علاقائی تخلیقی فضا سے ابھرنے والی آوازوں میں بہت سی آوازیں اس شور بھرے عہد میں گم ہو جاتی ہیں، لیکن احمد نعیم ایک ایسا نام ہے جس کی تخلیقی جبلت پر میں آنکھیں بند کر کے بھروسا کر سکتا ہوں۔ احمد محض لکھنے والا نہیں، وہ لفظ کی روح اور اس کے وجود کو چھو کر دیکھنے کا ہنر جانتا ہے۔ میں نے اس کے تخلیقی سفر کو قریب سے دیکھا ہے، اسی لیے شاید یہ جسارت بھی کر سکتا ہوں کہ اس کی تحریروں کے بارے میں وہ بات کہوں جو ہر قاری کی نگاہ میں فوراً نہیں آتی۔
احمد نے جب اپنا افسانہ چوپال میں بیٹھی ہوئی نیند لکھا تو اس نے مجھے چونکایا تھا۔ یہ معاصر اردو افسانے کے مروجہ چلن سے ہٹ کر ایک ایسی تخلیق تھی جو اپنے دیہی، خواب ناک اور حسیاتی مناظر کے ذریعے نسوانی خواہش، جسمانی بیداری اور انسانی جبلت کے نہایت لطیف اور جمالیاتی تجربے کو صورت دیتی ہے۔ اس افسانے میں معنی محض واقعات سے نہیں بنتے، بلکہ رنگوں، آوازوں، خوشبوؤں، اشیاء اور بدن کی داخلی کیفیتوں سے جنم لیتے ہیں۔ شاید اسی لیے مجھے ہمیشہ لگا کہ یہ افسانہ اپنے اندرایک منفرد مادی اورحسیاتی کائنات رکھتا ہے۔ افسوس کہ احمد کے اس افسانے کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کا وہ بجا طور پر حق دار تھا۔
فی الحال احمد نعیم کا رخ نظم کی طرف ہے اور وہاں بھی اس کا سکہ چل رہا ہے۔ وہ ایسی نظمیں لکھتا ہے جو کسی بنے بنائے اسلوب کی محتاج نہیں ہوتیں۔ احمد کی نظم اپنے قالب میں ہی اپنا دستخط بن جاتی ہے۔ اس کی ہیئت، اس کا آہنگ اور اس کا ڈکشن خود گواہی دیتے ہیں کہ یہ احمد نعیم کا لمس ہے۔ وہ نظم میں بھی اپنی انفرادیت کو پوری قوت کے ساتھ قائم رکھے ہوئے ہے۔
سب کچھ ٹھیک ہے۔ نظمیں خوب صورت ہیں، اسلوب دل کش ہےاور آواز بھی منفرد ہے۔ لیکن ایک دوست ہونے کے ناطے میری تخلیقی غیرت اور فکر خاموش نہیں رہ سکتی۔ اب تک شاید ادبی حلقوں میں کسی نے اسے روک کر، اس کا ہاتھ تھام کرمحبت سے یہ سوال نہیں کیا۔ چنانچہ یہ فرض، یہ قرض اور یہ حق میں خود ادا کر رہا ہوں اور احمد سے سرِعام محبت بھرا سوال کرتا ہوں:
بھائی تمہاری نظمیں سر آنکھوں پراور اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ تم ان میں لاجواب ہو... لیکن تمہارے فکشن کا کیا ہوا؟‘‘
احمد! تم ایک غیر معمولی افسانہ نگار ہو۔ تمہارے فکشن میں ابھی ایسے امکانات پوشیدہ ہیں جن کی مکمل دریافت باقی ہے۔ تم نظموں کے دشت میں ضرور گھومو، وہاں بھی تمہاری آواز معتبر ہے، لیکن فکشن سے اپنا رشتہ کمزور مت ہونے دو۔ مجھے اب بھی یقین ہے کہ تمہاری تخلیقی جبلت کے کچھ اہم راز ابھی افسانے ہی کے وسیلے سے سامنے آئیں گےاور چاہے کسی اور کو انتظار ہو یا نہ ہو، مجھے تمہارے فکشن کا انتظار رہے گا۔
