حفیظ تبسم: افسانہ، تنقید اور تخلیقی بصیرت کا امتزاج
حفیظ تبسمؔ کے بارے میں میرا تاثر ابتدا ہی سے یہ رہا ہے کہ اس کے اندر ایک زیرک فکشن نگار اور ایک صاحبِ بصیرت نقاد بیک وقت موجود ہیں۔ یہ وصف میں نے کم لوگوں میں دیکھا ہے۔ عموماً اچھا فکشن نگار تنقید کے میدان میں آتے ہی اپنی تخلیقی آزادی کھو بیٹھتا ہے اور اچھا نقاد جب افسانہ لکھنے بیٹھتا ہے تو اپنے نظریات کا اسیر ہو جاتا ہے۔ حفیظ کے ہاں معاملہ مختلف ہے۔
موت کی حمایت میں پڑھنے کے بعد میرا یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے اور میرا یہ اعتماد وقت کے ساتھ مزید پختہ۔
اگر آپ حفیظ تبسمؔ کے افسانوں کو کسی مخصوص نظریاتی فریم، ادبی دبستان یا تنقیدی خانے میں مقید کرکے پڑھنے کی کوشش کریں گے تو ناکام رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ حفیظ کے افسانوں میں فکر موجود نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ہاں فکر کہانی پر سوار نہیں ہوتی۔ حفیظ کے لیے تکنیک بھی بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ تکنیک سے واقف ہے، علامت کو بھی جانتا ہے، تجرید کے امکانات سے بھی آگاہ ہے، لیکن اس کی لکھت کا بنیادی وصف ’’کہانی‘‘ ہے۔ وہ جہاں سے بھی آغاز کرے، آخرکار اپنے قاری کو ایک کہانی ہی سناتا ہے۔
سووروں کی حمایت میں اس کی ایک مثال ہے۔ اس سے قطعِ نظر کہ اسے علامتی افسانہ قرار دیا جائے یا کسی اور خانے میں رکھا جائے، وہاں ایک داخلی بیانیہ منطق موجود ہے جو افسانے کو محض ایک استعارے یا فکری قضیے میں تحلیل نہیں ہونے دیتی اور کہانی اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
حفیظ شاعر بھی ہے۔ شاید اسی لیے مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا ہے کہ اس کی تخلیقی شخصیت کے بعض امکانات ابھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوئے۔ میری رائے میں جب کبھی وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ تجرید یا علامت کی اقلیم میں داخل ہوگا تو کمال ہی کردے گا۔یہ محض تحسین نہیں، ایک پیش گوئی ہےاور میری گزارش ہے کہ اس پیش گوئی کو یاد رکھیے۔
