عالمی فکشن میں بعض متون ایسے ہیں جن کی شہرت ان کی تفہیم سے کہیں زیادہ وسیع ہو جاتی ہے۔ فرانز کافکا کا میٹا مورفوسس بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اسے عموماً ایک ایسے شخص کی کہانی سمجھا جاتا ہے جو ایک صبح بیدار ہو کر خود کو ایک دیوہیکل کیڑے کی صورت میں پاتا ہے۔ مگر کافکا کا مسئلہ نہ وہ کیڑا ہے اور نہ یہ پراسرار تبدیلی۔ یہ تو محض ایک تخلیقی صورتِ حال ہے جس کے ذریعے وہ انسان کی حیثیت پر سوال اٹھاتا ہے۔میٹا مورفوسس کو اکثر علامتی افسانہ کہہ کر پڑھا جاتا ہے، حالانکہ اصل سوال یہ ہے کہ گریگور سامسا کے کیڑا بن جانے سے کیا تبدیل ہوتا ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً کچھ بھی نہیں۔
گریگور پہلے بھی ایک ایسی زندگی گزار رہا تھا جس میں اس کی شناخت اس کی ذات سے نہیں بلکہ اس کردار سے وابستہ تھی جو وہ گھر کے لیے ادا کرتا تھا۔ وہ کمانے والا فرد تھا، خاندان کا سہارا تھا۔ جب وہ اس کردار کو نبھانے کے قابل نہیں رہتا تو کافکا کسی نئی حقیقت کو جنم نہیں دیتا بلکہ ایک پرانی حقیقت کو نمایاں کر دیتا ہے۔گریگور کے جسم میں تبدیلی ضرور آتی ہے، مگر اصل تبدیلی ان نگاہوں میں واقع ہوتی ہے جن سے لوگ اسے دیکھنے لگتے ہیں۔یہیں سے نوویلا کی معنویت کھلتی ہے۔ جب تک گریگور گھر کا بوجھ اٹھاتا ہے، اس کی موجودگی ضروری ہے۔ جونہی وہ اس قابل نہیں رہتا، اس کی حیثیت بدلنے لگتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ ایک انسان سے زیادہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے گریگور کے خاندان کو محض ظالم قرار دینا متن کو محدود کر دینا ہوگا۔ کافکا چند افراد کی سنگ دلی نہیں بلکہ اس صورتِ حال کو آشکار کرتا ہے جس میں انسان کی قدر اس کے وجود سے نہیں بلکہ اس کردار سے وابستہ ہو جاتی ہے جو وہ دوسروں کے لیے ادا کرتا ہے۔میٹا مورفوسس کا سب سے المناک پہلو بھی یہی ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ گریگور کیڑا بن جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کی نگاہ میں آہستہ آہستہ غیر ضروری شے میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔کافکا کے ہاں بیگانگی کا مسئلہ بھی اسی مقام پر گہرا ہوتا ہے۔ گریگور کے اندر انسانی شعور بدستور موجود ہے، مگر اب وہ اسے دوسروں تک منتقل نہیں کر سکتا۔ وہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے، خوف زدہ ہوتا ہے، مگر اس کی آواز دوسروں تک نہیں پہنچتی۔ شعور برقرار رہتا ہے، اظہار ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
شاید اسی لیے میٹا مورفوسس کو محض علامت، نفسیات یا سماجی تنقید کے دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس سوال کی تخلیقی تشکیل ہے کہ اگر آدمی سے وہ تمام شناختیں چھین لی جائیں جن کے ذریعے دنیا اسے پہچانتی ہے تو اس کے پاس کیا باقی رہ جاتا ہے؟
کافکا اس سوال کا جواب نہیں دیتا۔ وہ صرف گریگور سامسا کو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔
