اشاعت: جریدہ ادراک  نمبر ۱۸

اس نے دریا کو خود پر طنزیہ انداز میں مسکراتا دیکھ کر کہاتھا۔’’دریا کو سمتوں کی نہیں قطب نما کی ضرورت ہےاورساحل پر لیٹالکڑی کا تختہ دراصل ایک چرواہا ہے جس کے جانور نئے مالک کی تلاش میں بھٹک چکے  ہیں اور پرندوں کو اگر عینک کی دریافت کا علم ہوجاتا تب وہ روشنی سے چوندھیا کر اندھے ہونے کی مصیبت سے بچ جاتے اور الو واحد ایسا پرندہ ہے جس کا دھوپ کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ جب اس نے اپنی بات مکمل کی ، تب  تیز ہوا چلی اور آسمان بادلوں سےیوں خالی ہوگیا جیسے کسی بچے کے چہرے سےمسکراہٹ ۔اس نے جو اگلی بات کہی وہ پانی سے تعلق رکھتی تھی جس میں پانی کے ساتھ ساتھ بقیہ تین عناصر کا ذکر بھی سلیقے سے کیا گیا تھا۔ ‘‘
میں اسےتب سے جانتا ہوں جب وہ خود کو بھی نہیں جانتا تھا۔ اس کے انوکھے پن کی شروعات گملے کی مٹی کھانے سے ہوئی ۔ جب اس سے سوال کیا گیا تو اس نے کہا ’’ باہر کیڑے، اندر کیڑے، ہر طرف کیڑے‘‘۔ یہ کہتے وقت بھی اس کا جبڑا یوں مٹی کو پیستا تھا کہ مٹی کے اندر پوشیدہ کینچوے ایک سے دو اور پھر دو سے تین اور تین۔۔۔۔۔۔ میں ہوکر مٹی کا ہی جز بن جاتے۔ اس نے جو پہلا لفظ کہا وہ بھی مٹی سے متعلق تھا۔ لیکن وہ بیٹھنے اور نیند پوری کرنے کے لیے پختہ فرش کو ترجیح دیتا تھا۔ مٹی کے بعد اسے پانی سے عشق ہوا۔ اس کی شروعات تیراکی سے ہوئی اور جب دریا نے اسے اپنا دوست بنالیا اور خوب واقف ہوگیا تو اس نے کنارے بیٹھ کرپانی سے باتیں کرنا سیکھیں اور آبی جانور اس کی من پسند خوراک بن گئے۔ وہ  تلی ہوئی مچھلی کو ایک مگر مچھ کی مانند نگل جاتا اور ایسا کرتے وقت اس کے جبڑوں سے جو آواز ظاہر ہوتی ایسا معلوم ہوتا جیسے کوئی مچھلی کانٹے میں پھنسی ساحل پر رقص کررہی ہو۔ ایسے ہی کسی لمحے میں جب میں اس کے پاس اتفاق سے موجود تھا۔ تب اس نے کہا’’باہر پانی، اندر پانی، ہر طرف پانی ہی پانی‘‘۔ یہ کہتے وقت شائد اس کے حلق میں کانٹا چبھ گیا تھا ۔ اس کی آنکھ سے دو آنسو ٹپکےتھے ۔ جنہیں دیکھ کر وہ یوں مسرور ہوا جیسے نارسس اپنا عکس پانی میں دیکھ کر ہوتا تھا۔ اس کے بعد ہوا سے دوستی کاآغاز ہوا۔ ہوا سے پہلا تعلق  پتنگ کی صورت میں ہوا پھر کبوتر اس کا ساتھی بنا جو واپسی کا راستہ کبھی نہیں بھولتا۔ جب اس نے سائنسی علوم پر دسترس حاصل کی تب اس نے مجھے بتایا تھا کہ دراصل سب کچھ خلاء ہے۔ عدم محض ایک سراب ہے اور ہوا ہی سب سے بڑی حقیقت ہے جس کے سامنے عقاب بھی اپنی نظریں نیچی کرلیتا ہے مبادا وہ اسے کسی پہلوان کی مانند پٹخ ہی نہ دےاور جو آخری بات اس نے اس تعلق سے کہی تھی وہ یہ تھی کہ ہوا بھی دراصل ایک Illusion ہے اور اگر ایسا حقیقتاًہوتا تو بچے ماں کی ناڑ سے بندھے ہوئے نہیں پیدا ہوتے اور اگر ماں کی ناڑ سے بندھنا طے تھا۔ تب اس پر gravity  اثر انداز نہیں ہونا چاہیے تھی۔ 
آگ سے محبت کی کہانی کی شروعات شائد سب سے آخر میں ہوئی ۔ اسے آگ پسند نہیں تھی۔ لیکن جب اس نے مزدوروں کو آگ تاپتے دیکھا اور ان سے پوچھا آگ کا مطلب کیا ہے اور انہوں نے جب کہا ’’زندگی‘‘۔ تب اسے پہلی بار آگ کی معنویت کا احساس ہوا۔ اس نےپہلے  آگ سے محبت  کی اور پھر سگریٹ سے ۔ لائٹر سے نکلا شعلہ بھڑک کر رقص کرتا  اور سگریٹ میں زندگی کی لہر روشن ہوجاتی اور چند لمحوں بعد وہ سگریٹ موت سے مکالمہ کرنے کے لیے اپنا آپ ایش ٹرے کے حوالے کردیتی۔  لیکن جب ایک دن کمرے میں  آگ بھڑک اٹھی اور اس نے پانی کی مدد سے اسے بجھایا اور اس کے بعد آگ اور پانی کے ملاپ سے جنمے دھوئیں کے بخورات کو دیکھا تو کہا’’یہی سب سے بڑی حقیقت ہےاور زندگی بھی آگ کی مانند محض ایک Illusion ہے۔ ‘‘
اس نے دریا سے محبت کی۔ لکڑی کے اس تختے سے محبت کی اور ایک الو کو محض اس لیے پالا کہ وہ دھوپ کی صعوبتوں سے بچ جائے۔ اس نے پرندوں کے لیے نیک نیتی کے ساتھ عینک بنانے کی بھی کوشش کی لیکن وہ اس تجربے میں ناکام رہا ۔ اب وہ لکڑی کا تختہ اس کے تکیہ کا کام دیتا ہےاور اسے ایسے خواب نظر آتے ہیں جس میں متعدد جانور اپنے مالک کی تلاش میں بھٹک رہے ہوں۔ 
اس کی کہانی پیچیدہ نہیں تھی۔لیکن وہ مخاطب کے لیے ایسی مشکل ضرورکھڑی کردیتاہےجیسے کوئی شریر بچہ چاک سے کسی چیونٹی کے گرد دائرہ کھینچ دیتا ہے۔ اس کے بعد اس نے مختلف تجربات کیے اور چیزوں کو اس طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی جیسےکوئی شاعر  کوئی نئی دریافت کرے یا کسی سائنس دان پر آمد ہو اور وہ ایک نظم لکھے اور پھر یہ دونوں یعنی شاعر اور سائنس دان کی کہیں ملاقات ہو اور وہ اپنے اپنے ہنر کا تبادلہ کرلیں،  تب ایسی چیز کا ظہور ممکن ہےجو خیال اور حقیقت  کی سطح پر مچھلی اور جل پری دونوں معلوم ہو۔اس کی آخری محبت ایک قطب نما ثابت ہوا۔ جس کی سوئیاں عرصہ پہلے ساکت ہوچکی تھی۔ اس نے ایک دن کہا تھا کہ نارتھ پول اور ساوتھ پول  بھی کچھ نہیں محض نظر کا کھیل ہے اس کے بعد ایک گیت بھی گایا تھا ۔ جو ایسی دوشیزہ کے بارے میں تھا جو آئینے کی محبت میں مبتلا ہونے کے بعد اندھی ہوکر مر گئی۔ اس کے بعد وہ قطب نما بھی کھو گیا۔ لیکن وہ کھویا نہیں تھا ، بلکہ وہ اسے ایسی جگہ چھپاکر بھول چکا تھا جہاں اس کا بھی دھیان نہیں جاتا تھا۔ اس نے اپنی موت کی بابت  بھی پیشن گوئی کی تھی اور کہا تھا کہ جس دن مجھے یاد آگیا قطب نما کہاں رکھ کر بھول چکا ہوں بس وہی میرا آخری دن ہوگا۔
 اب وہ  صرف  پانی سے محبت کرتاہے، مٹی سے اب اسے الرجی ہے، آگ سے اسے الجھن محسوس ہوتی ہے اور ہوا اسے ان مرے ہوئے لوگوں کی یاد دلاتی جو اس کی زندگی میں اہم تھے ۔ تب اس نے دریا کو دیکھ کر کہا تھا’’تم خوش قسمت ہو اور آزاد ہو، بہنے کے لیے ، روندنے کے لیے اور ڈھانے کے لیے اور نمو کے لیے اور پیاس کو سیراب کرنے کے لیے اور خود کشی کے لیے۔ بالاخر ایک وقت آیا کہ پانی سے محبت میں کمی آگئی اور اس کی جگہ سوسائیڈ نوٹ نے لے لی اور وہ سوسائیڈ نوٹ ایک ایسے طلسم میں تبدیل ہوگیا جس کے دوسری جانب کچھ نہیں تھا۔میں نے اس سے یہ بھی کہا تھا کہ تم تھوڑے نہیں زیادہ مختلف ہو  اور اس نے مجھے کہا تھا کہ دراصل وہ بالکل نارمل ہے۔ مختلف تو بقیہ لوگ ہیں اور ایسا کہتے وقت اس کی آواز میں موجود تمسخر سے میرے اندر موجود ایک ایسی چیز کا جنم ہوا تھا جو آگ سے مشابہ تھی۔ اس سے بات کرنا آسان تھا ۔اس کی باتیں سننا صبر آزما اور اس کی باتیں سمجھنا ایک ایسی بھول بھلیاں جس کے ہر موڑ پر ایک ایسی رکاوٹ جس کوپار کرنا مشکل تھا ۔ لیکن وہ دلچسپ تھا اور نئی باتیں کرتا تھا ۔ میں نے خواہش کی تھی کہ کاش میں اس کی روح ہوتا ۔ تب شائد میں اسے سمجھ پاتا۔ جس پر اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ روح کے بارے میں جانتا ہے اوروہ محض اس تجربے میں جو بہت ذاتی نوعیت کا ہے کسی اور کو شریک نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے بھی کندھے اچکا دئیے تھے کہ کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن چند لمحوں بعد اپنے بازو پر چٹکی نوچ کر یہ ضرور جاننا چاہا تھا کہ میں وجود رکھتا بھی ہوں یا نہیں۔ 
ایک وقت آنے پر اس کے بالوں میں سفیدی،  بادلوں کی صورت سمٹ کر منتقل ہوگئی اور اس کے بعد اس کے الفاظ میں دھیرج اور وقار پیدا ہوگیا۔ لیکن اس کے باوجود میں جانتا تھا کہ وہ اندر سے ایک بچہ ہی ہے۔ ایسا بچہ جو کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ اس نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ دریا میں تیراکی کرتے وقت اس نے ایک جہاز دیکھا۔ ایک غیبی  ہاتھ اس جہاز کی شکل بدلنے میں مصروف تھا۔ پھر کئی سالوں بعد ایسے ہی ساحل کنارے اس نے واپس اس جہاز کو دیکھا جس کے اگلے حصے پر سمندری دیوتا کی شبیہ کندہ تھی اور اس جہاز کا سب کچھ تبدیل کیا جاچکا تھا۔ لیکن وہ ایک نظر میں پہچان گیا کہ یہ تو وہی جہاز ہے اور اس نے اس جہاز کو ایک نام دیا جو کسی دیوتا کے جہازکے نام پر تھا۔ اس نے ایک دن بتایا کہ وہ ضرور اس جہاز پر کسی دن پہونچے گا اور اس تغیر کو اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھے گا۔ لیکن باوجود کوشش کہ اسے وہ جہاز پھر کبھی نظر نہیں آیا البتہ دوسرے لوگوں کو وہ ضرور نظر آتا اور وہ جب اسے بتاتے کہ کیا کیا تبدیلیاں اس میں ہوچکی ہیں اور وہ کہتا کہ اس میں استعمال ہونے والی لکڑی کا ایک ایک ریشہ بدل دو تب بھی وہ  وہی رہے گا جو ہے۔ 
اس کے بعد اس کی ملاقات ایک بوڑھے سے ہوئی جو مستقبل کی پیشن گوئیاں کرتا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ جہاز اپنے کپتان کی تلاش میں ہے اور تمہیں ضرور اس جہاز تک پہنچنا چاہیےاور اس نے بوڑھے کی بات کو سنجیدگی سے لے لیا ۔ جب میں نے اسے آخری بار دیکھا ۔ تب وہ مرچکا تھا۔ اس کا جسم پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے پھول چکا تھا اور اس کی کھال بچے کی کھال کی مانند نرم و ملائم ہوچکی تھی اور اس کے خدو خال بگڑ کر ایسا روپ دھار چکے تھے جنہیں سوچ کر اچھا محسوس نہیں ہوتا ۔ اس کی دائیں ہاتھ کی مٹھی بند تھی ۔ جسے کھولنے پر اس کا پسندیدہ قطب نما پایا گیا جس کی پشت پر اس کا پسندیدہ جملہ کندہ تھا ۔
میں نے جب وہ الفاظ پڑھ ڈالے جو دریا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھے گئے تھے۔  تب مجھے دریا کی لہروں پر ڈولتا وہ جہاز نظر آیا جس پر اب ایک نئی شبیہ کندہ تھی اور اس کی صورت مکمل تبدیل ہوجانے کے باوجود کچھ نہیں بدلا تھا۔ میں نے وہ قطب نما جہاز کی جانب اچھال دیا ۔ اب مجھے یقین ہے دریا اپنی سمتوں کے تعین کرنے میں آزاد ہوگیا ہوگا اور وہ جہاز بھی شاید اب اپنے سوال کا جواب تلاش کرچکا ہو،  جہاں تک اس کی بات ہے جو اب مرچکا ہے۔ ممکن ہے وہ اب بھی دریا کنارے بیٹھا پانی سے باتیں کررہا ہو یا جہاز پر سوار ہوگیا ہو اور اب وہی اس جہاز کا کپتان ہو۔ لیکن یہ بس سوچا جاسکتا ہے۔ حتمی طور پر کچھ کہنا ناممکن ہے۔ لیکن اب ہوگا یہ کہ کیڑے اب اسے خوراک بنالیں گے،  اگر اس کا مردہ جسم نہیں ملتا تب وہ مچھلیاں جنہیں وہ کسی مگر مچھ کی مانند نگل جاتا تھا ، اسے نگل تو نہیں پائیں گی لیکن اس کے گوشت کو دھیرے دھیرے کھاجائیں گی ۔ تب اس کا جسم ہڈیوں میں تبدیل ہوجائے گا اور ایک وقت آنے پر مٹی میں۔ محض ہوا ہے جو اسے کبھی تلاش نہیں کر پائے گی۔ اسے ہوا سے دوستی کرنی چاہیے تھی۔ جب اس کو دفنادیا گیا۔ تب ہوا کی لہروں پر جہاز سے اٹھنے والی گنگناہٹ میرے کانوں نے سنی۔ کوئی گارہا ہے۔ تم خوش قسمت ہو اور آزاد ہو، بہنے کے لیے ، روندنے کے لیے اور ڈھانے کے لیے اور نمو کے لیے اور پیاس کو سیراب کرنے کے لیے اور خود کشی کے لیےاور یہی سب سے بڑی حقیقیت ہے۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اس کے مردہ جسم کی بجائے قطب نما کو زمین میں دفنانا زیادہ پسند کرتا۔