انٹرویور:حفیظ تبسم
اشاعت: سہ ماہی ادراک، شمارہ نمبر 18 (ستمبر 2022)

 
حفیظ تبسم: فکشن میں لکھنے کی تحریک آپ کو کہاں سے ملی اور آپ نے پہلی کہانی کب لکھی؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی :لکھنے کی شروعات زندگی میں پیش آنے والے ایک ذہنی حادثے کے سبب ہوئی اوراس حادثے کا جو ایک ذہنی دباؤ تھا اس کے تحت میں نے کتھارسز کرنے کی نیت سے لکھنا تھا۔ تب تک مجھے بھی نہیں معلوم تھا کہ میں لکھ سکتا ہوں۔ کیوں کہ بچپن سے کتابیں پڑھنے کاشوق ضرور رہا ہے لیکن لکھنے کی جانب آنے کا کبھی اراده نہیں تھا۔تواسی کتھارسز کے عمل میں پتہ نہیں کیسے چند نظمیں لکھیں اور چند ایک اشعار بھی ہوگئے تھے اور کہانی تو بہت بعد میں آئی ۔وه نظمیں اور اشعار کیوں کہ ذاتی نوعیت کے تھے اس لیےانہیں کبھی شائع نہیں کروایا ، البتہ پہلی کہانی سنہ ٢٠١۴کے آخر میں مکمل کی جو بعد ازاں بھارت میں سہ ماہی ثالث اور پاکستان میں مبین مرزا صاحب کی ادارت میں نکلنے والے رسالے مکالمہ میں شائع ہوئی۔


حفیظ تبسم: جب پہلی کہانی لکھی تو کیا آپ کو محسوس ہوا تھا کہ آپ کتھارسس کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی :نہیں، شروعات میں یہ لکھنا بھی دراصل اس صدمے کے ذہنی تکلیف سے بچاو کی ایک تدبیر تھی۔ ایک غیبی دیوار کی مانند۔ جس کے پیچھے میں چھپ جاتا اور یہ لکھنا میرے لیے سود مند ضرور ثابت ہوا اور اس زمانے میں جسے میں ازراه تفنن اپنا زمانہ جاہلیت کہتا ہوں، تو فکشن کی ہئیت، مکالمہ نگاری، منظر نگاری، اسلوب اور دیگر تکانیکی ضروریات کے لیےتنقیدی کتب کا مطالعہ آگے کے تخلیقی سفر میں بے حد کام آیا۔ کتھارسز کے ذریعے شروع ہونے والا وه عمل آج تک جاری ہے۔ میں اس طریقہ کار سے کم از کم اس قابل ضرور ہوسکا کہ اپنے ذہن کےپوشیده گوشوں تک رسائی پاسکوں۔


حفیظ تبسم: آپ کو کہانی کا خیال کیسے سوجھتا ہے ۔ کیا یادداشت کی مدد سے کردار ڈھونڈتے ہیں یا کوئی واقعہ آپ کے لکھنے کا سبب بنتا ہے ؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی :کرداروں کا معاملہ ذرا دلچسپ ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ کہانیوں میں صیغہ واحد متکلم کا استعمال کروں اس طرح میں کہانی میں درآئے ہر کردار کی ذہنی تحلیل نفسی نہیں کر پاتااوراس طریقہ کار سےمجھے ایک اور آزادی
بھی مل جاتی ہے کہ انہیں برڈ ویو پرسپیکٹیو سے دیکھنے کی بجائے ایک عام انسان کی مانند زمین پر اتر کر دیکھوں، زمینی سطح پر اور ان کے اعمال اور حرکات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کروں کہ ان کا مسئلہ کیا ہے۔ تو میرے پاس عموماً کردار نہیں بلکہ کوئی جملہ آتا ہے یا کوئی خیال ہوتا ہے، وه پہلا جملہ یا خیال بے حد اہم ہوتا ہے کیوں کہ اس سے طے ہوتا ہے کہ کہانی کس اسلوب میں بیان ہوگی،کہانی کی بنت کیا ہوگی تو میرا جو تخلیقی عمل ہے وه مصوری کی مانند ہے جہاں پہلے سے صرف کچھ چیزیں طے شده ہیں باقی چیزیں میں لکھتے وقت ہی طے کرتا ہوں۔ اور کہیں کہیں میں کردار کی بجائے‘‘ ٹائپ ’’کا استعمال کرنا پسند کرتا ہوں تو وه بھی ایک طریقہ کار ہے جس سے میں بطور ایک لکھاری چند ایک صعوبتوں سے بچ کر محض کہانی پرتوجہ دے پاتا ہوں۔


حفیظ تبسم: ہر ادیب کسی نہ کسی سینئر ادیب سے متاثر ہوتا ہے ۔ بھلے لاشعوری طور پر سہی ۔آپ کس فکشن نگار سے زیاده متاثر ہوئے ؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی :میں آج بھی ابن صفی اور اشتیاق احمد کا مداح ہوں۔ ان کو پڑھنے کے بعد ہی میں سنجیده ادب کی جانب راغب ہوسکا۔یہ وه ادیب ہیں جن کی کتابوں کی پڑھت سے مطالعے کی عادت پیدا ہوئی۔ اردو فکشن کے تعلق سے مجھےانتظار حسین، نیر مسعود، اسد محمد خاں، سریندر پرکاش، انورسجاد ، بلراج مینرا، مرزا اطہر بیگ، مستنصر حسین تارڑ اور صغیر ملال بے حد پسند ہیں اسی طرح مغربی ادب میں کافکا، بورخیس،آئین رینڈ، سراماگو، شلز اورموراکامی کا کام مجھے متاثر کن معلوم ہوتا ہے۔


حفیظ تبسم: آپ کے آغاز کے ادیب ابن صفی اور اشتیاق احمد پاپولر فکشن نگار تھے ۔ جب آپ سنجیده فکشن کی طرف مائل ہوئے تو کیا فرق محسوس کیا ؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی:ان دونوں ادیبوں کو میں اپنے محسنین کی طرح دیکھتا ہوں، اس پہلی سیڑھی کی طرح جنہوں نے میرے اندر کتابوں کی محبت پیدا کی اور ان ہی کی بدولت میں اصطلاحاً جسے ہم سنجیده ادب کہتے ہیں اس جانب راغب ہوسکا۔ میں آج بھی ابن صفی صاحب کو پڑھتا ہوں ۔ اگر آپ مروجہ اصطلاحی تعریف کے تناظر میں ابن صفی صاحب کا لکھا ہوا پاپولر فکشن کی ذیل میں رکھتے ہیں تو مجھے بصد احترام یہ کہنا پڑے گا کہ بہت سے بیسٹ سیلرادبی ناول بھی پھر اس ذیل میں آجائیں گےاور اگر عمومیت سے جوڑتے ہیں تب بھی یہی معاملہ پیش آئے گا۔ تو میں اس ادبی منافقت کے حق میں نہیں ہوں۔ اگر ہمارے یہاں دوسرا منٹو کسی وجہ سے پیدا نہیں ہوسکا توہمارے پورے ادبی منظر نامے میں کوئی دوسرا ابن صفی اور اشتیاق احمدبھی نہیں ہے۔ بنیادی فرق تو دیکھیں تعبیرِ زندگی کا ہے۔ جہاں ایک جگہ تعبیر زندگی ہے جو بطور مجموعی خوبصورت ہے، جب کہ دوسری جانب جو زندگی کی تلخیاں جو ہیں اپنی تمام تر بدصورتیوں کے ساتھ آپ کو نگل جاتی ہیں۔


حفیظ تبسم :خاکی صاحب میرا سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ابن صفی وغیره سیدھی سادھی کہانی لکھتے ہیں جب کہ آپ نے ابھی جن فکشن نگاروں کا ذکر کیا وه سب پیچیده فکشن نگار ہیں بلکہ یوں کہہ لیں کہ علامتی اور تجریدی افسانہ نگار ۔۔۔کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ لاشعوری طور پر سیدھی سادھی کہانیوں سے بیزار ہوگئے تھے؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی :جناب حفیظ ، میں نے کبھی بھی راست بیانیہ کی حوصلہ شکنی نہیں کی۔ بنیادی طور پر راست بیانیہ اور علامت نگاری تو اسلوب کی ذیل میں ضرور آتے ہیں ، کسی حد تک تجرید بھی کہ بیانیہ کی صورت ہی آپ مجرد خیالات کو پیش کرتے ہیں لیکن تجرید کا معاملہ اسلوب بیان سے زیاده تکنیک کے زیر نگیں ہوتا ہے۔ میں بس فکشن کی اس قسم کا قائل ہوں کہ وه جس اسلوب یا تکنیک میں بھی لکھا گیا ہے۔ اس میں ریڈیبلٹی، فکر اور رنگا رنگی ان معنوں میں ہو کہ اکتاہٹ نہ محسوس ہو۔ اب دیکھیں یہاں میں جو بات کہہ رہا ہوں ایک قاری کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔ میری رائے میں جن لکھنے والو کے نام میں نے پچھلے کسی جواب میں دہرائے ہیں، ان میں سے چند ایک اپنے زمانے کے مضائقہ نہیں لیکن میں ان میں سے کچھ کے تعلق سےیقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ ان کا مقصد محض علامت نگاری ‘‘آواں گارد ’’لکھنے والے تھے، اب اگر آپ اسے علامت اور تجرید کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں تب بھی کوئی یا تجرید نگاری نہیں تھا۔ بل کہ وه‘‘ آواں گارد ’’معنوں میں فکشن میں کچھ نیا کرنے کی سعی کررہے تھے جسے نہ اس وقت سمجھا گیا اور نہ ہی آج اس تناظر میں ان کے کام کو اس طریقے سے دیکھاجارہا ہے۔ اب انہی معنوں میں اگر ابن صفی کو بھی رکھ لیتے ہیں تو میری بات مکمل ہوجائے گی۔ه وه بھی اپنے زمانے میں جب رومانوی ناول اور فحش تحاریر لکھنے کا رواج تھا تو وه جاسوسی ادب تخلیق کررہے تھے وه بھی طبع زاد۔ مجھے کچھ بیزار کن معلوم ہوتا ہے تو وه ہمارے یہاں‘‘ اخباری کہانیوں ’’کی اصطلاح رائج ہے۔ جس سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ افسانے کا کینوس بے حد وسیع ہے، یہاں میری بیزاری جو ہے وه سپاٹ بیانیے سے ہے اور ایسے افسانوں سے ہے جہاں تخلیق کار کا تخلیقی تجربہ توا نا نہیں ہے یا لکھنے والے نے جو موضوع چنا جو اب ایک کلیشے میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں اس نے نیا پن پیدا کرنے کی کوشش تک نہیں کی، تو ایسا فکشن مجھے ایک سطح پر بوجھل معلوم ہوتا ہے اور میں اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہوں۔

 

May be an image of one or more people and dais

Hafeez Tabassum

 

حفیظ تبسم :ابھی آپ نے بات کی تھی کہ بیسٹ سیلر ادیب اس کیٹگری یعنی پاپولر ادب کے دائرے میں آجائیں گے ۔اردو ادب میں اچھا خاصا دور پاپولر یا عوامی ادب کا گزرا ہے مگر ان فن پاروں کو ادب کے دائرے میں شمار نہیں کیا جاتا ۔ کوئی نقاد ان پر بات نہیں کرتا ۔ آخر ایسا کون سا پیرامیٹر ہے جس سے پاپولر اور سنجیده ادب کی پہچان ممکن ہے ؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی:پاپولر فکشن کی تعریف آپ کیا قائم کررہے ہیں۔ مجھے توزیاده تر یہ سننے کو ملتا ہے کہ جی وه کمرشل تحاریر تھیں اور یونرا بیسڈ کتابیں تھیں تو انہیں پاپولر فکشن میں رکھا جائے گا۔ تو بھائی ہر وه کتاب جس پر قیمت درج ہو کمرشل پروڈاکٹ ہی ہوتا ہے۔سنجیده ادب سے میری مراد ہمیشہ فکر آمیز فکشن رہا ہے۔ یہ وہی فرق ہے جو غالب یا داغ کی شاعری میں ہے۔ آج داغؔ کو شائد کہیں کلاسیکی معنوں میں یاد ضرور رکھا جاتا ہے، لیکن غالب کے یہاں جو شعری صنعت گری، فن و فکر ہے وه اس وجہ سے زنده ہےاور کافی عرصہ تک زنده رہے گا۔ یہی معاملہ اچھے ادب کا بھی ہے کہ ایک عمده ادبی فن پاره قاری کی فکری سطح کو بلند کرتاہے، اس کے ذہن کی آبیاری کرتا ہے اور محض وقت گزاری کا ذریعہ نہیں ہوتا تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف جاسوسی یا رومانوی ناول ہی پاپولر فکشن کی ذیل میں آتے ہیں یااپنے وقتوں میں سماجی مسائل کو درشاتے‘‘سنجیده ادب ’’میں شمار کیے جانے والے ناولوں کو بھی پاپولر ادب میں رکھنا چاہیے؟ کیوں یہ پیمانہ جو وضع ہورہا ہے یہ محض پاپولر فکشن تک محدود نہیں رہے گا۔


حفیظ تبسم :میں آپ کی بات سے قدرے اتفاق کرتا ہوں ۔ ہمارے ناقدین کنفیوژن کا شکار ہیں ۔ سنجیده ادب کی کیٹگری میں رکھے بہت سے افسانے اور ناول پڑھتے ہوئے پاپولر فکشن کا گمان ہوتا ہے بلکہ کئی بار تو یقین بھی مگر ان کو سنجیده ادب کی کیٹگری میں رکھا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے جیسا کہ آپ نے کہا کہ جو فن پاره دیرپا اثرات قائم کرے گا وه سنجیده ادب کہلائے گا ۔ کیا دیرپا اثرات مرتب ہوتے دیکھنے کے لیے ایک صدی گزرنے کا ہی انتظار کرنا چاہیے یا کوئی پیرامیٹر بھی واضح ہوسکتا ہے۔

 
عطاءالرحمٰن خاکی: معاملہ ہے کہ چند افسانے اور ناول پڑھتے ہوئے ان پر واقعی پاپولر فکشن کا گمان ہوتا ہے ۔وه بھی اس قسم کا پاپولر فکشن جیسے اے آر خاتون لکھ رہی تھیں یا جیسے وقت موجوده میں ہمیں ایسی خواتین ناول نگار) پاپولر فکشن رائٹر(کا جھرمٹ نظر آجاتا ہے جو زندگی کی تفہیم کو خود ساختہ مذہبی تناظر میں سمیٹ کر پیش کر رہی ہیں۔بالکل اسی طریقہ کار کے تحت لوگ سنجیده ادب لکھ رہے ہیں لیکن درحققیت وه پاپولر فکشن کا بھی بالکل نچلا درجہ ہے۔ اب یہاں جو تناظر ہے وه ادب میں تعبیر زندگی کی پیشکش پر بھی قائم ہورہا ہے اور کس طرح ایک صنف کو برتا جارہا اب یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ میری نظر میں توہر عمده تحریر خواه وه جس ذیلی صنف کے تحت لکھی جائے ، ہے اس پر بھی۔ انسانی ذہن پرمثبت اثرات ضرور قائم کرتی ہے۔ اس وجہ سے میں کسی بھی صنف کو یکسر نظر انداز نہیں کرتا۔کیوں کہ کوئی بھی صنف اچھی یا بری نہیں ہوتی بل کہ اس کے لکھنے والے جو معیارات طے کرتے ہیں اس سے صنف کی اثر پذیری اور اہمیت کا تعین ہوتا ہے۔ جہاں تک دیرپا اثرات کا تعلق ہے یہ آپ یا میں یا کوئی تیسراطے نہیں کرسکتا ، یہ اثرات بہت غیر محسوس طریقے سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس کا تعلق کتاب یا تحریر کے تعلق سے قاری کےردعمل سے بھی ہے۔ ا ب یہ ردعمل کسی اعلیٰ فن پارے پر بھی آسکتا ہے یا سطحی قسم کے کام پر بھی۔ یہاں میرا خیال ہے کہ ہمیں کچھ چیزیں قاری کی صوابدید پر چھوڑ دینی چاہیے ، باقی جواچھا کام ہے اس کا فیصلہ وقت طے کرتا ہے کہ وه باقی رہے گا یا نہیں۔


حفیظ تبسم :ادب برائے زندگی کے نعرے کا بڑا چرچا رہا ہے بلکہ کچھ نہ کچھ آج بھی ہے ۔ کیا ادب کے ذریعے سماج کو بدلنے یا سماج پر اثرانداز ہونے کے امکانات ہوتے ہیں ؟


عطاءالرحمٰن خاکی :میری رائے میں ایک تخلیقی فن پاره اپنے باطن میں ان دونوں نظریات کے جوہر کو اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔ یعنی اس میں وه فنی پختگی ، پیشکش یا اظہار کی صورتیں بھی شامل ہوتی ہیں، جس سے قاری لطف اندوز ہوسکے اور ایک سطح پروه فن پاره زندگی سے بھی جڑا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی مان لیجئے کہ ایک افسانہ ہے، جس میں کرداروں کو تمثیلاً ، استعاراً یا علامتی معنوں میں اشیاء ، حیوانات و نباتات یا غیر مرئی چیزوں کے ذریعے دکھایا جارہا ہے، تب بھی اس افسانے کا بنیادی سروکار انسانی صورت حال ہی رہےگا۔ متن انسانی مسئلہ سے نبرد آزما ہوگا۔ بس پیشکش کا انداز جو ہے وه مختلف ہے۔جو زندگی کو براه راست نہیں بل کہ فکشی لوازمات میں ملفوف کرکے ظاہر کررہا ہے۔ اپنی اس بات کے تناظر میں آرویل کا انیمل فارم رکھ سکتا ہوں ۔ جہاں سوشیو پولیٹکل نظریات کو جانوروں کی تمثال کے ذریعے درشایا گیا ہے یا جیسے سید رفیق حسین کےزیاده تر افسانے ہیں ۔ہمارے یہاں یہ ہوا کہ اگر کوئی فکشنی متن براه راست مسئلہ پربات نہیں کررہا تھااسے معروضی تناظر میں دیکھنے کی کوشش نہیں کی گئی بل کہ اس قسم کے ادب کومرکزی دھارے سے ہی باہر کردیا گیا۔ اس لیے یہ دو الگ الگ نظریات یا نعرے جو ہیں، میری رائے میں ان کا وجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ادب میں نئے نظریات کا حامی ہوں کیوں کہ اس طریقہ کار سے نئے نظریات ادبی دھارے میں داخل ہوتے ہیں جس سے پیشکش کا ڈھنگ بھی بدلتا ہے، مکالمہ قائم ہوتا ہے اور نئی چیزیں سامنے آتی ہیں۔اگر مغرب کی بات کریں تو وہاں ڈاڈاازم، سرئیل ازم، تاثریت، جدیدیت، وجودیت ، علامت نگاری و تجرید نگاری اور مابعد جدیدیت کے بعد اب میٹا جدیدیت کی بات ہورہی ہےتو ایسی صورت میں ہمیں بھی ادب میں آنے والے نئےنظریات کے لیے دامن وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔


حفیظ تبسم :خاکی صاحب آپ نے اچھا یاد دلایا دنیائے ادب کی مختلف تحاریک کے متعلق ۔ اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کے علاوه دنیائے ادب کی دیگر تحاریک جیسے ڈاڈا ازم ، سریلسٹ یا وجودیت بھی کیوں اپنا اثر قائم نہیں کرسکیں ؟


عطاءالرحمٰن خاکی :ادبی تحاریک و رجحانات کا ایک سنہرا دور ہوتا ہے۔ وه اس دورانیے میں جو چند سالوں سے کئی دہائیوں پر محیط ہوسکتا ہے ، متحرک رہتی ہیں ۔ اپنے اثرات آرٹ، ادب ، ڈراما، تھئیٹر اور زندگی پر قائم کرتی ہیں اور پھر کسی نئے رجحان کی صورت اختیار کرلیتی ہیں یا معدوم ہوجاتی ہیں۔ جہاں تک ڈاڈازم کا تعلق ہے تو اس کے پیشرووں نے محض جمالیات کو حرف آخر مان کر اس رجحان کو کفن پہنا کر دفن کردیا تھا ، جب کہ سریلزم ایک باقاعده ادبی تحریک تھی۔ جس نے ادب، مصوری اور تھئیٹر پر اپنے اثرات قائم کیے اور اسی کی وجہ سے ہمارے پاس کافکا، شلز، موراکامی، نیرمسعود اور احمد علی جیسے فکشن نگار ہیں جنہوں نے اس تکنیک کو اپنے فکشن میں کامیابی سے برتا ہے۔اسی طرح وجودیت کے جو باقاعده مباحث تھے جو دوسری جنگ عظیم کے بعدسامنے آئے تو مغرب کےسامنے تو ایک بکھرا ہوا معاشره تھا ،لاکھوں لوگ اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے تھے، اس بکھراو نے فلسفیانہ تناظر میں خدا کی موجودگی اور اس موجودگی کے تحت انسانی آزادی اور فکر پر سوال قائم کیے۔ کیرکیگارد اس فلسفے کااولین پیشرو ہے، اور اس فلسفے کو بعد ازاں نطشے ، سارترے اور کامیو نے فکشن کی صورت آگے بڑھایا۔اردو میں بھی وجودی تناظر میں اچھے افسانے لکھے گئے ہیں اور وجودی تناظر اب بھی خال خال کسی کسی افسانے میں نظر آجاتا ہے۔ ترقی پسند ادب کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ منشور یا گروہی سیاست پر سوال قائم کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس زمانے میں جو ادب سامنے آیا وه معنی خیز تھا۔ جدیدیت کو ترقی پسندی کے مخالف تحریک سمجھا گیا حالاں کہ آپ دیکھیں انور سجاد، بلراج مینرا، سریندر پرکاش یہ لوگ روشن خیال تھے، بس یہ فکشن کو منشور کے تحت نہیں لکھ رہے تھے۔بالکل یہی معاملہ منٹو اور بیدی کا بھی تھا۔ کرشن چندر کا حال بھی آپ کے سامنے ہے۔ تو جہاں تک اثرات کی بات ہے وه شخصی ہوتے ہیں اور انفرادی سطح پر رجحانات اور تحاریک کے جو اثرات قائم ہوتے ہیں وه ادیبوں اور شاعروں کے ذہنی و نظریاتی وابستگی کی صورت میں زنده رہتے ہیں۔


حفیظ تبسم :اگر کوئی نقاد یا تجزیہ نگار اپنے تجزیے کی روشنی میں کسی مخصوص اسلوب میں لکھے گئے افسانے کی خوبیوں کو آشکار کرے تو کیا قارئین کی نظر میں اس افسانے کی قدرومنزلت بڑھ جاتی ہے؟ کیا اس تناظر میں آپ اپنے تخلیقی محرکات کو واضح کریں گے؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی :میری نظر میں نقاد تو بہت بعد میں آتا ہے۔ مجھے معنی کی سطح پر عموماً اس دکھ کو سہارنا پڑتا ہے کہ افسانہ کے مرکزی خیال تک رسائی نہیں ہو پائی۔ ایسا کم ہوتا ہے لیکن ہوتا ضرور ہے۔ اسد محمد خاں نے کیا خوب کہا ہے کہ فکشن میں دو جمع دو پانچ بھی ہوتے ہیں۔ تو میں بس دو جمع دوچار والا افسانہ کبھی لکھ نہیں سکا۔ میرا افسانہ مخصوص کیفیت کا افسانہ ہوتا ہے۔ وه تخلیقی کیفیت میں جو لکھتا ہوں ، اس کے اثرات کبھی مجھ پر بہت دیر تک قائم رہتے ہیں اور کبھی اس اثر سے نکل جاتا ہوں۔ لیکن افسانہ لکھنے کے لیے جو توجہ درکار ہوتی ہے، وه میں اسے فراہم کرتاضرور ہوں۔ جہاں تک افسانے کی معنویت والی بات ہے تو قاری ہی کسی افسانے کو درست معنی دیتا ہے۔ اب اگردوسری صورت جو ہے وه رد ہونے کی ہے تو وه بھی میں ہمیشہ تیار ہی رہتا ہوں کہ چلیے بسم الله۔ آپ نے اگر وقت نکال کر افسانہ پڑھ لیا ہے تومیں آپ کا مشکور ہوں۔ اس سے زیاده میں کر ہی کیا سکتا ہوں۔


حفیظ تبسم :آج کل اردو ادب میں مابعد جدیدیت کا رجحان طاری ہے ۔ غالب و میر کی شاعری ، پریم چند ، کرشن چندر ، منٹو کے فکشن کی پڑھت یا تنقید مابعد جدید ٹولز سے کی جا رہی ہے ۔ پرانی شراب کی بوتل پر نیا لیبل لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟

 
عطاءالرحمٰن خاکی: مابعد جدیدیت نے مہابیانیوں اورماقبل جدیدیت کے تمام نظریات کا انکار کرکے ادب کو تھیوریز کی مدد سے قرآت کرنے پر اصرار کیا اور اس طرح معنی کے نئے مفاہیم کی تلاش کی شروع ہوگئی۔ چنانچہ مابعد جدیدیت تناظر تکنیک ، ہیئت اور اسلوب کے روایتی تصورات کا انکارکرتے ہوئے متن کی تشکیل کو بالکل نئے عناصر پر قائم کرنے پر اصرار کرتا ہے۔اب یہ نئے عناصر کیا ہیں؟ کیا کوئی سانچہ وضع ہوگیا ہے، یا کوئی ایسا غیر مرئی یا مرئی ماڈل ہے جس کو سامنے رکھ کر ہم مابعدجدید فکشن لکھ سکتے ہیں؟ یہاں جو ہے مابعدجدید یت تناظر جو ہے بے حد مبہم ہوجاتا ہے ۔ آپ پچھلے ادبی نظریات اور سانچوں کو رد تو کررہے ہیں لیکن کوئی نیا سانچہ نہیں وضع کر رہے۔ معاملہ دو لخت ہوجاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اردو ادب میں موجوده نئی تنقیدی تھیوریز نے ماقبل جدیدیت ادب سے نئے مفاہیم کی تلاش کو اپنا مقصد بنالیا ہے اور میں سمجھتا ہوں آپ کا سوال بھی اسی تناظر میں ہے اور واقعی اس کے باوجود کہ نقاد کا حق ہے کہ وه اپنی مرضی سے ادبی متون کو تھیوریز کے تحت مطالعے میں لائے لیکن المیہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ نیا نہیں سامنے آرہا۔ترقی پسند ادب یا جدیدیت کے زیر اثرلکھے ادب کوآپ دیکھیں پھر بھی ایک سانچہ نظر آجاتا ہے ، ایک دائره ہے جو مکمل صورت میں سامنے آتا ہے۔ خواه وه اسلوب کی صورت میں ہو، مواد کی یا ہئیت کی صورت میں ہو یا پیشکش یا تکنیک کی صورت میں ہویا مقصد حیات ہو یا کسی فلسفے اور آدرش کے زمرے میں ہو۔ جب کہ مابعد جدیدیت تنقید کا جو معاملہ ہے وه تنقید برائے تنقید پر ہی قائم ہورہا ہے، جس سے ادب کو کوئی فائده پہنچتا نظر نہیں آرہا۔


حفیظ تبسم: خاکی صاحب آپ نے درست فرمایا ، پوسٹ ماڈرن تنقید پاکستانی اردو ادب میں  مفاہیم میں الجھاؤ کا سبب بن رہی ہے ۔ نقاد جو مصنف اور قاری کے درمیان پُل کا رول ادا کرتا تھا ، اب آرے کا کام کررہا ہے ۔ آپ کے خیال میں نقاد کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں ؟


عطاءالرحمٰن خاکی: یہاں مجھے لگتا ہے کہ ہم دونوں کو ہی دو منٹ کی خاموشی اختیار کرلینی چاہئیے۔ کیوں کہ یہ خاموشی عموماً کسی اہم شخصیت کی فوتگی یا عظیم سانحے کی یاد میں اختیار کی جاتی ہے۔


حفیظ تبسم: آپ کی افسانوی نثر میں شاعرانہ اسلوب ہوتا ہے ۔ شاعرانہ اسلوب آپ کا شعوری عمل ہے یا لاشعوری ؟


عطاءالرحمٰن خاکی :نثر میں جہاں تک شاعرانہ اسلوب کی بات ہے تو ایسا نہیں ہے، مجھے ایسا نہیں محسوس ہوتا۔ نثرمیں نظم جیسا لطف پیدا کیا جاسکتا ہے لیکن شاعری کی جو کلاسیکی شکل ہے، ان معنوں میں میرا مقصد تو نثر میں شعریت شامل کرنا نہیں ہوتا ۔شاعری میں خیال اہم ہوتا ہے، جب کہ فکشن میں تحریر کی مکمل قرآت سے جو نتیجہ اخذ ہورہا ہے وه اہم ہوتا ہے۔ اب اگر اشاره علامت اور استعارے یا تشبیہات پر ہے تو یہ شعری لوازمات ضرور ہیں، لیکن نثر نے بھی اس سے فائده اٹھایاہے اور میں بھی یہاں اس فرق کو سمجھتے ہوئے کہ شاعری میں جہاں لفظ اہم ہوتا ہے وہیں نثر میں مکمل فقرے اور جملے اور کہانی کے بہاو میں کیسے ایک استعاره، تشبیہ یا علامت کا استعمال کرکے معنویت پیدا کی جاسکتی ہے ۔ جس سے میں بھی فائده اٹھاتا ہوں۔ ہاں میں اسے شعریت کی بجائے تخلیقی اسلوب کے طور پر دیکھتا ہوں جوبہ ظاہر سپاٹ نہیں ہے اور روایت کے تناظر میں اس نے اپنا رشتہ ماضی اور تہذیب سے استوار کیا ہوا ہے۔

حفیظ تبسم: آپ علامتی افسانے کے قائل ہیں .زندگی کے کسی تجربے یا مشاہدے کو علامتی پیرائے میں تبدیل کرنے عمل کیسے ممکن ہے ؟

عطاءالرحمٰن خاکی : حفیظ صاحب بالکل ایسا ہی ہے۔ میں علامتی اسلوب کا قائل ہوں لیکن اسےحرف آخر نہیں سمجھتا۔ اب اس بات کی وضاحت کے لیے دیکھیں ترقی پسندافسانہ جو تھا وه منطق کا افسانہ تھا، اس میں ایک ابتدائیہ، وسطانیہ اور ایک اختتام ہوتا تھا اور کہانی کو خارج سے جوڑ کر حقیقت نگاری کی جاتی تھی۔اور خارج پر ہی اصرار بھی تھااور راست بیانیہ میں بڑے شاندار افسانے لکھے گئے۔ اب علامتی افسانہ جو ہے۔ وہاں خارج کے ساتھ ساتھ داخل بھی اتنا ہی اہم ہے۔ افسانہ نگار اس حقیقت یا خیال تک جس تک وه رسائی پاچکا ہے۔اسے براه راست پیش کرنے کی بجائےعلامتی پرت میں چھپا کر پیش کرتا ہے۔علامتی افسانہ تکنیک کا افسانہ ہےاور اگر میرے یہاں کہیں ابہام ہے تو وه شعوری نہیں ہے۔افسانے کا ہر قسم کا قاری موجود ہے۔ تو وہاں اس خیال تک زیاده تر قارئین کی رسائی ہو جاتی ہےاور کبھی کبھی ایسا نہیں بھی ہوتا۔ اب بطور مجموعی دیکھیں تو فکشن نگار کے ہنر پر منحصر ہے کہ وه جس حقیقت کو بیان کرنے کی کوشش کررہا ہے، اسلوب کو نبھاتے ہوئے تو کیا وه علامتی دائره بنُ پارہا ہے۔ کیا لغوی اور علامتی دونوں معنی وضع ہورہے ہیں۔ لغوی اور علامتی معنی شرط نہیں ہیں لیکن اگر دونوں دائرے اپنی جگہ مکمل ہوں تو ایسے افسانوں کی قرآت سے ایک تربیت یافتہ قاری زیاده لطف اٹھاتا ہے۔

حفیظ تبسم :تربیت یافتہ قاری کی بات ساٹھ ستر کی دہائی کے فکشن نگار بھی کرتے رہے ہیں اور یہ بات اس سے پہلے یا بعد میں کم ہی سنی گئی ہے ۔ قاری کی تربیت کیا ہوتی ہے اور قاری کی تربیت کون کرتا ہے ؟


عطاءالرحمٰن خاکی :بنیادی طور پر جب ایک ادبی تحریک یا رجحان آتا ہے تو اس پرانے اور نئےرجحان یا تحریک کے درمیان کا جو ٹرانزیشن پریڈ ہوتاہے۔ اسے عموماًنظر انداز کردیا جاتا ہے۔ یعنی جب ترقی پسند افسانہ لکھا جا رہا تھا تو یک دم جدیدیت کی تحریک بلند ہوگئی اور ابھی اس تحریک کی گرد بھی نہیں بیٹھنے پائی تھی کہ مابعد جدیدیت آپہنچی۔ تو ہوا یہ کہ ان سب کے درمیان اگر کسی کا نقصان ہوا تو وه قاری کا تھا اور یہ بھی ایک معاملہ ہے کہ جس طرح لکھت کے ٹولزادیب استعمال کرتے ہیں اسی طرح ادبی متون اور فکشن پڑھنے کے بھی ٹولز ہیں ۔ ہمارے لکھنے والوں نے چندایک فکشنی تکانیک یا طریقہ کار پر اکتفاء کرکے قاری کو فارمولا کہانی کا عادی بنایا، وہیں دوسری جانب قاری نے بھی خود کو نئے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ نہیں کیا۔ آج کا جو قاری ہے اس کے تعلق سے مجھے لگتا ہے وه خوب جانتا ہے ، سمجھتا ہے اور اس کی ذہنی سطح بھی بلند ہے۔ لیکن ٹرانزیشن پریڈ کے جو اثرات ادب کی سطح پر مرتب ہوئے تو وه بھی ایک مسئلہ ہے جس کو برابر ہونے میں کافی وقت لگے گا۔

حفیظ تبسم : خاکی صاحب !میں نے آپ کے کچھ افسانے پڑھ رکھے ہیں جن پر میں بات کرنا چاہوں گا ۔آپ کا افسانہ " انتظار " میں سماجی ناانصافی کی بات کی گئی ہے ۔ افسانے کے تینوں کردار لاشعور یا شعوری طور پر عیسیٰ ابن مریم کے منتظر ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا عیسیٰ سماجی ناانصافیوں کا خاتمہ کردے گا اور کوئی خود اس قابل بننے کی کوشش کیوں نہیں کرتا ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :حفیظ صاحب اب یہ افسانہ جو ہےتو یہ میٹا فکشن کی ایک کوشش تھی ۔ اس میں جو کہانی کا مرکزی کردار ہے بنیادی طور پر وه ایک حساس انسان ہے، دنیا کی بے ثباتی کو سمجھتا ہے، خود بھی قلم کار ہے لیکن اپنی تمام کوششوں کے باوجود وه اس مفہوم تک شائد رسائی پا چکا ہے ، جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ جبر و قدر کے ساتھ اس نے سماجی صورت حال کو ایک ناظر کی طرح قبول کرلیا ہے اور اب وه مکالمہ بھی کررہا ہے سمجھ بھی رہا ہے لیکن کچھ کر نہیں پارہا۔ تو یہ کچھ کر نہیں پانا اپنے آپ میں ایک کرب کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ جہاں وه آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے ، وقت آخر کا منتظر ہے تاکہ بساط سمٹے تو یہ مسئلہ حل ہو۔ غالب کے اس مصرعے کی مانند کہ ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔ تو یہ ہونے کا ادراک بھی میرے کردار کی زندگی کا جہنم بن جاتا ہےاوروه سب کچھ جانتے بوجھتے بھی سمجھ نہیں پارہا کہ اس مسئلے کو حل کس طرح کیا جائے۔باقی اس میں اور بھی چیزیں ہیں لیکن میں مختصراً ہی بات کرنے پراکتفاء کروں گا۔

حفیظ تبسم :میٹا فکشن مغربی فکشن نگاروں کے ہاں کافی دیکھنے میں ملتا ہے ، اردو ادب میں نہ ہونے کے برابر ۔۔۔ میٹا فکشن کیا ہوتا ہے ، آپ میٹا فکشن کو کیسے دیکھتے ہیں ؟

عطاءالرحمٰن خاکی: میٹا فکشن کی مثالیں اردو فکشن میں بھی مل جاتی ہیں، یہ کوئی نئی چیز نہیں۔ سریندر پرکاش نے پریم چند کے ہوری کو اپنے بجوکا میں استعمال کیا ، اسی طرح بن باس ١٩٨١ میں رامائن اور اس کے کرداروں کےتناظر میں ایک واقعہ بنا گیا ہے۔ یہ بھی میٹافکشن طریقہ کار کی ذیل میں آتا ہے یا انتظار حسین کے وه افسانے جن کی بنیاد اساطیری یا تاریخی کرداروں پر استوار کی گئی ہے وه بھی اس ذیل میں رکھے جاسکتے ہیں، جہاں ہم جانتے ہیں کہ ان کی بنیاد اصل نہیں، اور میٹا فکشن لکھنے والے کا منشاء بھی یہی ہوتا ہے کہ وه پڑھنے والے کو عموماباور کراتا ہے کہ یہ جو کردار ہیں یا سچوئیشن ہے یہ اصلی نہیں ہے۔ بلکہ فکشنی کام ہے۔ یہ ہوئی ایک صورت اسی طرح، پہلے سے موجود کسی تخلیقی کام کے کسی کردار کو یا اس تخلیقی کام کا جو خالق ہے اسے آپ فکشن میں بطور کردار متعارف کرادیتے ہیں یا جو کہانی چل رہی ہے اس کے اندر سے ہی ایک اور کہانی چلنے لگتی ہے جو کردار سنارہا ہے تو یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ یعنی ان کرداروں کی اپنی ایک کہانی ہے اور وه اپنی ناموجودیت سے بھی واقف ہیں یعنی وه جانتے ہیں کہ وه وجود نہیں رکھتے ، شائد ان کی کہانی بھی اصل نہیں ۔ اور یہاں لکھنے والا قاری کے لیے سوچنے کے لیے ایک دائره کھینچ دیتا ہے۔ کیا واقعی یہ کردار جو ہیں یا جو بات ہورہی ہے یہ حقیقت کے تناظر میں ہے یا نہیں ہے۔ تو یہ چند ایک طریقہ کار ہیں جو میرے علم میں ہیں۔

حفیظ تبسم :آپ کے افسانے " خواب نما "میں اقلیتی نسل کشی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بونے اقلیت ہیں اور لکڑ ہارا اکثریتی طبقے کا کارنده یا نمائنده کردار ہے۔ مگر لکڑہارے کا اپنا چہره بھی غائب ہو جاتا ہے ۔ کیا اس کہانی میں یہی فلسفہ بیان کیا گیا ہے کہ " ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے '' یا کچھ اور ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :یہ بھی ایک تناظر بن سکتا ہے، جو آپ نے پیش کیا۔ نسل کشی کے علاوه ایک دوسرا تناظر بھی بنتا ہے جوسماجی طبقات کو بھی زیر بحث لاتا ہے۔ بس آخری بات جوآپ نے کی ہے اس کے تعلق سے میں مختصراً کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ بنیادی طور پر ظلم پر خاموش رہنے والو کوبھی یہ افسانہ روشنی میں لارہا ہے۔ یعنی وه جو آخر میں کردار نیند سے جاگا ہے اور آئینے میں جاکر دیکھ رہا ہے تو جب وه دیکھتا ہے کہ اس کے بھی خدودخال نہیں رہے۔ تو یہ افسانہ بنیادی طور آئیڈنٹٹی کرائسز اور مائنورٹی ایکسپلائٹشین کا افسانہ ہے۔ جس میں وه آخر کا ر وه کردار بھی جومعاصر زمانے سے تعلق رکھتا ہے ، جو یا تو ظلم پر خاموشی کی وجہ سے یا پھر اکثریتی طبقے کے ایک فرد کی حیثیت سے اپنی شناخت کے مٹ جانے کا سبب بنتا ہے۔

حفیظ تبسم :آپ کا افسانہ " مٹی کا شاہکار "میں انسان کے ذہنی ارتقاء کی داستان ہے ۔ سوال یہ ہے کہ انسان ذہنی ارتقاء کب چاہتا ہے اور ایک فرد کا ارتقاء کسی معاشرے یا مخصوص طبقے کا ارتقاء ہوسکتا ہے ؟

عطاءالرحمٰن خاکی : اچھا اس افسانے کو آپ کی بات کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں، بالکل اس طریقے سے بھی افسانے سے جو معنی اخذ ہورہے ہیں وه مکمل ہیں۔اس افسانے کا جو پیٹرن ہے وه کنکریٹ نہیں ہے۔ اس وجہ سے معنی کشیدگی کے مزید امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور اسے اس طریقے سے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ جہاں انسانی جبلت اور پھر جبر و قدر بھی زیر بحث آرہا ہے۔ تو شائد ہم بہ طور انسان اپنی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔جہاں ہمارا ردعمل کچھ محرکات کے زیر اثر ہوتا ہے۔باوجود ہماری جبلی محدودیت کے۔ اب آپ کی ارتقا والی بات کو ادبی تناظر میں دیکھیں تو فرد کے ذہنی ارتقاء کی جو بات ہے وه عمل بہت غیر محسوس طریقے سےرونما ہوتا ہے۔ سارترے کا آخری انٹرویو مجھے یاد ہے جہاں اس نے ادب کے تئیں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ادب کے ذریعے فرد کی سطح پر جو بدلاو جنم لیتا ہے اس کی رفتار بے حد سست ہوتی ہے۔میں یہاں خود کو اس بات سے متفق پاتا ہوں ۔

حفیظ تبسم :علامتی اور تجریدی افسانہ نگاری کے دور میں بھی قاری کہانی سے بھٹک گیا تھا ۔ قاری کو تفہیم کے مسائل تھے مگر اس وقت کے افسانہ نگاروں نے اپنی روش )ہٹ دھرمی کہنا زیاده بہتر ہے ( نہیں بدلی۔ میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے؟ کیا قاری اور ادیب لازم و ملزوم نہیں ہیں ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :افسانے سے کہانی نہیں بل کہ بیانیے کا جو روایتی مروجہ طریقہ کار اور صورتیں تھیں ، اس سے انحراف کرتے ہوئے بیانیہ کی نئی صورتوں پر کام کیا گیا اور بیانیہ، اسلوب اور تکنیک کے تناظر میں نئی چیزیں سامنے آئیں ،اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا گیا کہ صاحب کہانی غائب ہوگئی اور قاری بھی افسانہ نہیں پڑھ رہا وغیره ۔ادبی تحریک جب ادبی منظر نامے میں داخل ہوتی ہیں تو اس میں اچھا برا ہر قسم کا کام سامنے آتا ہے۔اب یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ کیا جدیدیت سے قبل لکھا گیا تمام فکشن عظمت اور فنی پختگی کا حامل ہے، میں سمجھتا ہوں ماقبل جدیدیت زمانے میں بھی کمزور تحریریں لکھی جاتی رہی ہوں گی۔ جدیدیت کے تناظر میں بھی جن افسانوں کو تختہ مشق بناکر یہ تفہیم والا مفروضہ قائم کیا گیا ہےوه علامتی افسانے نہیں تھے۔ بلکہ تجریدی و تمثیلی افسانے کی بھی نہایت بھونڈی صورتیں تھیں۔ سریندر پرکاش، انتظار حسین،مرزا حامد بیگ،صغیر ملال، اسد محمد خاں ، انور خاں اور اقبال مجیدکے افسانوں میں سمجھتا ہوں یہ تفہیم والا مسئلہ پیش نہیں آتا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے فاروقی صاحب نے وہاں اور آغا صاحب نے یہاں جو سلسلہ شروع کیا تھا، اس تناظر میں جدیدافسانہ لکھنے کی شروعات پہلے ہوگئی اور جدیدیت اور علامت و تجرید نگاری کیا ہے اس تعلق سے مباحث و مکالمے کا جنم بعد میں ہوا۔اور یہ جو وقفہ تھا اس میں بھی آپ دیکھیں کہ جن لکھنے والو کا فطری اسلوب ہی علامتی تھا، ان ادیبوں کے افسانے مفہوم اور کرافٹنگ کے تناظر میں مکمل علامتی افسانے ہیں۔ وہاں کوئی پیچیدگی نہیں ہے، کوئی ابہام نہیں ہےیا ابہام ہے بھی تو وه ابہامِ اہمال نہیں ہے۔ دیکھیں ایک لکھنے والا قاری کے لیے کچھ آسانیاں فراہم ضرور کرسکتا ہے جو کرافٹنگ کے تناظر میں ہیں۔ لیکن کسی قلم کار کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ قاری سے بھی کچھ امیدیں وابستہ رکھنا عبث تو نہیں ہوگا۔ لکھنے والے تو ایمان داری سے میں سمجھتا ہوں لکھ رہے ہیں۔یہاں میں قاری کو ہی تھوڑا حوصلہ دیتے ہوئے کہوں گا کہ وه بھی حوصلہ بلند کرے۔ فکشن کی دنیا بے حد رنگین ہے۔ یہاں وه سب کچھ ہے جو وه پڑھنا چاہتا ہے اور وه بھی ہے جو اسے پڑھنا چاہیے ، یہاں دیکھیں میں ایک فرق قائم کررہا ہوں اور یہ جو دوسری قسم جو ہے نا یہ قدرے مشکل مرحلہ ہے دیکھیں کبھی نہ کبھی تو یہ فاصلہ سمٹے گا۔

حفیظ تبسم :آپ کی کہانیاں علامتی ہوتی ہیں مگر علامت کے اندر بھی علامتوں کا جال سا بچھا ہوتا ہے ۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ قاری الجھ جاتا ہوگا ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :میں نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ میں علامتی یا تجریدی افسانے لکھتاہوں۔ میں خود کو محض ایک معمولی افسانہ نگار کے طور پر دیکھتا ہوں۔ بھئی بنیادی طور پر تو لکھنے کے لیے ایک تجربہ یا خیال ہے، جو داخلی اور خارجی عناصر سے مل کرمتن کی صورت تشکیل پاتا ہے۔وہاں بہت سی چیزیں تو شعوری ہوتی ہیں لیکن بہت سی چیزیں بے حد لاشعوری اور میکانکی طریقے سے ہورہی ہوتی ہیں۔ توجہاں آپ نے جال والی بات کی تو ایسا شعوری طور پر نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ کہانی کا متن پیش کیوں کیا جارہاہے اور کس طریقے سے پیش کیا جارہا ہے ، وہاں میں سجھتا ہوں یہ دو سوال انتہائی اہم ہوتے ہیں اور اسلوب اس کے بعد آتا ہے۔تو یہاں میں عرض کررہا تھا کہ ہر تجربہ افسانے میں ڈھالنے لائق ہوتا بھی نہیں ہے۔ اب جہاں تک اسلوب کی بات ہے، آپ کی بات سے مجھے بھی محسوس ہوا کہ میرے افسانوں کا جو اسلوب ہےتوزیاده تر افسانوں میں وہاں علامت نگاری والا معاملہ ہے۔اب قاری کی جہاں تک بات ہے۔ اگر وه الجھ رہا ہے یا اسے کہانی پسند نہیں آرہی تو یہ اس کا حق ہےاوروه چاہے تو کہانی رد کردےاور ایسا ہوتا بھی ہے۔پھر بھی میں کوشش کرتا ہوں کہ افسانے کو بوجھل یا پہیلی نہیں بناوں اور کوئی نہ کوئی سرا رکھوں جس پر چلتے ہوئے قاری معاملے کی تہہ تک پہنچ جائے۔دیکھیں ایک لکھنے والا محض لکھ ہی سکتا ہے، کرافٹنگ کے تناظر میں کچھ آسانیاں تو پیداکی جاسکتی ہیں اس کے بعد کا معاملہ لکھنے والے کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔

حفیظ تبسم :اگر کہانی کی تہہ داری سے ایک علامت سامنے آئے یا کسی اور طرف اشاره ہو جو کہانی کی اوپری سطح سے یکسر مختلف ہو تو بھی قاری شاید نئے معنی تلاش کرلیتا ہے ۔ مگر اردو کے زیاده علامتی افسانوں میں ہر فقره یا پیراگراف ہی الگ علامت بناتا ہے ، قاری اس علامت کو کہانی کے اوور آل تناظر میں دیکھتا ہے تو اگلے فقرے ہا پیراگراف میں نئی علامت سامنے آجاتی ہے ۔ یعنی علامتوں کا جال سا بچھا ہوتا ہے ۔ اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے ؟

عطاءالرحمٰن خاکی: دیکھیں اس بات کو سمجھیں کہ علامت نگاری کا مقصد کیا ہے۔ میری نظر میں متن کو تہہ دار بنانے کا ایک طریقہ ہے۔یہاں میرا خیال ہے کہ آپ جس نظر سے علامت نگاری کو دیکھ رہے ہیں اور میں جس طریقے سے علامت کو دیکھتا ہوں اس میں مجھے فرق محسوس ہورہا ہے۔ اب ممکن ہے جسے آپ جال کہہ رہے ہیں وه جال ان معنوں میں نہیں ہے۔بل کہ وه فقرے یا جملے جنہیں آپ جال کہہ رہے ہیں بنیادی طور پر وه ایک حساس اور تربیت یافتہ قاری کو الجھن میں مبتلا کردیتے ہیں ، ان جملوں کا مقصد بھی یہی یہ ہوتا ہے کہ جن جملوں کو آپ روانی میں پڑھ رہے ہیں ، یہ ساده جملہ نہیں ہے، یعنی وه احساس کہ جملہ بہ ظاہر ساده ہے لیکن جو بات ہورہی ہے وه ساده یا یک جہتی بات نہیں ہےکوئی اور بات ہے تو یہ ایک طریقہ کار ہے جسے آپ کسی ہک کی طرح متن میں استعمال کرتے ہیں۔اب دیکھیں علامتی افسانے کوشعر کی مانند پڑھنے کی کوشش جاتی ہے۔ شاعری میں لفظی علامت استعمال ہوتی ہے وہیں افسانہ میں علامت کا جو تناظر ہے وه متن کی مکمل قرآت سے اخذ ہوتا ہے۔ متن کیا بات کررہاہے، اس سے اخذ ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں جملوں میں در آئے ہر تشتیہ اور استعارے کو بھی بدقسمتی سےعلامت کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جو میری نظرمیں درست طریقہ کارنہیں ہے۔ جب آپ راست بیانیہ افسانہ پڑھتے ہیں تو کیا ہر جملے یا فقرے سے نئے معنی کشید کرتے ہیں۔میرا خیال ہے آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ یہی معاملہ علامتی افسانہ کا بھی ہے۔علامتی افسانہ بھی مکمل قرآت مانگتا ہے اور مکمل قرآت سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہےاس سے ہی علامتی معنی قائم ہوتے ہیں۔ لیکن آپ نے جو فقره در فقره والا معاملہ بیان کیا وه عموماً تجریدی افسانے کا خاصہ ہے جہاں مجرد خیالات کو لفظی پیکر میں جب سمویا جاتا ہے تو وہاں ہر جملہ ایک نئی بات کرتا معلوم ہورہا ہوتا ہے۔ لیکن اچھا تجریدی افسانہ بھی اپنے کل میں وحدت کا حامل ہوتا ہے۔ جز میں بے شک وه بکھرا ہوا ہو اور یہ بکھراو ہی تجریدی افسانہ کا خاصہ ہے۔

حفیظ تبسم :آج کے افسانوں یا ناولوں میں کردار نگاری پر زیاده توجہ نہیں دی جاتی ۔ ایسا کوئی بھی کردار سامنے نہیں آسکا جو پریم چند کے ہوری ، کرشن چندر کے کالو بھنگی، منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ ، سوگندھی ، اسد محمد خان کی باسودے کی مریم کی طرح لازوال ہو جائے ، ادیب کی کردار نگاری پر توجہ نہ دینے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں ؟


عطاءالرحمٰن خاکی :افسانہ اگر اپنے کسی کردار کی وجہ سے یاد ره جائےتو یہ بہت اچھی بات ہے لیکن ایسا ہی ہو یہ ضروری نہیں ہے۔ آپ نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی بات کی، کالو بھنگی، سوگندھی اور باسودے کی مریم کی بات کی تو یہ تمام افسانے جو ہیں ، ان میں جو صورت حال دکھائی گئی ہے ، جو المیہ دکھایا گیا ہے اس وجہ سے وہاں کردار کی جو اہمیت ہے وه بڑھ جاتی ہے ۔یہ بھی آپ دیکھیں کہ ان تمام ادیبوں کے افسانوں کی تعداد کہیں زیاده ہے لیکن یادگار کرداروں کی تعداد کتنی ہے؟کردار نگاری افسانے کے دیگر اجزائے ترکیبی کی طرح ایک جز ہے۔ بھئی ہر زمانے میں لکھت اور پیشکش کا انداز تبدیل ہوتا ہے۔ اسی طرح اجزائے ترکیبی جو ہیں ان کی پیشکش کا انداز بھی بدلتا ہے۔ میری رائے میں تو فکشن میں بیانیہ کی صورت میں بات کیا ہورہی ہے وه اہم ہے۔ حفیظ صاحب اب آپ یا میں کہانیاں یا ناول کا مطالعہ کرتے ہیں توہمارا مقصد کیا کردار نگاری کا مطالعہ ہوتا ہے یا فکشن کا مطالعہ ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں آپ بھی فکشن کو فکشن کے تناظر میں ہی پڑھتے ہوں گے اور فکشن میں جو مجھے سب سے اہم معلوم ہوتا ہے وه یہ کہ اگر مثال کے طور پر وه ایک افسانہ ہے تو وه افسانہ کیا بات کر رہا ہے وه اہم ہے میرے لیے ۔ اگر روایتی تناظر میں کسی افسانے میں صیغہ واحد حاضر یا صیغہ واحد غائب راوی بھی ہے تو مجھے وه مسئلہ نہیں معلوم ہوتا۔مجھے اس سے الجھن محسوس نہیں ہوتی۔ میرے لیے جو ہے اچھا فکشن یا ناول جو ہے وه کردار نگاری سے مشروط اس طرح سے نہیں ہے، جیسا کہ عموماً سمجھا جاتا ہے۔ ہاں میں کردار نگاری کا قائل ضرور ہوں، لیکن ہر افسانہ روایتی تناظر میں کس شکل و صورت میں سامنے آرہا ہے اسے بھی دیکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔

حفیظ تبسم :آپ نے کچھ بین الاقوامی فکشن کے تراجم بھی کیے ہیں۔ ترجمہ نگاری کی طرف مائل ہونے کی کیا وجوہات تھیں ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :تراجم کا جو سلسلہ ہے یہ میرا شوق ہے۔میں انگریزی زبان میں ان معنوں میں رواں نہیں ہوں جس طرح اردومیں ہوں۔ لیکن پھر بھی کوشش تو کر ہی سکتا ہوں۔ اگر کوئی کتاب اچھی معلوم ہو اوراسے اردو کے قالب میں ڈھال سکوں تو کوشش ضرور کر لیتا ہوں لیکن یہ والا معاملہ جو ہے یہ مستقل نہیں ہے۔ یہ بس خود کو کسی نہ کسی صورت ادبی کام میں مصروف رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ موراکامی کا پیرس ریویو کے لیے دیے گئے طویل انٹرویو کو اردو میں ترجمہ کیا۔ اس کے علاوه بورخیس کی ایک کتاب ہے دا بک آف امیجنری بینگز اسے مکمل کیا) غیر مطبوعہ(، اس کے ساتھ ساتھ ایک پولش ادیب کی کہانیوں جس کا اردو میں اس سے قبل ترجمہ نہیں ہوا اور ایک چیک ناول نگار کےمختصر ناول کا ترجمہ کررہا ہوں۔ کیوں کہ افسانے بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہوتے ہیں اس لیے جب موقع ملتا ہے اور کچھ کرنے کے لیے نہیں ہو تب ہی ترجمہ پر آتا ہوں۔


حفیظ تبسم :ترجمہ نگاری میں کیا مسائل درپیش ہوتے ہیں ، کیا بتانا پسند کریں گے ؟


عطاءالرحمٰن خاکی :ترجمہ نگاری کا سب سے اہم مسئلہ تو ایک زبان کے خیال کو دوسری زبان میں منتقل کرنا ہے۔ اب اگر لفظی ترجمہ کی بات کی جائے تو لفظی ترجمہ کا مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ایک فقره انگریزی کی مناسبت سے تو درست معلوم ہورہا ہوتا ہے۔ لیکن اردو میں ترجمے کے بعد وه کیا مفہوم پیش کررہا ہے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے۔ اب ہمارے یہاں فقروں یا جملوں کا یا متن کا جو ترجمہ ہوتا ہے وه ہوتو جاتا ہے، لیکن متن میں اس جملے کے مفہوم پر دھیان نہیں دیاجاتا۔ جملوں کی ساخت میرے لیے بہت اہم ہے۔ تو میں کوشش کرتا ہوں کہ ترجمہ کرتے وقت اگر مفہوم ظاہر نہیں ہورہا تو اس میں جملے کی ساخت کو بھی دیکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ بے شک مفہوم کو جوں کا توں اردو میں لانے کے لیے اگر جملے کی ساخت تبدیل کرنا پڑے تو کردیتا ہوں۔ جون برجر کہتا ہے، زبان ایک جسم ہے، ایک زنده مخلوق اور اس مخلوق کا گھر جو ہے وه مہمل بھی ہے اور واضح بھی ہے اور وه ترجمے کے فن کو ایک سطح پرتخلیق قرار دیتا ہے اور لفظی ترجمے کے حق میں نہیں ہے۔ میں بھی یہی سمجھتا ہوں۔

 
حفیظ تبسم :میں معاصر فکشن میں ناول پڑھنے کا رجحان زیاده دیکھ رہا ہوں ۔ ناقدین بھی افسانے سے زیاده ناول پر بات کررہے ہیں ۔ افسانہ اپنی اثریت کھو بیٹھا ہے یا ناول میں کچھ نئے تجربات ، اسالیب یا موضوعات در آئے ہیں جو معاصر قاری کو متاثر کررہے ہیں ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :اگر کسی صنف کو زیاده لکھا جارہا ہے تو اسے رجحان کے تناظر میں تو یقیناً دیکھا جاسکتا ہے لیکن اسے خوش آئند بات قرار دینا میرا خیال ہے قدرے مختلف معاملہ ہوسکتا ہے۔ اب پاپولر فکشن ہو یا شاعری کا معاملہ ہو یا افسانے کا تو آپ کے سامنے ہے۔ اب کیا اس صورت میں کسی صنف کو رجحان کے تناظر میں رکھتے ہیں تو یوں پچھلی صدی قدرے مبالغے کے ساتھ شاعری اورافسانے کی صدی قرار دی جاسکتی ہے۔ میں کثرت کو اچھا نہیں سمجھتا یہ بات بھی میں واضح کرتا چلوں، یعنی اگر کوئی چیز کثرت سے لکھی جارہی ہے تو وه میری نظر میں کوئی قابل قدر بات نہیں ہے ۔ بل کہ اس کثرت میں سے کتنا اچھا کام سامنے آرہا ہے وه اہم ہے۔ ہاں ہر دہائی میں کوئی ایک صنف کا ٹرینڈ ضرور بدلتا ہے۔ تو میں سمجھتا ہوں ناول کے تعلق سے یہ پچھلی دو دہائیاں قابل ذکر رہی ہیں ۔ بہت اچھا کام سامنے آیا ہےاور اس تعلق سے جو تخلیقی و تنقیدی کام جو ہے وه بھی اہم ہے۔ میرا خیال ہے کسی زمانے میں جو معاملہ افسانے کا تھا وہی معاملہ ناول کا بھی ہوجائے گا ۔ اور جو لوگ ٹرینڈ کے تحت تنقید ی و تخلیقی کام کررہے ہیں تو ہمارے یہاں بھی خراب ناولوں اور سطحی تنقید کا ایک ڈھیر لگ جائے گا۔ جس میں سے اکا دکا ناول اور اکا دکا تنقیدی مضامین و کتب ہی قابل توجہ رہیں گے۔ لکھنے والا تو کبھی کبھار مین اسٹریم موضوعات و اصناف کا بھی چناو کرلیتا ہےلیکن اگر یہ مفروضہ مان لیا جائے کہ افسانہ پر توجہ کم ہےتو یہ کوئی مسئلے والی بات نہیں معلوم ہورہی،بل کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ جو افسانہ لکھا جارہا ہے، اس میں کتنے قابل ذکر افسانے سامنے آرہے ہیں۔ کیا نئی بات ہورہی ہے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ افسانہ جو آج لکھا جارہا ہے ، اس میں بھی اچھا کام سامنے آرہا ہے۔

حفیظ تبسم :آج جو افسانہ لکھا جا رہا ہے وه ہمیں متاثر نہیں پاتا جیسے ہمارا کلاسیکی افسانہ یا اس کے بعد غلام عباس، سریندر پرکاش ، الیاس احمد گدی وغیره کے افسانوں نے دیرپا اثرات مرتب کیے۔ اب اگر پہلی قرات میں کوئی افسانہ متاثر کرتا بھی ہے تو دوسرے پل اپنی اثریت کیوں کھو دیتا ہے ؟

عطاءالرحمٰن خاکی: اصل میں مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افسانہ جس غوروفکر کا متقاضی ہوتا ہے۔ وه توجہ شائد آج کے وقتوں میں ناپید ہے۔ یعنی غوروفکر اسرار کے معنوں میں نہیں بل کہ ان معنوں میں کہ افسانہ تو پڑھ لیا لیکن ہم نے اسے کسی خبر، انشائیے یا مضمون کی مانند پڑھا اوراس پر غوروفکر نہیں کیا۔ اب نفسیاتی تناظر میں بات کی جائے تو کلیکٹو میموری جو ہے وه بے حد مختصر ہوتی ہے۔ پڑھنے والے زیاده دیر تک کسی ایک تحریر کےزیر اثر نہیں رہتےاور اس تحریر کی بجائے مصروفیتِ دیگر یا کوئی دوسری تحریر ذہنی سطح پر اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ تو یہاں میں سمجھتا ہوں کہ جو تیز رفتار زندگی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وقت گزارنے کے جو ذرائع ہیں ان کی وجہ سے باوجود اس کے کہ اچھا فکشن لکھا جا رہا ہے لیکن اس کے اثرات قاری کے ذہن میں بہت عرصہ تک قائم نہیں ره پاتے ۔افسانہ کی جہاں تک بات ہے ایک اچھا افسانہ متعدد قرآت کا متقاضی ہوتا ہے، جب آپ کسی تحریر کو بار بار پڑھتے ہیں تو وه اپنی ہئیت اور اس ہئیت میں تراشا گیا متن اور اس متن میں چھپی فنکاری نظر آنے لگتی ہے۔تو افسانہ چاہے جس اسلوب یا تکنیک میں ہو، اگر اس کی قرآت ایک سے زیاده بار کی جائے تو بہت سی چیزیں عیاں ہوکر قاری کو لطف عطا کرتی ہیں اور یہ بھی ایک صورت ہے جس کے تعلق سے افسانہ تادیر قاری کے ذہن میں زنده رہتا ہے۔ اب یہاں فکشن نگار کی بھی لکھنے کے علاوه ایک ذمہ داری تو یہ بنتی ہے کہ کوئی نئی بات کرے۔ وہیں قاری جو چیز مطالعے میں لارہا ہے، وہاں یہ بھی دیکھنا ہےکہ فہم کی جو سطح ہے وه ہر قاری کی مختلف ہوتی ہے۔ تو یہاں میں محض فہم نہیں بل کہ ذوق کو بھی پیش نظر رکھوں گا۔ اس وجہ سے بعض اوقات بہت اچھی تحاریر کے تعلق سے دو متضاد رویے ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ جہاں ایک جانب یہ کہا جارہا ہوتا ہے کہ فلاں تحریر ایک شاہکار ہے ، وہیں دوسری جانب اسی تحریر کو رد بھی کیا جارہا ہوتا ہے۔

حفیظ تبسم :آپ کے خیال میں افسانہ ، ناولٹ اور ناول میں کیا فرق ہوتا ہے ؟ کیا اس سلسلے میں کوئی پیرامیٹر واضح کیا گیا ہے یا فیصلہ ضخامت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

عطاءالرحمٰن خاکی :ہمارے یہاں ناول کی اصطلاح مختصر وطویل دونوں قسم کے ناولوں کے لیے رائج رہی، بعد ازاں اس اصطلاح کو ضخامت اور لفظی تعداد کے تناظر میں برتا جانے لگا۔ اصل بحث تو میں سمجھتا ہوں کہ طویل افسانہ اور نوویلا کے فرق کی ہے۔ اب مثال کے طور پرسید محمد اشرف کا نمبر دار کا نیلاکو عموماً نوویلا کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے،وہیں صغیر ملال کا نابود جو ہے اسے ناول کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جب کہ پہلے کو طویل افسانہ اور آخری الذکر کو نوویلا کے تناظر میں دیکھیں تو ایک سطح پر دونوں تعریفیں درست معلوم ہورہی ہیں اور معاملہ ہے بھی یہی۔ ایک بحث کی تھی حلقہ ارباب ذوق کراچی کی ایک نشست میں، وہاں جب یہ معاملہ پیش آیا کہ صنف کو صاحب اس تعلق سے سمجھیں جس تناظر میں اسے پیش کیا جارہا ہے یا اسے اس طریقے سے دیکھیں جو اس کا تناظر بن رہا ہے۔ تو معاملہ جو ہے وه اس بات پر اکثریتی رائے سے طے پایا کہ تخلیق کارجو ہے اس کی رائے کا احترام کیا گیا اور اس نے جو تخلیق جس صنف کےتحت پیش کی اس تناظر میں ہی بعد ازاں اس کا تجزیہ اور تنقید ہوئی۔ بہرحال مغرب میں ناول کا پیمانہ الفاظ اور ضخامت ہی ہے اور میں ناول اور اس کی ذیلی اصناف کو لفظی تعداد اور ضخامت کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔

حفیظ تبسم : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ افسانہ بالخصوص مائیکرو فکشن ، فلیش فکشن  اور نثری نظم کی سرحدیں بہت قریب آ رہی ہیں ۔ آپ کیا کہتے ہیں ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :فلیش ہمارے یہاں بہ طور صنف نہیں بل کہ تکنیک کے طور پر صنف افسانہ اور افسانچہ میں مروج رہا ہے۔ جب کہ مائیکرو فکشن کی جہاں تک بات ہے ۔مائیکرو فکشن کا فطری اسلوب علامتی ہے۔ یہی ایک اکائی ہے جس کی بنیاد پر آپ افسانچے کو مائیکروفکشن سے جدا کرسکتے ہیں اور یہی اکائی جو ہے وه مائیکروفکشن اور نثری نظم کو جدا کرتی ہے۔ کیوں کہ نثر ی نظم کا جو آہنگ ہے وہاں شعریت پیدا کرنے کے لیے اسلوب کا علامتی ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ اب اختصار کی بات کریں تو بھئی مختصر تو لطیفہ بھی ہوتا ہے کیا اسے مائیکرو فکشن کہنے لگیں؟ یقیناً یہاں آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ اسی طرح کچھ پیمانے طے کیے ، لفظی حدود بھی تھیں لیکن علامتی اسلوب کے تناظر میں رکھنے سے معاملہ جو تھا وه بالکل ایک مختلف شکل اختیار کرگیا۔ مغرب میں پروس پوئم اور مائکروفکشن بہ طوردو مختلف اصناف رائج ہیں۔ لیکن وہاں نثر و نظم کی سرحدیں ملتی نہیں ۔ لیکن ہمارا جو تہذیبی و ادبی ورثہ ہے وہاں نثر و نظم بے حد قربت اختیار کرلیتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ یہ بھی دیکھیں کہ فکشنی تناظر میں ہمارے یہاں افسانچے کی اصطلاح مستعمل ہے ۔اب یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مائیکروفکشن کہنا ہی کیوں ضروری ہے اگر افسانچہ کی روایت پہلے سے موجود ہے۔ تو یہ جو سلسلہ تھا یہ فیصل سعید ضرغامؔ نے شروع کیا ، میری بھی شمولیت رہی۔ اور گرداب فورم کی صورت میں ہم نے مائیکرو فکشن کو ایک صنف کے طور پر ہی آگے نہیں بڑھایا بل کہ اس کے خدوخال واضح کرنے کی کوشش کی ۔ اب ممکن ہے آپ بھی شائد علامچہ والی اصطلاح سے متفق نہ ہوں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ تو ہم نے علامچہ کے کچھ اصول وضع کیے تاکہ یہ صنف نثری نظم اور افسانچے سے ایک مختلف صنف کے طور پر پڑھی اورسمجھی جاسکے۔ بہرحال وه پورا ایک قضیہ ہے۔ لیکن مختصراً جواب بن تو گیا ہے۔ گرداب کا احوال پھر کبھی سہی۔

حفیظ تبسم :آپ بہت عرصے سے لکھ رہے ہیں ۔ مجھے علم ہے کہ آپ کے پاس کافی کہانیاں جمع ہو گئی ہیں ۔ کیا کتاب چھپوانے کا حوصلہ نہیں ہے یا کچھ دیگر وجوہات ہیں ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :کہانیاں تو واقعی میں اتنی ہیں کہ ایک کتاب تو آرام سے چھاپی جاسکتی ہے۔ کچھ اپنے تخلیق مسائل اور کچھ مالی مسائل کی وجہ سے میں ابھی تک کتاب شائع نہیں کرسکا۔ تخلیقی مسائل سے تو آپ نپٹ ہی لیتے ہیں۔ جس دن ایسا کوئی پبلشر مل گیا جو بناء رقم لیے کتاب چھاپ دے یا اتنے وسائل پیدا ہوگئے کہ خود کتاب چھاپ سکوں تو کتاب ضرور منظر عام پر آجائےگی۔

حفیظ تبسم :ایسا کوئی ناول یا افسانہ جسے پڑھ کر آپ اپنی ذات کے ساتھ ایسوسی ایٹ کر پائے ہوں ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :ہر اچھی کتاب کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ آپ خود کو اس کتاب سے جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس کے لیے فکشن ، نان فکشن ، شاعری یاتنقید کی تخصیص نہیں۔ مجھے ہر وه کتاب دلچسپ معلوم ہوتی ہے جو مجھے حال سے کاٹ کر اس طلسمی دنیا میں پہنچادے جہاں وقت گزرنے کا احساس معدوم ہوجاتا ہے۔ محض وه آواز جوکتاب پڑھتے وقت آپ کے ذہن میں گونجتی ہے، صرف وه ہوتی ہے اور کتاب کا متن اور آپ۔ یہ تجربہ مجھے بے حد خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔

حفیظ تبسم :آپ کے افسانوں کا ایسا کوئی کردار جو آپ خود ہوں ؟

عطاءالرحمٰن خاکی: ہر کردار تو میں نہیں ہوتا، لیکن ہر کردار میری شخصیت اور ذہن کا عکس ضرور ہوتا ہے۔کوئی چاہے تو ان کرداروں میں لکھنے والے کو تلاش کرسکتا ہے۔ انسان حقیقی زندگی میں بہت کچھ کہتا ہے، کرتا ہے لیکن لکھتے وقت وه جو تنہائی ہوتی ہے ، اس تنہائی کے گرداب سے آپ کے خیالات،نظریہ حیات، فلسفہ و آدرش سب کچھ مجسم ہوکر متن یا کردار کی صورت اختیار کرلیتے ہیں ۔ تو آپ محض کہانی نہیں، بل کہ کسی انسان کا کچھ بھی لکھا ہوا پڑھ کر اندازه لگا سکتے ہیں کہ وه انسان جو ہے ، وه کس قسم کا انسان ہے۔ ویسے میرا پسندیده جوکردار ہے وه سنہرا پرنده ہےاور خواب نما کا جو بے چہره انسان اور بونے ہیں، میں خود کو ان سے بے حد قریب پاتا ہوں۔


حفیظ تبسم :ادب اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اس نہج سے فکشن زندگی کو سمجھنے میں کیا رول ادا کرسکتا ہے ۔ بالخصوص آپ کے افسانے تفہیم حیات میں کتنی مدد کرسکتے ہیں ؟


عطاءالرحمٰن خاکی :ادب اور زندگی کا واقعی چولی دامن کا ساتھ ہے اور ایک لکھنے والا زندگی کو جب ایک تخلیق کار کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس دیکھے ہوئے کو جب فکشن کی صورت ڈھالتا ہے ،تب وه زندگی کو اس صورت میں نہیں دکھاتا جیسی وه ہے، بل کہ وه اس حقیقت کے دروں میں اتر کر اس بات کی خبر لاتا ہے جو بہ ظاہر ایک عام آنکھ سےاوجھل ہے۔تب حقیقت یا تجربہ جو ہے وه اپنے اصل معنوں میں محض حقیقت نہیں رہتا۔ جہاں تک کہانیوں کی بات ہے ، اگر کہانیاں نہیں ہوتیں تو زندگی ہمارے لیے اتنی ناقابل برداشت ہوتی کہ شاید ہم زندگی کے مخالف عنصر کو قبول کرلیتے، ہار مان لیتے۔ تو افسانہ ہو یا کہانی یا فکشن کی جو بھی صورت ہو وه آپ کو ہر صورت میں ایسی حقیقت تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتاہے جیسے آپ بھی منطق الطیر کے سی مرغ ہوں۔ بس اس فرق کے ساتھ کہ آپ آئینے سے پرده ہٹا چکے ہیں اور وہاں کچھ نہیں ہے۔آپ کا عکس بھی نہیں اورکہانی جو ہے وه اس کچھ نہیں کو اس نتھنگنس کو قابل برداشت بناتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہی حقیقت ہے، جب آپ سمجھ جاتے ہیں کہ آئینہ بھی محض ایک پڑاو تھا اور آپ واپس اپنی ہمت جٹا تے ہیں اور اپنے نادیده پروں کو تولتے ہوئے پھر ایک جست لگاتے ہیں ، سفر پر نکلتے ہیں ، جب کہ وہیں کچھ پرندے ہار مان لیتے ہیں اوراس حقیقت کو قبول کرلیتے ہیں۔ تو یہ دونوں صورت حال میرے افسانوں میں آتی ہے۔ تو حقیقت کا یہ جو ادراک ہے اسے میں نے لکھتے ہوئےہی سمجھا ۔ میرے زیاده تر افسانوں میں آپ کو دونوں تناظر مل جائیں گے۔

حفیظ تبسم: آگر آپ کو نوبیل کمیٹی میں نامزدگی کا اختیار ہو تو اردو کے کس ادیب کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کریں گے ؟

عطاءالرحمٰن خاکی :بھئی جو محبت اور خلوص اردو زبان کےادیبوں کو قارئین ، نقاد و معاصرین قلم کاروں کی جانب سے ملتا ہے۔ اس تناظر میں سمجھتا ہوں نوبیل انعام بھی کم پڑ جائے۔میرے بس میں ہوتا تو میں مرزا اطہر بیگ کا ضرورنامزد کرتا۔ اسد محمد خاں اورمستنصر حسین تارڑ کو بھی اس فہرست میں یقیناً جگہ ملتی۔