اشاعت: سہ ماہی زیست 

مئی کے مہینے کی تپتی ہوئی لو میں جب دوپہر کا سورج گلی کے ادھ کھلے کواڑوں پر تانبے کی مانند پگھل رہا ہوتا ، راوی اُس وقت محلے کے اُن اودھم مچاتے، شور کرتے، اکثر ننگے پاؤں پھرتے اور چھپن چھپائی، برف پانی، کھو کھو یا کرکٹ سے دل بہلاتے نوعمر بچوں میں سے ہوتا اوروقت کی رفتار کو ایک پالتو وجود کےپنجوں تلے تھمتے دیکھتا تھا۔ وہ  پالتو وجود اصیل نہ تھا بلکہ ایک عام چتکبرا مرغ تھا۔ جس کے تن پر سیاہ اور سفید پروں کا غلاف مٹی کے برتن کی طرح سبک اور شاندار معلوم ہوتا تھا۔ کچی دھول بھری گلی پر دَھج یعنی چتکبرے مرغ کی باقاعدہ سلطنت قائم تھی۔ اس کی قلمرو کے عین وسط میں دو مصری مرغیاں دانا چگتی تھیں؛ دو ایسی مٹیالی وگداز روئی کے گالے ایسی حوریں جو اس کی حاکمیت کا تاج تھیں اور وہ چتکبرا، اکھنڈ ریکھاؤں کے ساتھ ان کا محافظ و سرپرست تھا۔ محلے میں اس کی دھاک کسی عتیق صحیفے کی طرح بے لچک اور اٹل تھی۔ گلی کا کوئی دوسرا مرغ، چاہے وہ کتنا ہی بڑا بہادر اور بد دماغ کیوں نہ ہو، دَھج کے علاقے میں آنے یا ان مصری مرغیوں کے قریب پھٹکنے کی جُرأت نہیں کرتا تھا؛اگرکوئی بدقسمت قلمرو کی سرحد پار کرنے کی حماقت کرجاتا۔ دَھج غصیلے وجود کے ساتھ، گلی کی دھول اڑاتا ہوا اس پر یوں ٹوٹ پڑتا کہ وہ غریب اپنی خروسیانہ چیخوں کے ساتھ بھاگنے پر مجبور ہو جاتا اور دور کسی دیوار یا دروازے کی اوٹ سے اپنے مجروح پندار کا نوحہ دھیمی آواز میں دہراتا۔یوں دَھج اس اکھاڑے کا سالوں تک ناقابلِ شکست دیوتا رہا اور بچے اُس کی جلالی اور وحشی طبیعت کے باعث اس کے گرد زانوئے تلمذ طے کیے رہے ۔
ایک ایسی ہی بوجھل دوپہر محلے کے ایک مکان کا وہ چوبی کواڑ کھلا رہ گیا، جس کی اوٹ سے وہ دوسرا مرغ برآمد ہوا۔ ایک مہیب، بھاری اور گہرے نارنجی رنگ کا اصیل ، جس کے پروں پر اپنے پرکھوں کا اَزلی جلال نقش تھا اور جس کے پنجوں کا کبر اکھنڈ پاٹھ کی طرح انمٹ تھا۔ یہ دَھج کے لیے تاریخی ناگزیریت کا لمحہ تھا ، جو اس کے قلمروکی سرحد پر آ کھڑا ہوا تھا۔وقت یکلخت کھنچ کر سست ہو گیا۔ بچے دروازوں، نالیوں اور چھتوں پر سے دوڑتے ہوئے آئے۔ ایک پورا دائرہ بن گیا، پر اس بار ہجوم میں خاموشی اور خوف تھا۔ دونوں فوراً ایک دوسرے پر نہیں جھپٹے۔ پہلے مہیب جمود طاری ہوا۔ نارنجی اصیل اپنی گردن کی جائز اکڑ کے ساتھ ریت کو اپنے پنجے سے کریدنے لگا اور دَھج مصری مرغیوں کے اسیر آسن سے اٹھ کر اپنے چتکبرے وجود کو جلالی حصار میں اوڑھے، اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ ٹھیک اُس وقت چتکبرے نے تپتی ہوئی ہوا کا سینہ چاک کرتے ہوئے ایسی تیکھی اور بھاری بانگ دی، گویا میدانِ جنگ میں کوئی سورما لڑائی سے قبل رجز پڑھ رہا ہو، جس کی کڑک سے گلی گونج اٹھی اور بچے لرز گئے۔گویا وہ بانگ نہیں تھی، دراصل اکھنڈ آکاش کا الہامی طبلِ جنگ تھا ۔اس کے بعد اصیل نے اڑان بھری۔ایک ایسی اڑان جو بچوں کی نظر وں میں سورج کے رخسار کو چھو گئ اور اپنے وحشی پنجوں کی ضرب سے دَھج کے وجود پر پہلا وار کیا۔ دَھج کا جسم اس ضرب سے پچھلے پہر کی ہوا میں نہایت سست رفتاری سے لہرایا، جیسے عدم کی نیند سے کوئی گمنام حرفِ مکتوم تڑپ اٹھا ہو۔ ریت کی کرکراہٹ کے ساتھ پروں کی آواز فضا میں ابھری اور کیتلی سے پھوٹتی بھاپ کی طرح وہیں معلق ہو گئی۔ دَھج لڑکھڑایاضرور لیکن زمین پر گرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے اپنے ادھڑے ہوئے پروں کے حصار کو قہر آلود جھٹکے سے سمیٹا اور اصیل کی طرف یوں لپکا جیسے اکھاڑے میں موجود بہادرسورما، اپنی ٹوٹی ہوئی ڈھال پھینک کر تلوار سے آخری وار کرتا ہے۔ وار خالی گیا اور وہ دونوں مرغ اکھاڑے کے وسط میں ایک دوسرے کے بالکل مقابل آکر بے حرکت ہو گئے۔ لڑائی کا پلڑا یقیناً دھَج کے حق میں نہیں تھا اور اس وقت دَھج کسی رومی اکھاڑے کی تپتی ہوئی ریت پر موت کے حکم کا منتظر وہ آخری گلیڈی ایٹرتھا، جس کی گردن پر دھرے فولاد پر کوئی کائنات تغیر اثر نہیں کر سکتا تھا۔یک دم اصیل نے پوری وحشت کے ساتھ فیصلہ کن حملہ کیا اورُاس کی چونچ کا نوکیلا سِرا دَھج کی آنکھ میں دھنس گیا۔ ایک کالا پر، جس پر سفیدی کے چھینٹے تھے، فضا میں اڑا اور ہوا کی تپش میں معلق ہو گیا۔ جب دَھج  بلبلاتا ہواپیچھے ہٹا، تو اس کی دائیں آنکھ ہمیشہ کے لیے پھوٹ چکی تھی اور پاتال کی رطوبت کی مانند، اس کا سرخ لہو چتکبرے وجود پر بہہ رہا تھا۔یہ وہ موڑ تھا جہاں بچوں کے یقین پر پہلی دراڑ پڑی۔
 دَھج اب ناقابلِ شکست نہیں رہا تھا۔ اس کی زخمی آنکھ پر میلی ململ کی چوکور پٹی چپکی رہتی، اور وہ پہلے سے زیادہ خاموش اور خوفناک ہو گیا تھا۔اب جب وہ گلی سے گزرتا، تو بچے دبی ہنسی اور انجانے خوف کے ساتھ اسے دیکھتے۔ دَھج بپھرے ہوئے غصے کے ساتھ مرغیوں کے گرد اسی طرح منڈلاتا رہتا، جیسے انہیں کسی ان دیکھی جنگ کے لیے تیار کر رہا ہو۔جب کبھی وہ ناہنجار اصیل گلی میں نکلتا، تو دَھج اپنی اکلوتی آنکھ کے ادھورے ہالے کے ساتھ، اس کے سامنے جا کھڑا ہوتا۔طبلِ جنگ بجتا، دائرہ کھنچتا اور دونوں حریف سینہ پھلا کر ایک دوسرے کا رخ ناپتے، پر رزم گاہ کا یہ آخری پڑاو ہر بار ادھورا رہ جاتا۔ٹھیک اُس وقت جب فضا میں پہلا وار ہونے کو ہوتا، محلے کا کوئی تندخو آدمی یا عورت اس معرکہ کو جھاڑو، چپل اور زبانی یا جسمانی مداخلت سےٹال دیتے، اکھاڑہ یکلخت تتر بتر ہو جاتا اور وہ جنگ نامعلوم مدت کے لیے ٹل جاتی۔
لیکن ایسی ہی ایک تپتی ہوئی دوپہر میں جب محلے کے گھروں میں موجود زیادہ تر لوگ قیلولہ کررہے تھے، نارنجی اصیل اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ دَھج کے قلمرو میں داخل ہوا۔ دَھج نے اپنی اکلوتی آنکھ کے ادھورے ہالے سے حریف کے سایہ کو ناپا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کے چتکبرے وجود کو روکنا چاہا، اس کے پروں کو اپنے ننھے ہاتھوں میں سمیٹنا چاہا، پر وہ نہ رکا اوراپنےلافانی غرور کے ساتھ دوبارہ اس مہیب سورما کے سامنے جا کھڑا ہوا۔پھر وہ سست رفتار جنگ ایک بار پھربرپا ہوئی۔ وقت اور محلے کے بچوں کا ہجوم ایک بار پھر دیواروں اور نالیوں کے کنارے پتھر کا ہو گیا۔ اصیل نے اپنے پرکھوں کے دیرینہ جلال کی پوری شدت کے ساتھ دَھج پر حملوں کی وہ بوچھاڑ کی کہ چونچ اور پنجوں کی ہر ضرب ابدی سطر کی طرح دَھج کے جسم پر کھدنے لگی۔ مگر اس حملے سے سنبھل کر دَھج اندھےجلال و انتقام کے جذبے سے تڑپتے ہوئے ، پلٹ کر یوں حملہ آور ہوا کہ اس کی چونچ اصیل کی کلغی میں کلہاڑی کی طرح دھنس گئی۔ پہلی بار وہ نارنجی پرندہ درد سے کڑکڑاتا ہواایک قدم پیچھے ہٹااور بچوں نے دیکھا کہ وہ اصیل بھی لہو رکھتا ہے۔مگر اصیل روایت کی خلاقی کا جابر دیوتا تھا؛ اس ناگہانی حملے سے سنبھلتے ہی اس نے پوری وحشت کے ساتھ جوابی وار کرنا جاری رکھا۔ دَھج اس بار بھی ہارااور پہلے سے کہیں زیادہ بری طرح ہارا۔ اس کے چتکبرے پروں کا نقرئی غلاف گلی کی دہکتی ہوئی ریت پر بکھر گیا، اس کی کلغی کا سرخ چندن خاک و خون میں لت پت ہو گیا اور بدن میں دوڑتا ہوالہوزخموں سے رِس کر آتشی لو میں پگھلنے لگا۔ وہ نڈھال ہو کر ایک طرف گر پڑا، یوں جیسے اس کی قلمرو کا حصار ہمیشہ کے لیے مٹ چکا ہو اور اصیل اپنی گردن کی اکڑ کے ساتھ شاید اس کے ختم ہونے کا انٹظار کررہا تھا۔ 
یک لخت اس ادھ موئے، زخمی اور ہانپتے ہوئے وجود کے اندر عجب لایعنی استقامت جاگی۔ دَھج کا جسم کانپ رہا تھا، اس کے پروں سے لہو بہہ رہا تھا، پر اس نے زمین پر پڑے رہنے کی ذلت کو قبول نہ کیا۔ اُس نے ریت پر اپنے کپکپاتے ہوئے پنجوں کو جابرانہ جھٹکے سے دوبارہ ٹکایا۔وہ ریت کے اس قربان گاہ سے نہایت سست رفتاری کے ساتھ ہانپتا ہوا، دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا. اپنی اسی ایک آنکھ اور زخموں کے بروٹل ٹیکسچر کے ساتھ ایک بار پھر اپنے حریف کے بالکل مقابل آگیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اس کے ماتھے کی اکھنڈ ریکھائیں اب بھی قائم تھیں، اور وہ ہارتے ہوئے بھی اس تاریخی فیصلہ کن گھڑی میں اپنے راسخ کبر کے ساتھ کسی ناقابلِ شکست دیوتا کی طرح سیدھا کھڑا رہا، جیسے وہ کسی انجام یا شکست کے بہی کھاتے کو تسلیم ہی نہ کرتا ہو۔یوں جیسے وہ اصیل کو للکار رہا تھا کہ تم مجھے مار سکتے ہو ، میں فنا بھی ہو جاوں گا، لیکن جب تک میرے اندر قوت و ہمت ہے، تم مجھے اپنے سامنے پاوگے۔اور رزم گاہِ خاک نے دیکھا کہ اس تاریخی ناگزیریت یعنی اُس نارنجی اصیل نے دَھج کی اِس لایعنی متحرک آنکھ سے جھانکتی استقامت اور زخموں سے چور ہو کر بھی دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کے کمالِ شجاعت کے آگے سر تسلیم خم کر دیا۔ وہ، جو روایت کی خلاقی کا جابر دیوتا تھا، دَھج کی اِس پیچیدہ، ضدی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے نہایت وقار کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا؛ یہی نہیں بلکہ اُس نے دَھج کے قلمرو کی طرف آنا ہی چھوڑ دیا، جیسے وہ اس چتکبرے وجود کے اندر چھپی کسی مہیب، ناقابلِ شکست ضد کا احترام کرنے پر مجبور ہو گیا ہواور دَھج گلی کے مرکز میں ان دو مصری مرغیوں کے ساتھ، اپنے اسی ادھورے ہالے کے ساتھ ایک ایسے سورما کی طرح رہتا رہا، جو کسی بھی قسم کے انجام کو قبول کرنے سے انکارکرچکا تھا۔
 اس لیجنڈ کا اختتام کسی بڑے المیے کا محتاج نہ تھا۔ اگلے برس جب دادا کی برسی کا موقع آیا اور سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے اُسے صحن کے وسط میں لکڑی کے بوسیدہ تختے پر لٹایا گیا، چھری کی دھار چمکی اور وہ سورما، جس نے محلے کے بچوں کے شعور میں کونیاتی رزم قائم کر رکھی تھی۔ نہایت بروٹل سادگی کے ساتھ ذبح کر دیا گیا۔جب کہ وہ دو مصری مرغیاں صحن کے ایک کونے میں دانا چگتی رہیں کہ ان کے دم سے انڈوں کی فراوانی تھی۔ آج جب میں سوچتا ہوں اور میری انگلیاں اسکرین کے کورے چوکور خطوں پر نقوش مرتب کرتی ہیں، میں یادداشت کے اس مسخ شدہ واقعے کو الٹتا ہوں تو کوئی حتمی فیصلہ برآمد نہیں ہوتا۔شاید اس تپتی ہوئی دوپہر کا عکس، بچوں کا وہ ہجوم، وہ دو مصری مرغیاں اور وہ اصیل اور دَھج ذہن کے کسی تاریک گوشے میں ہمیشہ کے لیے معلق رہ گئے ہیں۔