ادبی تاریخ امکانات نہیں، دستاویزات یاد رکھتی ہے۔ اگر تخلیقی زندگی کا پیمانہ واقعی کتاب ہے تو مونتاژ جیسی کتاب کی موجودگی میں فارحہ ارشد کی ناقدری کا جواز تلاش کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ سنہ ۲۰۲۲ میں مونتاژ کی اشاعت اردو افسانے کی دنیا میں میرے نزدیک قابلِ قدر کتاب کا اضافہ تھا۔ میں ان تین افسانوں کا ذکر خاص طور پر کروں گا۔ زمین زادہ، حویلی مہرداد کی ملکہ اورآرکی ٹائپل کڈھب کردار۔ جہاں فکشنی کردارایسے پختہ، مستحکم اور فکری طور پر مربوط تخلیقی بیانیے کی صورت سامنے آتے ہیں جو عصرِ حاضر کے انتشار اور انسانی صورتِ حال کو سمجھنے کی قابلِ ذکر صلاحیت رکھتا ہے۔
میرے نزدیک فارحہ ارشد کی اصل کامیابی اور ان کا تخلیقی وصف افسانوں میں موجود علامتی نظام اور اسلوب کی وہ غیر مرئی قوت ہے، جہاں زبان محض آرائش یا کلامیہ کا مکھوٹا نہیں بنتی، بلکہ خود ایک وجود بن کر قاری کو جھنجھوڑتی ہے۔ زمین زادہ میں کافوراور کبوتروں کی خوشبو کا حسیاتی تصادم ہو، حویلی مہرداد کی ملکہ میں گاوں کی سماجیات میں شملے کو پامال کرتی نسوانی جبلت کی کھلکھلاہٹ ہو یا پھر آرکی ٹائپل کڈھب کردار میں قبر کا ہاتھ تھامے کائناتی جبر کے بلیک ہول کا سفرہو۔فارحہ کا قلم مادی حقیقت نگاری کو اس مہارت سے برتتا ہے کہ کہانی اپنے مادی وجود سے بلند ہو آفاقی استعارہ بن جاتی ہے۔ میرے نزدیک فارحہ سستی جذباتیت یا اکیڈمک لفاظی کا سہارا لیے بغیر، اپنے بیانیے کو خود دلالت (Self-evident) کی اس منزل پر لے آتی ہیں جہاں افسانے کا ہر کردار اپنے عہد کا انکار بن جاتا ہے۔ یہ اردو فکشن میں عصری و تخلیقی دانش اور معاصر شعور کا موثر اور قابلِ تحسین امتزاج ہے۔
مونتاژ طویل تخلیقی سفر کی کتابی صورت میں لانے کی کوشش تھی۔ اگر کتاب واقعی تخلیقی وجود کی واحد دستاویز ہوتی تو میرے نزدیک اسے اس دہائی میں شائع ہونے والی نمایاں اور قابلِ توجہ فکشن کی کتابوں میں شمار کیا جاتا۔ لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔ ممکن ہے وہ خود بھی اس رویے سے نالاں ہوں، یہ بھی ممکن ہے مصروف ہوں، لیکن میں نے کافی عرصے سے ان کا کوئی نیا افسانہ نہیں پڑھا۔
