کوئی سطحی انتخاب نہیں، بلکہ متن کی مادی ہیئت اور اس کے داخلی ادراک کا کڑا معرکۂِ نقد ہے۔ ایک طرف وہ رُخ ہے جو اساطیر کو محض معاصر حقیقت کی پیچیدگی ناپنے کا تکنیکی وسیلہ مانتا ہے؛ جہاں علامت اگر اپنے وجود میں دستاویزی طور پر ٹھوس اور ہیئت کے مادی تقاضوں کے مطابق تول کر نہ برتی جائے، تو افسانہ محض سستا گورکھ دھندا اور قاری پر دانشمندی جھاڑنے کا ذریعہ بن کر رہ جاتا ہے۔
مگر اس کے عین مقابل وہ معنوی ساخت ہے جہاں اساطیر کوئی بیرونی حربہ نہیں، بلکہ انسانی تجربے تلے دبی ہوئی یادداشت اور زبان کا داخلی نظامِ ادراک ہے۔ یہاں علامت کی صداقت کسی مادی دستاویز کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ اس کے داخلی اثر اور معنوی ربط سے مشروط ہوتی ہے، جہاں واقعہ معنی پیدا نہیں کرتا، بلکہ معنی واقعے کو جنم دیتے ہیں۔
علامتی فکشن کی اصل قوت کسی ایک نظریے کی اندھی تقلید میں نہیں بلکہ اس نقطے پر قائم ہے۔ جہاں اساطیر کی معنوی گہرائی اور متن کا مادی و تکنیکی توازن ایک دوسرے کو مجروح کیے بغیر باہم پیوست ہو جائیں۔ باقی سب ملمع کاری ہے۔
عطاالرحمان خاکی
