اناالحق
عطاءالرحمٰن خاکی ؔ
میرے پاس آج لکھنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
میں ایک قلم اور سوچ کے ساتھ
مراقبہ کرتا ہوں
ایک نیم پختہ خیال کا جنم ہوتا ہے
کچھ چیزیں بے حد واضح ہیں
جیسے موت، بھوک اور دیوار میں ٹھکی خالی زنگ آلود کیل
میں دوبارہ آسن جماکر سانس روکتا ہوں
دوسرے چکرا پر دھیان لگاتا ہوں
جو ناف کے نیچے ہوتا ہے
اور جس کے درمیان صرف ہوا اور پانی
پڑاو ڈالے بیٹھے ہیں
میں کوشش کرتا ہوں
لیکن خالی پیٹ کی آوازیں
خیالات کو دھندلادیتی ہیں
اور بھوک الفاظ کو نگل جاتی ہے
تب مجھے یاد آتا ہے
اندریاں، من اور بدھی
اس بھوک کی رہنے کی جگہ ہیں
اور جاندار کے حقیقی گیان کو چھپادیتی ہے
اور اسے الجھن میں ڈال دیتی ہے
جس طرح آگ دھوئیں سے
آئینہ مٹی سے
اسی طرح تخلیق کار بھی اپنی تخلیقی آگ سے پہچانا جاتا ہے
تب میں تن کر کھڑا ہوتا ہوں
قلم سے اناالحق لکھ کر ایک دائرہ کھینچتا ہوں
جو روشن ہے اور اٹھتی ہوئی آگ کی لپٹیں
اونچی اور لامحدود
جو پرلوک سے بھی نظر آرہی ہوگی
لیکن تب بھی کچھ نہیں ہوتا
ان لپٹوں میں کوئی نظم پو شیدہ نہیں ہے
نہ اس کی روشنی میں کوئی لفظ چھپا ہے
کاغذ خالی ہی رہتا ہے
یقیناً آج لکھنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے
اورتب میں قلم ایک طرف رکھ کر پرسکون ہوجاتا ہوں