محمد جمیل اختر — اردو افسانہ نگار، مادی علامتیت اور تجریدی فکشن کے نمائندہ، مجموعے "ٹوٹی ہوئی سڑک" اور "ہندسوں میں بٹی زندگی" کے خالق

محمد جمیل اختر کو جب بھی میں نے پڑھا یا اس کے فن پر غور کیا، مجھے ہمیشہ اس بات نے چونکایا کہ وہ اردو افسانے میں علامتی اور تجریدی رویوں کو مابعد الطبیعاتی دھند یا صوفیانہ ابہام کی نذر نہیں ہونے دیتا۔ اس کے افسانوی مجموعے ٹوٹی ہوئی سڑک اور ہندسوں میں بٹی زندگی اس رجحان کی نمایاں مثالیں ہیں۔ لیکن جمیل اختر کے تخلیقی شعور کو دیکھا جائے، تو وہ عصرِ حاضر کا ایک ایسا منفرد فکشن نگار ہے جو علامت کو زمین کی کھردری اور بے رحم مادی حقیقتوں کے ساتھ نتھی کرتا ہے۔
میں نےکہیں کسی ادبی نشست میں محمد جمیل اختر کو فرانز کافکا سے تشبیہ دی تھی، لیکن اس تشبیہ کے درمیان ایک گہرا خط کھینچنا ضروری ہے۔ کافکا کے ہاں جب کوئی کردار کسی کابوس نما لایعنیت کا شکار ہوتا ہے، تو وہ اکثر کسی ماورائی الجھن یا نامعلوم عدالت کے چکر میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جمیل اختر کا کمال یہ ہے کہ اس کی پیدا کردہ خواب جیسی کیفیت میں بھی اس کے کردار سراسر مادی حقیقتوں اور ٹھوس جسمانی وجود کے جبر سے جوجھ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے کرداروں کو اگر خواب بھی آتا ہے تو اس کے پسِ منظر میں جسمانی زوال کی "خر خر" جاری رہتی ہے۔ اس کا علامتی آدمی اگر قید ہوتا ہے تو کسی جادوئی قفس میں نہیں، بلکہ تعفن سے بھری بوتل میں یا ایک ایسے ترک شدہ کنویں میں جہاں اوپر سے پھینکا جانے والا لیس دار گند اور زہریلے کیڑے مکوڑے اسے مسلسل کاٹتے ہیں۔ وہ خواب کو بھی مٹی، گوشت اور کیچڑ کی معروضیت عطا کر دیتا ہے۔
محمد جمیل اختر کا تخلیقی مزاج ان افسانہ نگاروں کی روایت سے مکالمہ کرتا دکھائی دیتا ہے جن میں رشید امجد اورمنشا یاد جیسے معتبر نام شامل ہیں۔ رشید امجد کے ہاں علامت باطنی دھند اور یادوں کی بازگشت سے جنم لیتی ہے، جبکہ منشا یاد کے ہاں وہ معاشرتی بگاڑ اور انسانی شکستگی کا استعارہ بن جاتی ہے۔ جمیل اختر اسی سلسلۂ فکر سے جڑے ہونے کے باوجود ایسی نئی فضا بناتا ہے جہاں استعارہ بھی ہے اور رمزیت بھی، مگر وہ لایعنیت کے آخری سرے پر کھڑے ہو کر بھی اپنے مادی حواس کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اس کے ہاں احتجاج نعرہ نہیں بنتا، بلکہ کنویں کی تہہ میں پانی کے کم ہونے کی مادی حقیقت بن کر ابھرتا ہے۔
جمیل اختر کسی ایک جگہ رک جانے والا افسانہ نگار نہیں ہے۔ جب جمیل سے میری آخری بار بات ہوئی تھی، تو وہ ایک ناول لکھنے میں مصروف تھا۔ افسانے میں اپنی مخصوص فنی دنیا تشکیل دینے کے بعد اگر وہ ناول میں بھی اسی تخلیقی وژن اور وجودی کشمکش کو وسعت دے سکا تو اردو فکشن کو ایک منفرد ناول نگار میسر آ سکتا ہے۔