اشاعت: سہ ماہی زیست، افسانہ نمبر، شمارہ نمبر ۱۷ میں انتظار کے نام سے شائع ہوا۔
ہم تینوں خاموش بیٹھے تھے۔ گول میز کے اوپر چمکتا سورج ساکت تھا۔ میرے ہاتھ میں دبا سگریٹ بھی کب کا بجھ چکا تھا، جسے بے خیالی میں ہونٹوں تک لے جا کر کھینچتا ہوں اور بد مزہ ہو کر بیرے کو اشارہ کر کے چائے لانے کا کہتا ہوں۔ نجانے ہم میں سے کس نے کہا تھا، ’’مزدوروں نے زنگ آلود زنجیریں اتار کر سنہری زنجیریں پہن لی ہیں‘‘، جس پر نقوی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تھا، ’’دیو جانس کلبی بھی تو جلتی شمع ہاتھ میں لیے بھری دھوپ میں انسان تلاش کرتا پھرتا تھا۔‘‘ اور میں نے کہا تھا، ’’کیا فرق پڑتا ہے؟ تلواریں بھی تو زنگ آلود ہو چکی ہیں‘‘، اور جیکب نے سرگوشی کی تھی، ’’لیکن صلیب پر جما خون ابھی بھی تازہ ہے۔‘‘
بے خیالی میں میری انگلیاں گلے میں پڑی زنجیر سے کھیلنے لگتیں اور چہرے پر ایک مسکراہٹ آ جاتی۔ ہر کسی کے نصیب میں ایک خاص لمحہ آتا ہے۔ میرے نصیب میں بھی وہ لمحہ آیا تھا۔ وہ اب نہیں ہے، لیکن اس کی ایک چیز میرے پاس موجود ہے۔ اُس کے گلے میں ہمیشہ ایک چین سے لپٹی صلیب پڑی رہتی تھی۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ یہ صلیب اپنے عیسیٰ کی منتظر ہے۔ اور اب میں اپنے گلے میں اس صلیب کو لٹکائے انتظار کر رہا ہوں۔ نقوی اکثر صلیب کی جانب اشارہ کر کے کہتا ہے، ’’مسیح کب آئیں گے؟‘‘ اس کے لہجے میں طنز کی بجائے بچوں جیسی سادگی ہوتی ہے۔ اور میں کہتا ہوں، ’’ابھی وقت ہے، صبر رکھو۔‘‘
خاموشی کے درمیان سگریٹ کا دھواں دھیمے سروں میں گنگناتا رہتا ہے۔ کہانی کے آوارہ پرندے بھی میرے کندھے پر بیٹھ کر اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں، لیکن میں انہیں اب کم وقت دیتا ہوں۔ پھر بھی وہ میرا ساتھ نہیں چھوڑتے اور جب میں ایسی ہی ایک خوش رنگ پرندے کی بولی سن کر خوش ہو رہا تھا، جیکب نے خاموشی سے اکتا کر اپنے دماغ کی اینٹ کے نیچے دبی ایک مورتی نکالی اور اسے صاف کرکے میز کے درمیان رکھ دیا۔
نقوی نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا، ’’ذرا اس مورتی کی پسلیاں تو دیکھو، کیا کمال کی کاریگری ہے۔‘‘
میں ایک انعام یافتہ تصویر کو برابر میں رکھ دیتا ہوں، جس میں پسلیوں سے بنی ایک بچی اور اس کی موت کا انتظار کرتا گدھ صاف نظر آ رہے ہیں۔
میں کہتا ہوں، ’’یہ زیادہ بہتر آرٹ ہے۔ پتھر سے بت تراشے جا سکتے ہیں، لیکن زندہ جسم کو اس طرح بھوکا رکھا جائے کہ جسم کی ایک ایک ہڈی کھال سے لپٹی نظر آنے لگے، یہ کہیں مشکل فن ہے۔‘‘
جیکب پوچھتا ہے، ’’اس بچی نے یہ فن کتنے دنوں میں سیکھا ہو گا؟‘‘
ہمارے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے۔
مورتی کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور جیکب کے چہرے پر دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔
مجھے جیکب کا جذباتی تغیر بالکل پسند نہیں۔ کیونکہ افسردگی کی حالت میں اس کا چہرہ تڑخ کر ایک آئینے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس میں ہر چیز ننگی نظر آنے لگتی ہے۔ مجھے عریانی بالکل پسند نہیں۔ اس لیے میں جانتا ہوں وہ اب کیسے ٹھیک ہو گا اور میں شاعری کا نادیدہ پانسہ میز کی سطح پر اچھال دیتا ہوں۔ ہمیشہ کی طرح جیکب آنکھیں بند کر کے پانسے اپنی مٹھی میں جکڑ لیتا ہے۔
اس کی خوابیدہ آنکھوں میں روشنی کی چمک لہراتی ہے
’’یار شاعری بھی کیا شے ہے،‘‘ وہ ہم سے دریافت کرتا ہے، اور پھر کہتا ہے، ’’کل ہی میں نے ایک نظم لکھی ہے۔‘‘ اور اس سے پہلے کہ ہم کچھ کہتے، جیکب آںکھوں پر عینک ٹکا لیتا ہے، کرسی پر ایک پاؤں رکھ کر سگریٹ کونیزے کی مانند ہاتھ میں تھام لیتا ہے اور نظم سنانے لگتا ہے۔ جب نظم ختم ہو جاتی ہے تو ہماری جانب داد طلب نظروں سے دیکھنے لگتا ہے۔ نقوی مسکرا رہا ہے، جو بنیادی طور پر کہانی کار ہے اور اسے بولنے سے زیادہ سننا پسند ہے۔ وہ سگریٹ انگلیوں میں دبائے سنتا رہے گا، لیکن جب بھی وہ بولتا ہے تو گویا تابوت میں آخری کیل ٹھوک دیتا ہے۔ اس وقت بھی یہی ہوا۔ اس نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا:
’’تم شاعروں کا یہی مسئلہ ہے کہ خیال کی لَے پر رقص بسمل کرتے رہتے ہو یا منصور کی مانند انا الحق کے نعرے لگاتے رہتے ہو۔ تمہاری نظم میں فلسفہ بھی ہے اور خیال بھی، لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
جس پر جیکب اسے رجعت پسند ہونے کا الزام لگاتا ہے اور قہقہوں کا طوفان نقوی کے اس تبصرے کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔ جیکب کہتا ہے: ’’یار، ایک بات بتاؤں؟‘‘ ہم سنبھل کر بیٹھ جاتے ہیں کیونکہ یہ اس کا خاص انداز ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ اس کے ذہن میں ایک خیال کا جنم ہو چکا ہے، جو ابھی نوزائیدہ ہے، لیکن وہ ہم سے اس خیال کو بانٹنا چاہتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ ہم اہم ہیں، بلکہ اکثر وہ اس خیال کی وقعت یا اثر پذیری کا تعین ہمارے تاثرات سے طے کرتا ہے۔ جب ہم سنبھل کر بیٹھ جاتے ہیں، تب وہ کہتا ہے:
’’پچھلے اتوار میں چرچ گیا تھا۔ میں عموماً چرچ نہیں جاتا، لیکن اس دن بس ایسے ہی چلا گیا۔ میں نے صلیب کی جانب دیکھا اور جانے نظروں کا دھوکا تھا یا حقیقت، مجھے وہاں میں ہی صلیب سے بندھا ہوا نظر آیا۔ میں نے غور سے دیکھا لیکن منظر نہیں بدلا، اور پچھلے ہفتے سے میں صلیب پر بندھا ہوا ہوں۔ اگر تم چاہو تو دیکھ سکتے ہو۔‘‘
جیکب نے کسی فاختہ کی مانند اپنے بازوؤں کو دائیں بائیں پھیلایا اور گردن چھاتی سے لگا لی۔
نقوی اور میں خاموش رہے۔ ہم میں سے کوئی کچھ نہ بولا۔ لیکن میں نے اپنے گلے میں پڑی صلیب کو تھام کر یہ ضرور سوچا تھا کہ جیکب کے لیے یہ کافی مختصر ہے۔
میں نقوی سے پوچھتا ہوں: ’’نقوی، تو نے کچھ لکھا؟‘‘
’’ہاں یار، دماغ کی ہنڈیا میں دھیمی دھیمی آنچ پر ہمیشہ کچھ نہ کچھ پکتا رہتا ہے، لیکن آج کل مجھ سے کچھ لکھا نہیں جا رہا اور خیال کا ایک ان دیکھا ہیولا میری ہر کہانی کے درمیان نمودار ہو جاتا ہے، اور میں مجبور ہو کر قلم واپس رکھ دیتا ہوں۔‘‘
’’لیکن ایک کہانی لکھی ہے، کیا سننا چاہو گے؟‘‘
’’ہاں ضرور۔‘‘
نقوی اپنی جیب سے موبائل نکالتا ہے، گلا کھنکار کر صاف کرتا ہے اور کہانی کی شروعات کر دیتا ہے۔
’’جب ڈاکوؤں نے بستی پر حملہ کیا تو انہوں نے مقدس کتابیں نہیں جلائیں، نہ درگاہوں اور عبادت گاہوں کو کوئی نقصان پہنچایا۔ اس کے بجائے انہوں نے نقشے جلا دئیے۔ انہوں نے کہا، ’’تمہارے نقشے سائے اور ظلمت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وہ پردے ہیں جن کے پیچھے کچھ بھی مضمر نہیں ہے۔ یہ نقشے بے شک روحانی، جادوانی اور انقلابی ہوں گے، لیکن ان کا مٹ جانا ہی ضروری ہے۔‘‘
نقوی سانس لینے کے لیے رکتا ہے۔
میں بے اختیار اپنا سگریٹ بجھا دیتا ہوں کہ کہیں میرا شمار بھی حملہ آوروں میں نہ ہو جائے۔
جیکب آنکھیں میچ کر وجد میں ہے۔ یہ اس کا طریقہ ہے کسی شعر یا کہانی سننے کا۔ میں نقوی کو دیکھنے لگتا ہوں اور وہ کہانی واپس سے شروع کر دیتا ہے۔
’’عینی شاہد نے جب یہ خبر دی کہ برگزیدہ لوگوں کے لیے اس سے زیادہ برا نہیں ہو سکتا اور یہ سن کر وہ گر گئے اور انہوں نے گریہ کیا۔ بستی کے ایک شخص نے ایک طویل خواب دیکھا، اس نے خود کو ایک بکری کے روپ میں دیکھا، جو بستی کے ایک بے آب و گیاہ ٹیلے پر کھڑی اپنے ہم زادوں کو ڈھونڈ رہی ہے۔ اتنے میں اچانک آسمان پر بادل گھر کر آتے ہیں اور بارش ہونے لگتی ہے۔ وہ خدا کی حمد و ثناء کرتی ہے اور بارش سے لطف اندوز ہوتی ہے اور زبان باہر نکال کر بارش کے ان قطروں کو جی بھر کر پیتی ہے۔ اچانک اسے محسوس ہوتا ہے کہ کچھ مختلف ہونے والا ہے، خواب میں موجود اس کا جسم ایک انجانے خوف سے لرزنے لگتا ہے، بال کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ بھاگنا چاہتی ہے لیکن بھاگ نہیں پاتی، زمین اس کے پاؤں تھام لیتی ہے۔ وہ اس بارش کے رنگ سے واقف ہے۔ رنگ کا احساس ہونے کے بعد وہ خوف زدہ ہو کر چلانا چاہتی ہے لیکن اس کی آواز اس کا ساتھ نہیں دیتی اور ممیاہٹ سے گھگھیاہٹ میں بدل جاتی ہے اور ٹھیک اسی وقت اسے دور سے شیر کے غرانے کی آواز سنائی دیتی ہے، جو لمحہ بہ لمحہ اس کے نزدیک ہوتی جاتی ہے اور شیر کی زوردار دھاڑ کے ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔‘‘
جیکب اچانک آنکھیں کھول کر دیکھتا ہے اور کہتا ہے، ’’زین العابدین کا ایک قول یاد آ رہا ہے۔‘‘
’’ہمارے زمانے کے لوگ چھ قسم کے ہیں: شیر، بھیڑیا، لومڑ، کتا، خنزیر اور بکری۔‘‘
اور ہاتھ کے اشارے سے نقوی کو کہانی سنانے کا اشارہ کرتا ہے۔
’’تب وہ شخص جس نے خواب دیکھا تھا، گھر سے باہر نکلا اور اس ہجوم میں شامل ہو گیا جو سردار سے بات کرنے نکلے تھے۔ اس بستی کے لوگ جو نقشے کے جلنے پر افسردہ تھے، ان میں سے ایک نے ایک آہ بھری اور اس آہ کے ساتھ ایک طویل القامت انسان نے ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر جلے ہوئے نقشے اور بکھرے ہوئے انسانوں کو دیکھا اور کہا، ’’اے لوگوں، وہ جو سمجھتے ہیں کہ ہمارے نقشے جلا کر انہوں نے ماضی سے جڑی ہماری جڑوں کو کاٹ دیا ہے، بے شک وہ غلط سوچتے ہیں، انہوں نے ہمیں کم جانا، ہم واپس اپنی جڑیں تلاش کریں گے اور ایک نئی بستی بسائیں گے۔‘‘
جیکب کی بڑبڑاہٹ کہانی کو بیچ میں روک دیتی ہے۔
’’یار، میرا ایک پودا مر رہا ہے۔ میری رائٹنگ ٹیبل پر بالشت بھر کا ایک چھوٹا سا خالی گملا رکھا رہتا ہے، جس میں کبھی کچھ بھی نہیں اگتا۔ اسے میں ایش ٹرے کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔ پتہ نہیں کب، لیکن کچھ عرصہ پہلے اس میں ایک پودا لگا اور دھیرے دھیرے بڑھنے لگا۔ میں نے اس پودے کا نام ’’شجر ممنوع‘‘ رکھ دیا، کیونکہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس پودے کی قسم کیا ہے۔ وہ پودا جب تھوڑا پھل پھول گیا، تب میں نے سوچا کہ اس کو بڑا گملا دینا چاہیے۔ میں نرسری گیا اور ایک بڑا گملا لے کر آیا اور محبت کے ساتھ اس پودے کو منتقل کر دیا۔ مجھے لگا کہ وہ یہاں خوش رہے گا، لیکن وہ مرجھانے لگا۔ اس کے پتے پہلے دھیرے دھیرے زرد ہوئے اور پھر وہ پودا کملا گیا۔ میں بھی اسے بھول بھال اپنے کاموں میں لگ گیا تھا۔ لیکن پچھلے ہفتے میں نے اس گملے کی مٹی میں دوسرا پودا لگانے کے لیے ہاتھ ڈالا، تو مجھے جڑیں ملیں۔ گھتم گھتھا جڑیں۔ اور میں سوچنے لگا کہ پودا مرجھا جاتا ہے، لیکن جڑیں زندہ رہتی ہیں۔ میں نے ان جڑوں کو نکال کر واپس اسی چھوٹے گملے میں منتقل کر دیا ہے۔ اب منتظر ہوں کہ پہلی کونپل کب پھوٹے گی، یا پھوٹے گی بھی یا نہیں۔‘‘
اس کی بڑبڑاہٹ جاری رہتی ہے۔
میں اشارے سے نقوی کو کہانی شروع کرنے کا کہتا ہوں۔
’’کافی عرصہ بعد ایک مسافر، جو اُس خطے سے گزر رہا تھا، اس نے ذکر کیا کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر صبح یہ دھرتی کراہتی ہے اور میرے قدموں کے نیچے منتقل ہونے کی کوشش کرتی ہے، جیسے تھکی ہوئی اور پیاسی ہو۔ جیسے میرے قدموں کی دھمک نے اسے گہری نیند سے بیدار کر دیا ہو۔ اس مسافر نے زوال کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ باتیں میں نے کہیں نہیں پڑھیں، اس کی کہی گئیں نشانیاں گلاب کی طرح مہکیں اور پھر اوجھل ہو گئیں۔ اس واقعے سے قطع نظر، ایک نیم تجربے کار خلا نورد نے اس خطے پر آسمانی مظاہر کا ذکر کیا۔ اس نے کہا، ’’ایک شخص جس کے ساتھ میں ہوٹل میں مقیم تھا، مجھے ایک دن نصیحت کرنے لگا کہ اس کے لیے ستارے کبھی بھی اتنے روشن نہیں تھے، انہوں نے کبھی بھی اتنی روشنی پیدا نہیں کی کہ وہ اپنے گھوڑے کے ہمراہ اطمینان سے سفر جاری رکھ سکے۔‘‘ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ کائناتی نقشے میں موجود کسی بھی ستارے پر انگلی رکھ کر نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ ستارہ کون سا ہے۔ پھر وہ خلا نورد اپنی ڈائری میں لکھتا ہے، ’’اُس رات میں نے پھر سے آسمان کا مشاہدہ کیا، خود کو اپنے پرانے دوست ستاروں اور کہکشاؤں کو سلام کیا، انہوں نے ہمیشہ کی طرح چمک کر مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ پھر تھوڑی دیر بعد جب میں نے اپنی دوربین کی جانب ہاتھ بڑھایا، تو وہ ستارے ایک ایک کرکے آسمان سے غائب ہو گئے۔‘‘
کہانی ختم ہو چکی ہے۔ نقوی خاموشی سے سگریٹ سلگا کر اندھیرے کے خلاف جہاد میں مصروف ہو جاتا ہے۔ جیکب آنکھیں میچ کر خاموش بیٹھا ہے۔ رات بھی مزید گہری ہو گئی، جب کہ ستاروں کی عدم موجودگی مزید واضح ہو گئی۔ اس خاموشی میں ایک قسم کا خالی پن تھا، جو پھیلاؤ اختیار کرتا ہوا ہمیں نگلنے لگا تھا۔ میں نے جیکب اور نقوی کی جانب دیکھا، ان کے چہرے نامعلوم روشنی میں بمشکل دکھائی دے رہے تھے۔
’’میرے ہاتھ... میرے ہاتھ اب میرے نہیں رہے،‘‘ جیکب نے بے جان سی آواز میں کہا۔ نقوی نے سگریٹ کی راکھ میز پر جھاڑ دی اور سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک مردہ روشنی چمک رہی تھی اور بولا، ’’شاید ہمیں کبھی کسی جواب کی تلاش ہی نہیں تھی... شاید یہ سارا انتظار...‘‘ اور خاموش ہو گیا۔
میرے گلے میں پڑی صلیب اچانک بہت بھاری محسوس ہونے لگی، جیسے اس کا وزن میری روح کے گرد لپٹ کر اسے بھینچ رہا ہو۔ میں نے اس پر ہاتھ رکھا تو جیکب کے خشک ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ رینگنے لگی۔ میں نے دیکھاگول میز کی سطح اب لکڑی کی نہیں رہی تھی، بلکہ وہ زرخیز مگر سیاہ مٹی میں تبدیل ہو رہی تھی۔ نقوی کی کہانی کے وہ کردار جن کے نقشے جل چکے تھے، میز کے کناروں سے نمودار ہو کر ہماری انگلیوں سے لپٹنے لگے۔ میز کے نیچے ہمارے پاوں جڑیں بن کر زمین میں دھنسنے لگے۔ اب ہمیں کسی مسیحا یا ستارے کی ضرورت نہیں تھی؛ ہم خود اس بانجھ بستی کے نیچے دبی وہ جڑیں بن چکے تھے جو اگلی کونپل پھوٹنے کا انتظار کرتی ہیں۔