اردو فکشن کی تنقید میں اکثر ایک بنیادی ابہام پایا جاتا ہے جو بیانیے کو محض خانوں میں تقسیم کر کے دیکھنے پر اصرار کرتا ہے۔ یہ محدود طریقۂ کار فکشن کے اس باطنی جوہر کو گرفت میں لینے سے قاصر رہتا ہے جہاں متن اپنی معنویت کو کسی ایک سطح پر مکمل نہیں کرتا، بلکہ مختلف فکری تہوں میں اپنا جواز پیدا کرتا ہے۔
جب ہم عالمی یا مقامی سطح پر فکشن کے بدلتے ہوئے متون کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ تخلیقی شعور کسی جغرافیائی قرنطینہ کا پابند نہیں ہوتا۔ اصل مہم جوئی یہ دیکھنا ہے کہ ایک زیرک فکشن نگار ان آفاقی فکری لہروں کو اپنے تخلیقی شعور کے فلٹر سے گزار کر، اپنی مٹی کے داخلی تضادات اور حسّی حقیقت سے کیسے جوڑتا ہے۔
میں فکشن کو کسی ایک اسلوبی خانے میں محدود کرنے کے بجائے اسے ایک کھلے تخلیقی عمل کے طور پر دیکھنے کا قائل ہوں، جہاں بیانیہ مختلف سطحوں میں معنی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے منٹو، بیدی اور پریم چند کو محض راست بیانیہ افسانہ نگار کہنا یا سریندر پرکاش، بلراج مینرا، بورخیس اور کافکا کو صرف علامتی یا تجریدی خانوں میں محدود کرنا میرے نزدیک متن کی اس داخلی وسعت کو کم کر دینے کے مترادف ہے جس میں انسانی تجربہ اپنی مکمل پیچیدگی کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
گہرائی سے دیکھا جائے، تنقیدی اصطلاحات یا زمروں کا بھی نہیں، بلکہ اس ذہنی سہل پسندی کا ہے جہاں یہ زمرے فہم کا آغاز بننے کے بجائے اختتام بن جاتے ہیں، اورمتن کی پیچیدگی کو محدود لیبل میں سمیٹ کر بحث ہی ختم کر دی جاتی ہے۔ میرا ایمان ابھی بھی علامت و تجرید کی معنوی وسعت پر قائم ہے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں فہمِ مختلف کی دیواروں پر ہتھوڑا اٹھانے نکل پڑوں۔ اور یہی ظرف میں اپنے مخالف سے بھی طلب کرتا ہوں۔ اختلافِ رائے اس فکری زمین کا حسن ہے، بشرطیکہ وہ اختلاف فکشن کی جمالیات اور علمی وقار کے ساتھ آگے بڑھے۔