دروازے پر دستک ہوئی۔میں نے کواڑ کھولا تو لکڑی کی پرانی درزوں سے مٹی جھڑی اور براہِ راست میرے پاوں کی انگلیوں میں دھنس گئی۔ سامنے بندر کھڑا تھا، مگر اس کے چہرے پر بندر کا نقاب اتنی صفائی سے چسپاں تھا کہ جہاں پلاسٹک ختم ہوتا تھا اور جہاں سے گوشت شروع ہوتا تھا، اس کا پتا لگانا محال تھا۔ اس کے ہاتھوں میں گُڑ کی ڈلیاں تھیں، جن پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔
’’پہچانا؟‘‘ ۔
اس کے عقب سے یک دم فضا میں آوازیں ابھریں، جیسے کسی پرانی مشین میں پھنسے ہوئے جملے ہوں ، جو بار بار اپنے آپ کو دہرا رہے ہوں۔ کچھ آوازیں نعرے بن کر ٹوٹ رہی تھیں، کچھ الفاظ بننے سے پہلے ہی بکھر جاتی تھیں۔ ’’جسم کا لبادہ ۔۔۔ پیٹ کا ایندھن۔۔۔ سر کی چھت۔۔۔ ‘‘ ایک آواز خالی برتن کی طرح بجی۔ ’’نظام بدلنے والا ہے۔۔۔ ‘‘ دوسری آواز درمیان میں رک گئی، جیسے سانس ہی ٹوٹ گیا ہو۔ ’’امانت۔۔۔ دیانت۔۔۔‘‘یہ جملہ دیر تک فضا میں لٹکا رہا، پھر خود ہی گرج کر خاموش ہو گیا۔ بندر کی آنکھوں میں چمک ابھری، جیسے وہ ان تمام نعروں کا وارث ہو۔ اس نے ایک عرضی میری طرف بڑھائی۔ میں نے کچھ نہیں کہا۔ میں نے بس اس آئینے کی طرف دیکھا جو بیٹھک کی نم آلود دیوار پر لٹکا تھا۔ آئینے کے پارے میں میرا چہرہ کسی مچھلی کی طرح تیر رہا تھا۔ میں نے اپنی قمیض کے بٹن کھول دیے۔جہاں پسینہ سینے کے بالوں میں رچ کر لیس دار تہہ بنا چکا تھااور اس کی پیش کردہ عرضی پر انگوٹھا لگادیا۔ سیاہی ٹھنڈی اور چپچپی تھی، جیسے کسی مردہ پرندے کا خون ہو۔
میدان میں خیمہ تن چکا تھا۔ خیمے کا کپڑا دبیز تھا، جس سے چھن کر آنے والی دھوپ کا رنگ بیمار کی رنگت جیسا زرد تھا۔ وہاں حبس اتنا تھا کہ سانس لینے پر پھیپھڑوں میں بھرتی گرم راکھ محسوس ہوتی تھی۔ خیمے کے فرش پر ریت بچھی تھی۔
تماشے کا آغاز عجیب تھا۔ ایک بوجھل آنکھ کسی جانور کی آنتوں سے بنی رسی پر لٹک رہی تھی، جس پر چربی کی جھلی اب بھی باقی تھی۔ وہ آنکھ لرزتی تو مجمعے کے ہونٹوں پر زبانیں پھرنے لگتیں اور میرے اپنے مسوڑھوں سے خون رسنے لگتا۔ ابھی لوگ اس لرزش کے سحر میں تھے کہ ایک دو منہ والا طوطا لایا گیا۔ ایک خالص اشتہاری پرندہ۔ اس کا ایک منہ سچائی کا راگ الاپتا اور دوسرا تماشائیوں کی جیبوں سے سکے نکال کر خیمے کے مالک کی جھولی میں ڈال دیتا۔ مجمعے نے اسے ہی اصل سچائی مانا اور تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ تالیوں کی ہر تھاپ کے ساتھ لگ رہا تھا جیسے میرا معدہ سکڑ کر سخت گرہ بنتا جا رہا ہے اور لیس دار مادہ میرے حلق سے اوپر کی طرف آ رہا ہے۔
کرتبوں کا یہ سلسلہ اب ہولناکی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اگلا تماشہ ایک بوڑھے ریچھ کا تھا، جس کے بدن سے بال جھڑ چکے تھے اور زخمی کھال پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اس کی ناک میں لوہے کی بھاری نتھنی تھی اور زنجیر اتنی زنگ آلود تھی کہ ہر کڑی سے بھورے رنگ کا برادہ گر رہا تھا۔بندر نے جیسے ہی ریچھ کی کمر پر چابک مارا، اس نے غرانے کے لیے اپنے وزنی جبڑے کھولے۔ مگر اندر دانت نہیں صرف گدلے مسوڑھے تھے ۔ یہ زوال دیکھ کر میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک خوفناک کڑاکا ہوا۔ آخری اور فیصلہ کن کرتب کے لیے بہروپیا اسٹیج پر آیا۔ اس نے میلا سا تہبند باندھ رکھا تھا اور اس کے ناخنوں میں مٹی بھری تھی۔ اس نے دیگ میں ہاتھ ڈالا اور وہ پرچیاں نکالیں جن پر ہم نے اپنے مہریں لگائی تھیں اور انہیں فضا میں اچھال دیا۔ وہ کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ انسانی چمڑی کے باریک ورق تھے، جن پر ہمارے ہی نام لکھے تھے۔
’’تمہارا حصہ!‘‘ بہروپیا چلایا۔ 
میں نے اپنا حصہ لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو دیکھا کہ میرا انگوٹھا سیاہی سے گل کر کالا ہو چکا ہے اور ناخنوں کے پوروں سے وہی مٹی ہڈیوں کے اندر تک دھنس گئی ہے۔ میرے ہاتھ اب عرضی پکڑنے کے قابل نہیں رہے تھے ۔ اچانک خیمے کی طنابیں ٹوٹنے لگیں اور بھاری کپڑا سروں پر گرنے لگا۔ میں جب خیمے سے باہر نکلا تو سورج ڈھل چکا تھا مگر تپش وہی تھی۔ میں گھر لوٹا اور آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ میرا چہرہ اب بھی میرا ہی تھا، مگر اس پر ایسی وحشت اور تھکن تھی،  جو ہزار برس کی مسافت کے بعد آتی ہےاور میرے ہونٹوں پر گُڑ کی وہی لیس دار مٹھاس تھی ۔برآمدے میں میرا بیٹا فرش پر بیٹھا میرے ہاتھوں سے ٹپکتی ہوئی سیاہی چاٹ رہا تھا۔ میں نے اسے روکنا چاہا، اسے پکارنا چاہا کہ یہ زہر ہے، مگر میرے حلق میں جیسے ریت بھر گئی تھی۔ صرف ایک گھٹی ہوئی سسکی نکلی جو برآمدے کی خاموشی میں گم ہو گئی۔ تماشہ ختم ہو چکا تھا، مگر ریت اب بھی میرے جوتوں کے اندر چبھ رہی تھی۔بالکل ویسے ہی جیسے کوئی ادھورا سوال گوشت میں پیوست رہ گیا ہو اور جس کا جواب اب میرے پاس نہیں تھا۔