اشاعت: مکالمہ ۵۸
ماہنامہ قلم، کتابی سلسلہ ۱۳ (ممبئی)
 

میں نے اپنے بزرگ سے سے اور انہوں نے اپنے بزرگ سے سنا کہ یہاں پہلے ریت اڑا کرتی تھی ۔ پھر وہ آئے اس جگہ کو دھیرے دھیرے کرکے بسایا اور اس زمین کو رونق بخشی، جب شہر آباد ہو گیا اور اجالے اندھیروں پر حاوی ہوگئے ۔ جب یہ شہر عدم سے عدن بن گیا تو اس جگہ کے عجیب و غریب دعوے دار پیدا ہوگئے۔ شہر بسانے والے انہیں حیرت سے دیکھتے ۔ لیکن وہ دعوے دار شہر کو تو اپنا مانتے تھے لیکن ان نوآورد وں کو نہیں۔جن کی محنت کی وجہ سے یہ جگہ عدن کا نمونہ تھی۔روز روز کی تو تکرار سے تنگ آکر بالاخر وہ کہیں چلے گئے۔پہلے پہل انہوں نے چھتوں اور درختوں تلے رہنے کی جگہ بنائی ۔ لیکن دعوے دار وں نے انہیں نفرت اور حقارت سے دیکھااور نخوت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے’’ فرشتوں کے لئے سمندر ہے‘‘۔ تب فرشتے اندر ہی اندر سمٹ گئے اور اس کے بعد خوف زدہ سے سنسان گلیوں میں جھک کر زمین پر جانے کیا تلاش کرتے رہتے اور ان میں سے کچھ بس ساکت کھڑے شہر کو حسرت بھری نگاہوں سے تکتے رہتے اور پھر کچھ عرصے بعد وہ بالکل نظر آنا بند ہوگئے ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ قبروں کے اندر سے ان کے پروں کی گونج ابھی بھی سنائی دیتی ہے۔جس کو دبائے رکھنے کے لئےتھوڑے تھوڑے عرصے بعد مٹی کی نئی پرت چڑھادی جاتی ہے ۔لیکن جس طرح سورج کی روشنی کو روکا نہیں جاسکتا ۔گونج بھی مٹی کی ہر پرت کے ساتھ تیز سے تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ 

جب وہ نظر آنا بند ہوگئے تو چرچ کی گھڑی چارکے ہندسے پر آکر تھم گئی جسے ٹھیک کرنے کی بڑی کوششیں کی گئیں لیکن وہ پھر کبھی بھی ٹھیک نہ ہوسکی۔تب شہر کے لوگوں نے یادگار کے طور پر چرچ کی پتھریلی چھت پر چار مجسمے نسب کروادئیے ۔ ان مجسموں کو دیکھ کر عجیب سا احساس جنم لیتا ہے ۔ ان کے پتھریلے پروقت اور بوسیدگی سے جگہ جگہ سے جھڑتے چلے جارہے ہیں۔ شکستہ آنکھیں آلودگی سے سیاہ ہوچکی ہیںلیکن وہ اپنے محبوب شہر کی محبت میں کچھ اس طرح سے گرفتار ہیںکہ ان کو روکا نہیں جاسکتا۔یہ شہر شائد ان کی پہلی محبت ہے یا شائد آخری۔
 اتوار کی خصوصی عبادت والے دن گھنٹیوں کے مقدس جلترنگ کے ساتھ جب حمد پڑھنے والے گنگناتے ہیں : 
چند اور ماہ و سال سمٹیں گے
چند اور موسم آئیں گے 
اور ہم ان کے ساتھ ہوں گے جو آرام سے 
اپنی اپنی قبروں میں سورہے ہیں
 تو لگتا ہے فرشتے بھی ہماری آواز کے ساتھ آواز ملا کر گارہے ہیں۔گاتے گاتے ہمیشہ کی طرح میری آواز رندھ جاتی ہے۔گھنٹیوں کی جلترنگ اور حمد کی گنگناہٹ مدھم پڑجاتی ہے اور پرو ں کی واضح گونج ماحول کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ 
    کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ فرشتے اپنی پتھریلی آنکھوں سے ابھی بھی شہر اور شہر والوں پر نظر رکھتے ہیں۔میری نظر اوپر رنگین شیشوں کی جانب چلی جاتی ہے اور اُس سے تھوڑا نیچےصلیب کے عقب میں رنگین شیشوں سے پرے ان کے پتھریلے پر حرکت کرتے نظر آجاتے ہیں۔ جسے میں بڑھاپے کا ایک واہمہ سمجھ کر بھلا دیتا ہوں۔ کبھی کبھی میرے کان شام کی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ ساتھ گرتے پتوں، پرندوں کی چہچہاہٹ ، ٹریفک کے شور، سرسراتے پردوں اور کبھی رکتے کبھی بڑھتے چوہے کے قدموں کی چاپ کے ساتھ بہت مدھم سی پروں کی گونج بھی سنتے ہیں۔ 
 میں بوڑھا ہوچکا ہوں، اس خیال نے میرے دل پر چھریاں سی چلادی ہیںاور مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے جو میں کھو چکا ہوں، جادوئی بچپن اور بیکار جوانی، ایک ہاتھ خوشی کے پیچھے بھاگتے ہوئے اور دوسرا ہاتھ انہی خوشیوں کو دھیرے دھیرے ختم کرتے ہوئے ، زمین بوس ہوچکی عمارت کے ملبے جیسا آدمی، جس کے ہاتھوں میں اب نہ خوشی ہے نہ غم ، گھٹنوں کے بل بیٹھ کر میں خود کو سمیٹتے ہوئے افسوس کرتا ہوں جو میرا تھا لیکن اب میرا نہیں ہے ۔
مجھے کوئی کام ملے مہینوں گزر چکے ہیں اور سرد ی کا موسم شہر کو دھیرے دھیرے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے،یہاں کا موسم بے شک معتدل ہے لیکن میری بوڑھی ہڈیاں اب اس سردی کو سہار نہیں پاتیں اور یہ میں جانتا ہوں کہ ہمیشہ کی طرح یہ موسم جلدی جانے والانہیں ہے۔میں اپنا ایک قدیم انداز کا کرتا شلوار جوایسا معلوم ہوتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ پھیلتا جارہا ہے جبکہ اس کے بالکل برعکس میں وقت کے ساتھ سکڑتا جارہا ہوں ۔ مجھے اسےڈھونڈتا ہوں اورکفن کی طرح پہن لیتا ہوں۔
اسے پہن کر میں کھڑکی سے ڈوبتے ہوئے سورج کے ساتھ شہر پر نظر ڈالتا ہوںاور میں یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ شہر بہت سی جنگیں دیکھ چکاہے، میرا خیال ہے اس شہر کے نصیب میں مزید جنگیں دیکھنا ابھی باقی ہیں ، اب میں ایک افسوس کے ساتھ اس شہر کو دیکھتا ہوں، میں نے اس شہر کو دھیرے دھیرے کرکے بنتے اور پھر آبادہوتے دیکھا ہے، فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون زیادہ قدیم ہے، یہاں کے لوگ یا پھر یہ شہراور یہی سوچتے ہوئے میں دھیرے دھیرے قدم اٹھا تا گھر سے باہر نکل آتا ہوں۔
گھرسے تھوڑی دوری پر بنے ایک پان کے کھوکے سے سگریٹ لے کر سلگاتا ہوں۔ جسے میرے قدیم پھیپڑے برداشت نہیں کر پاتے ۔ لیکن سگریٹ کا سرور دھیرے دھیرے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ میرے پاوں خودبخود ایک جانب چلنے لگتے ہیں۔ انہیں میں ایسا کرنے دیتا ہوں اور پھر وہ ایک جگہ آکر تھم جاتے ہیں۔ 

۲

    سینٹ اینڈریوز چرچ کے پاس قدیم نوادرات کی چند ایک دکانیں ہیں۔ ان میں سے ایک دکان بہت قدیم اور الگ نوعیت کی ہے۔اپنے بچپن سے اس دکان کو دیکھتا آرہا ہوںاور اس دکان نے بہت بہادری کے ساتھ اپنے اصل کو برقرار رکھا ہے جبکہ اس کے قریب و جوار کا ماحول مکمل طور پر تبدیل ہوگیاہے۔وہ دکان باہر سے بہت چھوٹی اور کچھ عجیب سی لگتی ہے۔تھوڑی میلی سی وکٹوریہ دور کے شان والی پرانی ملکہ کی مانند۔ گزرتے برسوں نے اس کی دھندلی شان کو کسی حد تک کم ضرور کردیا ہے۔ لیکن کسی بوڑھی ملکہ کی طرح وہ ابھی بھی شان سے اپنی جگہ پر قائم ہے۔کٹے پھٹے کناروں اور چھوٹے حجم کی کھڑکیاں باہر جھانکتی ہوئی معلوم پڑتی ہیں۔ دروازہ کبھی شوخ سرخ رنگ کا رہا ہوگالیکن وقت نے اسے ویسا نہیں رہنے دیا۔ اب وہ مٹی جیسے رنگ کا ہے، جس کی سطح پر جمی دھول اور دروازے کے رنگ کے مابین فرق نہیں کیاجاسکتا اور اس کے بیچ میں ایک چھوٹا ’’ مدد درکار ہے‘‘ کاتختہ آویزاں ہے ۔وہ تختہ بھی اپنے ارد گرد کے ماحول کی طرح اب بوسیدگی میں بوسیدہ ہوتا ہے۔ 
یہ تختہ یا بورڈ دکاندار نے جب سے لگار کھا ہے۔ جب شائد میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔لیکن جب سے ہوش سنبھالا۔ اسی طرح سے دیکھتا آرہا ہوں اور یہ تو اب ایسی داستان بن چکا ہے جس کے بارے میں بڑے بوڑھے عجیب و غریب کہانیاں سناکر اپنے ناتی نواسوں کو ڈراتے اور قہقہہ لگاتے ہیں۔ 
جب بوڑھے نے یہ دکان خریدی تھی۔ اسے بھی یہ ایسے ہی لگا ہوا ملا تھا اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر کبھی اس تختے کو یہاں سے ہٹایا ہی نہیں گیا۔ ہوسکتا ہے شروع میں اس کا مقصد مدد طلب کرنا رہا ہو۔لیکن صحیح سے اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ اس بوڑھے دکاندار کو شائد کبھی بھی مدد نہیں ملی۔ کم از کم جس قسم کی وہ توقع کررہا تھا اس قسم کی تو کبھی نہیں۔ لیکن وہ دوسروں کی مدد ضرور کردیتا تھااور وہ بورڈ وہاں لگا رہا۔ وقت کے ہاتھوں بوسیدہ ہوتا رہا اس انتظار میں کہ جو فلسفہ اس میں تحریر ہے سب کو سمجھ میں آجائے۔ 
’’مدد درکار ہے ‘‘ کا ان کہا سوال ہر قسم کے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیتا ہے۔چاہے اس شہر میں ہونے والی جنگیں ہوں ،وبا، تباہی، قحط یا امن۔ ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جسے بچانا ضروری ہوتا ہے اور وہ بوڑھا دکاندار ہمیشہ وہاں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ جو بھی چاہے اس کی چھوٹی سے دکان کے پچھلے حصے میں جہاں ایک مختصر سا باورچی خانہ ہے اوراس کے ساتھ ایک صوفہ ہے اور وہ وہاں ایک بھاپ اڑاتی نیلی چائے کی کیتلی کے ساتھ بوڑھے کے ساتھ جب تک چاہے گفتگو کرسکتا ہے۔ لوگ قدیم نوادرات کی دکان میں ٹوٹے ہوئے آتے ہیں اور جب واپس لوٹتے ہیں تو ان کے پاس امید ہوتی ہے، چھوٹی سی ہی سہی لیکن امید بہرحال ہوتی ہے۔ 
میں ہمیشہ بہت پر فخر اور شاندار رہا تھا۔اب میں اس دکان کے ساتھ کھڑا ہوا ہوں۔فرشتوں کی طرح میرے پر بھی جھڑ چکے ہیں ۔میرا شاندار فخر اب گھناونے بڑھاپے میں تبدیل ہوچکا ہے۔جو چہرے کی جھریوں سے قطرہ قطرہ ٹپک کر فرش کو گیلا کرتا ہے۔ میں نے انگلیوں کو بھینچ کر اپنے ہاتھ کو بوسیدہ کوٹ کی جیب میں چھپالیا۔پرانے السر کو پیار سے سہلایا۔اس نے مقدس موسیقی کی طرح میرا استقبال کیا۔ ڈاکٹرمجھ سے کہہ چکے ہیں کہ انگلیوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوشش میرے لئے سود مند ثابت ہوگی۔لیکن موسیقی کی تال سے تال ملانے کے لئے ان کی حرکت اب ہمیشہ ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ 
میں نے غور سے پڑھنے کی کوشش کی اور مجھے محسوس ہوا کہ ان لفظوں کا اب ایک مکمل نیا مطلب ہے ۔ ’’مدد درکار ہے‘‘ اور آگے سوالیہ نشان جو میں اپنے ذہن میں قائم کرلیتا ہوں۔ ان الفاظ کے اب بہت سے مطلب نکلتے ہیں ۔ دکان میں ایک ایک کرکے روشنیاں گل ہورہی تھیں۔۔ شائد دکان بند ہونے کو ہے۔ بوڑھے کو میری موجودگی کا احساس ہونے میں تھوڑا ہی وقت لگا۔کسی بچے کی طرح اچانک اور بغیر کسی وجہ کے اس نے مجھے اپنی مسکراہٹ سے نوازا ۔میں اس کے نزدیک پہنچا تو اس نے دروازہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا ۔ 
میں نے کہا ’’میں مددنہیں کرسکتالیکن آپ کی دکان میں لگے اس تختے نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی‘‘اور ان الفاظ کو بولتے وقت اپنی آواز میں موجود کھردرا پن میرے کانوں کو اجنبی محسوس ہوا ۔ ایک طرح سے یہ صحیح بھی ہے۔ مجھے نہیں یاد میں نے آخری بار کب اور کس سے بات کی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں کہا ’’کتنا بیہودہ تجربہ ہے ‘‘۔
اس نے سر کو ہلا یا اور خفیف سا دائیں جانب موڑ کر کہا ’’ کیا تمیں قدیم نوادرات کا تجربہ ہے؟ ‘‘اس نے ایسے پوچھا جیسے میری بات سے اسے خوشی ملی ہو۔ میں نے نفی میں گردن ہلاکر کہا’’نہیں۔ میں پہلے ایک وائلن نوازہوا کرتا تھااور مجھے نوادرات کا کوئی تجربہ نہیں ہے، ‘‘۔ میری انگلیاں لاشعوری طور پر کوٹ کے اندر حرکت کرنے لگیں اورجبڑے کی ہڈیاں ابھر کر بغاوت پر آمادہ ہوگئیں۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ایک لمحے کے لئے میری جانب دیکھا ور پھر پرسکون ہوگیا۔گویا کسی نتیجے پر پہنچ چکا ہے۔وہ دروازہ چھوڑ کر ایک طرف ہوگیا شائد وہ مجھے اندر بلانا چاہتا ہے ۔ میں نے اندر کی جانب قدم بڑھائے اور دکان کی قدیم اور گرم مہک نے مجھے اپنے حصارمیں لے لیا۔میں نے گردو پیش پر نظر ڈالی تو مجھےاپنے بوجھ سے زیادہ کا وزن سنبھالتے بیچارے شیلف نظر آئے جن پر الم غلم بے تربیتی سے رکھا ہوا تھا۔ماحول میں قدامت اور پرانے مصالحوں جیسی مہک تھی ۔عجیب لیکن جانی پہچانی۔ جیسے گھر پہنچنے پر محسوس ہوتی ہے۔ 
’’میرا نام عزازیل ہے‘‘۔ 
’’مل کر خوشی ہوئی ‘‘ کہہ کر اس نے میری ٹیڑھی انگلیوں والے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا۔ 
ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے کہا ’’تم جانتے ہو یہ شہر فرشتوں نے بسایا تھا‘‘؟ 
میں نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ واپس کوٹ کی محفوظ جیبوں میں پہنچا دیا۔
’’کیا تم اس پر یقین کرتے ہو؟ ‘‘۔
’’میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا ،  شائد فرشتے ہمارے چاروں جانب موجود ہیں ۔ وہ چہرے بدلنے پر قادر ہیں اور اپنا کردار خوبی سے ادا کرتے ہیں ۔انہوں نے جب اس شہر کو بنایاتھا  جب ایک بڑے حادثے نے اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔‘‘
’’کیا تم نے کسی فرشتے کو دیکھا ہے؟ ‘‘۔میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم ان کے پاس سے روزانہ گزرتے ہو۔ وہ ہماری طرح ہیںاورہم کون ہوتے ہیں فیصلہ صادر کرنے والے کہ کون کیا ہے؟ ‘‘۔
’’کچھ لوگ ان باتوں پر آپ کو پاگل کہنے میں بالکل بھی نہیں ہچکچائیں گے ۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔
’’یہ تو اچھا ہے ، کیونکہ میں بیوقوف اور پاگل دونوں ہوں۔ عزازیل مجھے ایک بات بتائو، تمھارا پسندیدہ آلہ موسیقی کون ساہے؟ ‘‘۔
’’وائلن‘‘۔ میں سپاٹ لہجے میں جواب دیتا ہوں۔ 
اس نے سر ہلایا۔ تختےتک گیا اور اس کو الٹا کردیا تاکہ وہ باہر سے نظر نہ آئے ۔میں نے سوالیہ نظر وں سے اس کی طرف دیکھا۔لیکن اس ستم ظریف نے صرف کندھے اچکا دئیے۔پھر میری جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا ’’میرا خیال ہے، تمہیں اپنے یہاں کام پر رکھ لینا چاہیے ، اگر تم نوادرات کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہوتو ایسا ممکن ہے ‘‘۔
’’میرا خیال ہے میں گزار سکتاہوں ‘‘۔ وہ مجھے حیران اور پریشان چھوڑ کر دکان کے اندر کہیں غائب ہوگیا، میں کھڑکیوں سے باہر خالی سڑک کو دیکھنے لگا، ایک لمحے کے لئے مجھے لگا میں میں نے شیشے کی کھڑکی سے باہر کسی کو دیکھا ہے، اسٹریٹ لیمپ کے نیچے کوئی ہے ، جہاں کچھ دیر پہلے میں کھڑا ہوا تھا، دھندلی سی شبیہ، جو انسان کی تو بالکل نہیں معلوم ہوتی تھی۔سائے کا تاثر۔پرندے کی مانند۔قریب قریب خوفناک اور تب میں نے اپنی آنکھ جھپکی اور وہاں صرف خالی فرش پر اترتی اسٹریٹ لیمپ کی روشنی تھی۔ تب مجھے احساس ہوا وہ میرا ہی عکس تھا جو شیشے سے ٹکرا کر واپس میری طرف لوٹ رہا تھا۔ 
 مجھے بے چینی محسوس ہوتی ہے اور میں کسی نادیدہ قوت کے زیر اثر دکان سے باہر نکل کر ایک سمت چلنے لگتا ہوں۔ شائد مجھے اس اسٹریٹ لیمپ کے نیچے کھڑے انسان کی تلاش ہے ۔ میں تلاش میں چلتا رہا، چلتے چلتے میری ایڑھیاں لہو لہان ہوگئیں اور سینہ آگ سے بھرگیا، میں نے سوچا اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے مجھے تازہ ہوا اور پانی کی ضرورت ہے، تب میں نے سمندر کا رخ کیا اور میں نے شوریدہ لہروں کی آواز کے ساتھ اپنی زبان پر نمکین ہوا کو محسوس کیا اور قدم تیز کردئیے۔ وہاں بہت سی لکڑی کی میزیں ترتیب سے لگی ہیں تاکہ تفریح کے لئے آنے والے سکون سے بیٹھ کر لطف اندوز ہوسکیں، میں نے بھی ایک خالی میز تلاش کری اور بیٹھ کر فرشتوں کے بارے میں سوچنے لگا ۔ جب میں یہاں آیا تھا تو لوگوں کا ہجوم تھا پر اب دھیرے دھیرے کرکے ساحل لوگوں سے خالی ہورہا تھااور تنہائی اور سمندر سے باتیں کرنے کے لئے صرف میں بچا تھا، مجھے لگا سمندر کی لہریں ہمکتی ہوئیں آرہی ہیں ، شائد وہ میرے گلے لگنا چاہتی ہیں، لیکن وہ نہیں جانتیں کہ اس بوڑھے کا وجود اتنا نازک ہوچکا ہے کہ ان کے زور سے بکھر بھی سکتا ہے۔
    جب میں بیٹھا ہوا تنہائی ، سمندر اور فرشتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا میں نے کسی کو دیکھا ۔ وہ مجھے جانا پہچانا سا معلوم ہوا۔ وہ جو کوئی بھی تھا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا سمندر کی جانب تیزی سے بڑھتا چلا جارہا تھا۔ ایک انجانا خوف مجھے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ۔میں اچانک اٹھ کر اس شخص کی جانب دوڑنا شروع کردیتا ہوں۔ جانے میرے پائوں میں اتنی قوت کہاں سے آگئی تھی ۔ لگتا تھا جیسے میرے پر لگ گئے ہوں ۔میں اس کے نزدیک پہنچا اور اور اسے پکڑ کر گھسیٹنے ہوئے واپس ساحل پر لے آیا ۔ وہ جو کو ئی بھی تھا ، اتنا خالی پن کا شکار تھا کہ اس کا وجود مجھے ہوا سے بھی ہلکا محسوس ہوا ۔ اب سردی اور بھی شدت سے مجھ پر اپنا اثر ڈالنے لگی تھی۔میرے بوڑھے پھیپھڑے ہوا کے لئے زور لگار ہے تھے ۔
یہ کیا پاگل پن ہے ؟ میں نے غصے سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ 
اس نے چہرہ اٹھا کر میری جانب دیکھا، اس کی آنکھیں ، ویسی آنکھیں میں نے کبھی نہیں دیکھیں تھیں۔ لیکن اندر سے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں نہ صرف ان آنکھوں سے واقف ہوں۔ بلکہ اسے بھی اچھی طرح جانتا ہوں۔  
مجھے لگا اگر وہ کچھ دیر ایسے ہی مجھے دیکھتا رہا تو وہ سب کچھ جو میرے اندر ہے باہر ابل پڑ ے گا  ۔ 
میں اس کے برابر میں ہی بیٹھ گیا اور اس کا نام پوچھنے لگا ۔
’’عزازیل ‘‘۔ ایک نامانوس آواز میرے کانوں پر پڑی ، وہ کافی جسیم تھا لیکن اس کی آواز کسی بچے کی طرح معصوم اور پاکیزہ محسوس ہوتی تھی۔ 
’’سمندر میںمرنے کا ارادہ تھا؟ ‘‘۔
’’نہیں ‘‘
’’تو سمندر میں کیوں جارہے تھے ؟‘‘ 
’’ میں بپتسمہ لینے جارہا ہوں تاکہ میرے گناہ دھل جائیں‘‘ ۔ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور تیزی سے دوڑتا ہوا سمندر کی لہروں میں گم ہوگیا۔ 
اس واقعے کو کافی وقت گزر چکا ہے۔ میں آج تک نہیں جان پایا وہ کون تھا۔ لیکن میں جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہوں ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ جو کوئی بھی تھا میرا کوئی بہت قریبی عزیز یا دوست تھا۔ لیکن جب میں یادداشت پر زور دیتا ہوں تو مجھے کچھ یاد نہیں آتا۔ کبھی ایسا معلوم پڑتا ہے جیسے وہ میں خود تھا۔خیر اس سے بھی زیادہ فرق نہیں پڑتا ۔ اہم یہ ہے کہ اگر وہ اسی طرح ایک ایک کرکے سمندر تلے رہنے پر مجبور کردئیے گئے تو وہ پیشن گوئی کہیں پوری نہ ہوجائے۔