جناب
فیصل سعید ضرغام کو میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جانتا ہوں۔ اس دوران
میں نے اُن کے اندر کئی فکری و فلسفیانہ تناظر کو جنم لیتے، ایک دوسرے سے
دست و گریباں ہوتے اور پھر ایک نئی صورت میں سامنے آتے دیکھا ہے۔ کبھی وہ
مذہبی روایت کی طرف جھکتے دکھائی دیے، کبھی اساطیر کی طرف، کبھی تمثیل اور
علامت کی طرف اور کبھی وجودی سوالات کی جانب۔ لیکن اس پورے عرصے میں ایک
بات مسلسل میرے ذہن میں موجود رہی کہ فیصل سعید ضرغام ؔکے فکشن کا اصل
مسئلہ نہ مذہب ہے، نہ اساطیر، نہ فلسفہ اور نہ ہی محض سماج۔ اصل مسئلہ
انسان ہے۔
شاید اسی لیے مجھے ہمیشہ
یہ محسوس ہوا کہ فیصل سعید ضرغام کے ہاں استعارہ منزل نہیں بلکہ راستہ ہے۔
وہ اساطیر، مذہبی روایت اور علامت سے سفر شروع کرتے ہیں، مگر ان کا تخلیقی
اضطراب بالآخر انسان کے گرد آ کر ٹھہر جاتا ہے۔ اکثر لکھنے والے انسان سے
استعارے یا علامت کی طرف سفر کرتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ وہ
استعارے، علامت، اساطیر اور مذہبی روایت سے آغاز کرتے ہیں اور پھر انہیں
واپس انسانی تجربے میں تحلیل کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاں سیسیفس یونانی اساطیر
کا کردار کم اور روزمرہ زندگی کا انسان زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ مسیح گرجا گھر
کی سیڑھیوں پر بیٹھا دکھائی دیتا ہے، راوی ایک نئی دنیا میں آنکھ کھولتا
ہے اور فرشتے انسانی تاریخ کے زوال پر گواہی دیتے نظر آتے ہیں، کہیں انسانی
مشقت پر قہقہے لگاتا ہوا زیوس ہے، مگر یہ سب اپنے روایتی معنوں کے ساتھ
موجود نہیں ہوتے۔ یہ تمام استعارے اور علامات، انسانی دکھ، انسانی بے بسی،
انسانی محبت اور انسانی وقار کو سمجھنے کے وسیلے بن جاتے ہیں۔
مجھے
اکثر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ فیصل بھائی کے افسانوں میں موجود بندر،
مچھیرا، مزدور موتی رام، گھڑیوں میں پھنسا ہوا کلرک، سیسیفس، جیمز یا
کلائمکس کا راوی دراصل الگ الگ کردار نہیں ہیں۔ یہ سب ایک ہی تخلیقی سوال
کی مختلف صورتیں ہیں۔ ایک ایسا سوال جو بار بار مختلف لباس پہن کر سامنے
آتا ہے۔ انسان آخر اپنی زندگی کو کس طرح معنی دیتا ہے جبکہ اس کے گرد طاقت،
جبر، عقیدہ، تاریخ، وقت اور معاشرتی ڈھانچے مسلسل سرگرم ہوں؟
فیصل
سعید کے فکشن کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ اِن کے ہاں علامت کبھی
مجرد نہیں ہوتی۔ ان کے افسانوں میں رسی، ڈگڈگی، جال، پتھر، گھڑی،
کیلکیولیٹر، چیک، دستانے اور اسٹریٹ لیمپ جیسی اشیا محض علامتی آرائش نہیں
بنتیں۔ وہ اپنے پورے مادی وجود کے ساتھ کہانی میں داخل ہوتی ہیں۔ شاید اسی
لیے اِن افسانوں کو پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ وہ تجرید کے
باوجود زمین سے اپنا رشتہ قائم رکھتے ہیں۔ ان افسانوں کے کردار اگر خواب
دیکھتے ہیں تو ان کے قدم پھر بھی مٹی پر کھڑے رہتے ہیں۔ نوحہ گر، معاوضہ
اور چتکبرے جیسے افسانوں میں یہ رجحان اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ یہاں
فیصل بھائی کا دھیان کسی نظریے یا نعرے پر نہیں بلکہ اس انسان پر مرکوز
رہتا ہے جو بڑے نظاموں کے نیچے پس رہا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس
انسان کو محض مظلوم بنا کر پیش نہیں کرتے۔ ان کے کرداروں میں ایک عجیب سی
ضد اور وقار موجود رہتا ہے۔ وہ شکست کھا سکتے ہیں، استعمال ہو سکتے ہیں،
نظر انداز کیے جا سکتے ہیں، لیکن مکمل طور پر مٹتے نہیں۔
اسی
لیے میں فیصل سعید ضرغام کے فکشن کو محض علامتی یا تمثیلی افسانے کے خانے
میں رکھنے سے ہچکچاتا ہوں۔ میرے نزدیک ان افسانوں کی اصل قوت ان کے علامتوں
اور استعاروں میں نہیں بلکہ ان کرداروں میں ہے جو ان علامتوں اور استعاروں
کے اندر سانس لیتے ہیں۔ وہ بار بار مختلف اساطیری، مذہبی اور تخیلی سانچوں
کو استعمال کرتے ہیں، مگر ان کی دلچسپی ان سانچوں میں نہیں بلکہ ان کے
اندر دھڑکتے ہوئے انسان میں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ افسانے پڑھنے کے بعد
میرے ذہن میں سیسیفس، مسیح، بندر یا ہمالہ زیادہ دیر تک نہیں رہتے۔ میرے
ساتھ جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ انسان ہے۔ وہ کبھی گرجا گھر کی سیڑھیوں پر
بیٹھا اپنے اختتام کا منتظر ہے، کبھی سمندر میں جال پھینک رہا ہے، کبھی وقت
کے تعاقب میں پاگل ہو رہا ہے اور کبھی مرنے کے بعد یہ دیکھ رہا ہے کہ اس
کی قیمت آخر کتنی لگائی گئی۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مجھے فیصل سعید
ضرغام کا فکشن سب سے زیادہ دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔ وہ اساطیر، تمثیل اور
علامت کے وسیلے سے سفر شروع کرتے ہیں، لیکن آخرکار واپس انسان تک پہنچ جاتے
ہیں۔
