سید تحسین گیلانی —  مدیر، مائیکروفکشن نگار اور علامتی افسانہ نگار
 جب کسی تخلیق کار کے تخلیقی اور فکری ابعاد متعدد ہوں تو اس کے وجود کے گرد ایک خاص تاثر خودبخود تشکیل پانے لگتا ہے۔ جو محض اس کی تخلیقات تک محدود نہیں رہتااور یہ کوئی شعوری ملمع کاری نہیں ہوتی بلکہ برسوں کے مسلسل تخلیقی عمل، فکری وابستگی اور ادبی سرگرمیوں کا فطری نتیجہ ہوتی ہے۔ مدیر کی حیثیت سے کام کرنا، پاکستان میں مائیکروفکشن کے فروغ کے لیے مستقل جدوجہد کرنا، افسانے، خاص طور پر علامتی افسانے کی گہرائیوں میں اترنا اور اسی سفر کے دوران شاعری، تنقید اور انشائیے میں بھی اپنی موجودگی ثبت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سید تحسین گیلانی کا تخلیقی دائرہ ایک سمت تک محدود نہیں۔

تحسین بھائی۔ جی ہاں، میں اس نام کے ساتھ ’’صاحب‘‘ کا لاحقہ نہیں لگاؤں گا۔ میری زندگی میں چند ایسے لوگ ضرور ہیں جن کے لیے یہ رسمی لفظ ایک غیر ضروری فاصلہ پیدا کر دیتا ہے۔ سید تحسین گیلانی ان ہی لوگوں میں شامل ہیں۔ جب ہم اس تخلیقی دشت میں قدم رکھ رہے تھے تو وہ ان مسافروں میں تھے جو ہم سے ایک پڑاؤ آگے چل رہے تھے۔ اس نسبت نے ان کی شخصیت کو میرے لیے محض ایک ادبی نام نہیں رہنے دیا بلکہ ایک ایسے رفیقِ سفر کی صورت دے دی جس کی موجودگی مسلسل محسوس ہوتی رہی۔

ایسا انسان روز روز پیدا نہیں ہوتا۔ ایک ایسا وجود جس کے ساتھ آپ شدید ترین فکری اختلاف تو رکھ سکتے ہیں، لیکن اسے نظر انداز کرنے کی جرأت کسی مقتدرہ یا نقاد میں نہیں ہوتی۔ وہ مصلحتوں اور سمجھوتوں کے اس دور میں اپنے پورے قد و قامت اور اپنے کام کے ٹھوس ثبوت کے ساتھ کھڑا ہے۔ شاید سید تحسین گیلانی کی سب سے اہم خصوصیت یہی ہے کہ انہیں کسی ایک خانے میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ مدیر، مائیکروفکشن کے بانی، شاعر، نقاد یا انشائیہ نگار؛ یہ سب شناختیں اپنی جگہ درست ہیں، مگر ان میں سے کوئی ایک بھی اس تخلیقی شخصیت کی مکمل تعریف نہیں کرتی۔ تخلیقیقت کی اصل قوت اسی تنوع میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحسین بھائی کے بارے میں گفتگو محض ان کی تحریروں تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کی ادبی جدوجہد، ان کے اثرات اور ان کے ساتھ وابستہ لوگوں کی یادوں تک پھیل جاتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی کتابوں سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ اپنی سرگرمیوں سے، مگر چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پوری زندگی ایک ادبی روایت کا حصہ بن جاتی ہے۔ تحسین بھائی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔